پاکستان ایران سے خام تیل ایل پی جی درآمد کر سکتا
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی) ایران کے صدر کا دورہ پاکستان ایک غیر معمولی دورہ ہے ۔ پاکستان نے امریکا ایران کشیدگی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا، پہلا سیز فائر پاکستان کے کہنے پر ہوا، پھر اس کے بعد اس سیز فائر میں توسیع کی گئی۔
اسلام آباد ٹاکس کے تحت اس میں ایکسٹینشن ہوئی پھر ثالثی اور اسلام آباد ٹاکس کی میز بھی اسلام آباد میں سجی جس میں ایرانی اور امریکی حکام سالوں بعد آمنے سامنے بات چیت کے لیے بیٹھے ۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اس سے پہلے اگست 2025 میں پاکستان آئے تھے ۔ ایرانی صدر جس وقت پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، اسی وقت ایران کا ایک وفد عمان کے دورے پر گزشتہ رات روانہ ہوا ہے جس میں آبنائے ہرمز کے مستقبل سے متعلق بات چیت ہوگی۔ اس طرح ایرانی صدر کے دورے میں یہ باتیں یہاں پر زیرِ بحث لائی جائیں گی۔ اس کے علاوہ اس دورے کو معاشی طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
ایران کو ساٹھ دنوں کے لیے اجازت ملی ہے کہ جب تک یہ ٹیکنیکل ٹاکس جاری ہیں وہ پٹرولیم مصنوعات کی ایکسپورٹ کر سکتا ہے ۔ پاکستان بھی ایران سے اس مدت کے دوران خام تیل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات درآمد کر سکتا ہے لیکن تیل سے زیادہ پاکستان ایل پی جی ایران سے درآمد کر سکتا ہے جس سے وہ اپنی ضروریات پوری کر سکتا ہے ۔ پاکستان اور ایران نے گزشتہ سال اس بات پر بھی اتفاق کیا تھا کہ دونوں ممالک اپنی تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھائیں گے ۔ مجموعی طور پر اس دورے کو سٹریٹجک اور معاشی دونوں حوالوں سے دیکھا جا رہا ہے۔