لاہور ہائیکورٹ :زیادتی کے جرم میں عمر قید کی سزا پانیوالا ملزم بری

لاہور ہائیکورٹ :زیادتی کے جرم میں عمر قید کی سزا پانیوالا ملزم بری

زیادتی ثابت نہ ہو تو مقدمہ ناجائز جنسی تعلقات میں بدلا نہیں جا سکتا:جسٹس امجد صرف ڈی این اے رپورٹ کی بنیاد پر سزا بھی نہیں دی جا سکتی :ملزم کی اپیل پر فیصلہ

لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ نے زیادتی کے جرم میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم کوبری کردیا ۔جسٹس امجد رفیق نے زیادتی و جنسی تعلقات کے مقدمات میں اہم قانونی اصول وضح کرتے ہوئے قرار دیاکہ اگر ایف آئی آر میں ریپ کی دفعات درج ہیں تو سزا بھی انہی دفعات کے تحت جرم ثابت ہونے کی صورت میں دی جا سکتی ہے ، یہ قانونی طور پر ممکن نہیں کہ ریپ ثابت نہ ہونے پر مقدمے کو ناجائز جنسی تعلقات میں تبدیل کرکے سزا برقرار رکھی جائے ۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے ملزم غلام فرید کی اپیل منظور کرتے ہوئے 14 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیاکہ کہ اگر استغاثہ زیادتی کا جرم ثابت کرنے میں ناکام رہے تو عدالت مقدمے کو کسی دوسرے جنسی جرم میں تبدیل کرکے سزا برقرار نہیں رکھ سکتی اور صرف ڈی این اے رپورٹ کی بنیاد پر سزا بھی نہیں دی جا سکتی بلکہ مضبوط اور قابل اعتماد شواہد ضروری ہوتے ہیں ۔ زیادتی اور ناجائز جنسی تعلقات الگ الگ جرائم ہیں، لہٰذا ریپ کے مقدمے کو بعد ازاں ناجائز تعلقات کے مقدمے میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم کے خلاف 2010 میں ضلع مظفر گڑھ میں زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جبکہ 2021 میں ٹرائل کورٹ نے اسے 25 سال قید کی سزا سنائی ۔ ملزم کے وکیل کا مؤقف تھا کہ دونوں نے باہمی رضامندی سے نکاح کیا، زیادتی کا الزام درست نہیں۔ دوسری جانب پراسیکیوشن نے مؤقف اختیار کیا کہ فیملی کورٹ اس نکاح کو پہلے ہی کالعدم قرار دے چکی ۔ جسٹس امجد رفیق نے قرار دیا کہ اگر نکاح کالعدم بھی قرار دے دیا جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر جنسی تعلق لازماً ریپ ہوگا، ایسے حالات میں عدالت کو دستیاب شواہد کی بنیاد پر طے کرنا ہوگا کہ تعلق رضامندی سے تھا یا نہیں۔ عدالت نے پراسیکیوشن کی یہ استدعا بھی مسترد کر دی کہ اگر زیادتی ثابت نہیں ہوتی تو ناجائز جنسی تعلقات کی بنیاد پر سزا برقرار رکھی جائے ،موجودہ مقدمہ صرف زیادتی کی دفعات کے تحت درج ہوا تھا اس لیے اسے کسی دوسرے جرم میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کی دی گئی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم غلام فرید کی فوری رہائی کا حکم دے دیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں