آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت تیز،تیل کی عالمی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس

آبنائے  ہرمز میں  بحری  جہازوں کی آمدورفت تیز،تیل کی عالمی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس

برینٹ کروڈ جنگ کے بعد پہلی بار 75 ڈالر فی بیرل سے نیچے ، ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 70 ڈالر سے بھی گر گیا ،24گھنٹوں میں 2کروڑ بیرل تیل کی سپلائی مستقبل میں ایران کے پاس آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی صلاحیت نہیں ہوگی،اس کی عسکری قوت کمزور ہو چکی:امریکی وزیر توانائی ،ڈالر سات ماہ کی بلند ترین سطح پر

لندن (اے ایف پی، رائٹرز )آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت میں تیزی آنے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی واقع ہوئی ہے ، جس کے بعد برینٹ کروڈ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار 75 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگیا۔امریکی بینچ مارک ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ(ڈبلیو ٹی آئی )بھی گر کر 70 ڈالر سے نیچے آگیا، جو فروری کے آخر میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار ہوا ہے ۔ اس طرح تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب واپس آ گئی ہیں۔تاہم، سرمایہ کار خلیج کی اس اہم آبنائے سے گزرنے کے لیے مستقبل میں ایران کی جانب سے عائد کی جانے والی ممکنہ فیسوں کے حوالے سے تاحال غیر یقینی کا شکار ہیں اور تیل کی طلب مضبوط رہنےکا امکان ہے کیونکہ مختلف ممالک اپنے ان سٹریٹجک ذخائر کو دوبارہ بحال کر رہے ہیں جو اس بحران کے دوران استعمال کیے گئے تھے ۔

دوسری جانب امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز سے خام تیل کی سپلائی ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ چکی ہے ۔نیویارک میں گلوبل انرجی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز سے تقریباً 20 ملین (2 کروڑ) بیرل خام تیل گزرا ہے ، جو دنیا بھر کی روزانہ کی کھپت کا تقریباً پانچواں (20 فیصد ) حصہ ہے ۔ یہ بحالی امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے رواں ماہ ہونے والے ابتدائی معاہدے کے بعد ممکن ہوئی ہے ۔ تیل بردار جہازوں کو فوجی حفاظتی دستوں کی نگرانی میں گزارا جا رہا ہے ۔ وزیر توانائی نے دعویٰ کیا کہ مستقبل میں ایران کے پاس آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی صلاحیت نہیں ہوگی کیونکہ اس کی عسکری قوت کمزور ہو چکی ہے ، جس سے اس کا سب سے بڑا تزویراتی دباؤ (leverage) ختم ہو گیا ہے ۔ بارودی سرنگوں کے خطرے کے باعث بحری جہاز مرکزی راستے کے بجائے ایرانی ساحل یا عمان کے قریبی جنوبی راستوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ رائٹ کا کہنا ہے کہ راستوں کو بارودی سرنگوں سے مکمل پاک کرنے اور جہاز رانی کو 100 فیصد معمول پر لانے میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں آن لائن ٹریڈنگ پلیٹ فارم 'آئی جی' کے چیف مارکیٹ اینالسٹ کرس بیوچیمپ کا کہنا ہے کہ "خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے ۔ یہ دنیا بھر کے صارفین کے لیے ایک بڑی راحت ہے ، بشرطیکہ تیل کی صنعت مہینوں کے تعطل سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کے لیے تیزی سے کام کر سکے " ۔ایشیا اور یورپ کی بیشتر ایکویٹی مارکیٹوں میں تیزی کے بعد، وال سٹریٹ میں بھی صبح کے آخری لمحات کی ٹریڈنگ کے دوران تیزی دیکھی گئی۔ویلتھ کلب کی چیف انویسٹمنٹ سٹریٹجسٹ سوزانا سٹریٹر کا کہنا ہے کہ "عالمی سطح پر ٹیک شیئرز کی فروخت کا دباؤ اب مستحکم ہونا شروع ہو گیا ہے ، لیکن سرمایہ کار اب بھی انتہائی محتاط اور نروس ہیں کہ کہیں کمپنیوں کی اونچی قیمتیں دوبارہ کم نہ ہو جائیں" ۔ ٹک مل گروپ کے مارکیٹ سٹریٹجسٹ پیٹرک منلی کا کہنا ہے کہ "سٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے دوران سرمایہ کاروں کی محفوظ پناہ گاہ تلاش کرنے کی کوشش کی وجہ سے ڈالر سات ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے "۔تاہم، امریکا میں شرحِ سود میں اضافے کے امکانات نے سونے کی محفوظ سرمایہ کاری کی حیثیت کو متاثر کیا، جس کی قیمت نومبر کے بعد پہلی بار 4ہزار ڈالر سے نیچے آگئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں