چلاس میں کلاؤڈ برسٹ ، وادی تھور کے مکانات، فصلیں، رابطہ پل بہہ گئے

چلاس میں کلاؤڈ برسٹ ، وادی تھور کے مکانات، فصلیں، رابطہ پل بہہ گئے

اسلام آباد پشاور (دنیا نیوز ،مانیٹرنگ ڈیسک )محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان میں مون سون کا باقاعدہ آغاز یکم جولائی سے متوقع ہے جس کے تحت ملک کے شمال مشرقی علاقوں، پنجاب اور کشمیر میں بارشوں کا امکان ہے۔

ادھر این ڈی ایم اے نے پہاڑی اوربالائی علاقوں میں ممکنہ لینڈ سلائیڈ کا الرٹ جاری کردیا ۔این ڈی ایم اے کے مطابق آج 27جون سے 3 جولائی کے دوران وقفے وقفے سے متوقع بارشوں اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ ، چٹانیں سرکنے اور ملبہ بہنے کے واقعات کا خدشہ ہے ، شہریوں کو خصوصی احتیاط برتنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق  آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشترعلاقوں میں موسم گرم اور خشک جبکہ میدانی علاقوں میں شدید گرم رہنے اور کشمیر اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پر بارش کا امکان ہے ۔ ادھر چلاس میں کلاؤڈ برسٹ سے وادی تھور میں مکانات، فصلیں، رابطہ پل سیلاب میں بہہ گئے جبکہ روڈ بلاک ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں اور ریلیف آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے اور مختلف علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

چلاس پولیس نے بتایا کہ کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں آنے والے سیلاب میں لوگوں کے مکانات، باغات، فصلیں، رابطہ پل اور گاڑیاں بہہ گئیں، واپڈا کالونی اور روڈ کو شدید نقصان پہنچا۔ اے ڈی ڈیزاسٹرمینجمنٹ دیامر امتیاز احمد نے بتایا کہ چلاس کی سیلاب سے متاثرہ ویلی میں ریلیف آپریشن اور روڈ کھلوانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ دریں اثنا پی ڈی ایم اے نے خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے ۔ اپر و لوئر چترال، سوات، اپر دیر، کوہستان اور مانسہرہ کی ضلعی انتظامیہ کو پیشگی حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں اور حساس گلیشیائی علاقوں میں متعلقہ حکام کو ہائی الرٹ رہنے اور صورتحال کی مسلسل نگرانی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ حکام نے سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور دریا، ندی نالوں اور گلیشیائی علاقوں کے قریب جانے سے احتراز کرنے کا مشورہ دیا اور عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ بارشوں کے دوران برساتی ندی نالوں اور تیز بہاؤ والے پانی سے دور رہیں ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں