پنجاب اسمبلی :بجٹ منظور،اپوزیشن کا بائیکاٹ،نعرے بازی
حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں تلخ کلامی،شور شرابہ،ایوان’’مچھلی منڈی‘‘بنا رہا حکومت ناکام ہوچکی:ندیم قریشی،وزیر اعلیٰ اورکابینہ ارکان جاگ رہے :مریم اورنگزیب
لاہور (سیاسی نمائندہ،مانیٹرنگ ڈیسک ) پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان سخت جملوں کے تبادلے ،شورشرابہ ،متعدد بار ایوان کا ماحول انتہائی کشیدہ رہا، اپوزیشن نے کورم کی نشاندہی کی، بعد ازاں احتجاجاً واک آؤٹ بھی کیا، تاہم ایوان نے 445 ارب روپے سے زائد مالیت کے 131 مطالباتِ زر اور فنانس بل کی منظوری دیکر مالی سال 2026-27 کا صوبائی بجٹ منظور کر لیا۔ ایجنڈا مکمل ہونے پر ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ نے اجلاس آج اتوار صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا۔تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے آغاز میں حکومتی رکن امجد علی جاوید نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مریضوں کے تشخیصی ٹیسٹ بند ہونے کا معاملہ ایوان میں اٹھاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دس روز سے ضروری تشخیصی ٹیسٹ نہیں ہو رہے ، جس کی وجہ سے پنجاب بھر سے آنے والے غریب مریض شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے مسئلہ فوری حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ،جبکہ وزیر پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمن نے اعتراف کیا کہ بعض ضروری ٹیسٹ مشینیں خراب ہونے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔اپوزیشن کی جانب سے ندیم قریشی نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ، مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا، ماحولیاتی قوانین صرف ریڑھی بانوں اور چھوٹے دکانداروں پر نافذ کیے جا رہے ہیں جبکہ عوام غربت اور معاشی مشکلات کے باعث خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ حافظ فرحت عباس نے ستھرا پنجاب منصوبے ، بسوں کی خریداری اور فیصل آباد میں مبینہ کرپشن کے معاملات اٹھائے اور کہا کہ اس حوالے سے بڑا سکینڈل سامنے آئے گا۔ وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری نے اظہارِ خیال کرتے کہا کہ موجودہ حکومت نے ہمیشہ پارلیمانی روایات، برداشت اور جمہوری اقدار کا احترام کیا ۔
آج حکومت اپوزیشن کو مکمل تحمل کے ساتھ سن رہی ہے ، سپیکر کی کرسی کا احترام ایوان کی روایت اور قواعد کا تقاضا ہے ، اس لیے چیئر کے کنڈکٹ کو چیلنج کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ پوائنٹ سکورنگ اور مذہبی ٹچ کے ذریعے سیاست کرنے کے بجائے اگر اپوزیشن ایک بھی ڈھنگ کا عوامی کام کر لیتی تو آج اس کی بھی بات ہوتی۔سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بجٹ اور مختلف محکموں کی گرانٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قانون کی پاسداری پر یقین رکھتی ہے ، حکومت کی 490 نہیں بلکہ 437 ترقیاتی سکیمیں ہیں جن میں سے 340 سے زائد منظور ہو چکی ہیں،پی ٹی آئی کے دور میں سموگ بدترین سطح پر تھی جبکہ موجودہ حکومت نے بارہ ماہ مسلسل کام کر کے سکول بند کئے بغیر صورتحال بہتر بنائی۔ ،بلین ٹری سونامی سے بڑا فراڈ پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہوا،پنجاب میں وزیر اعلیٰ جاگ رہی ہیں، وزیر بھی جاگ رہے ہیں ، ہمارے پاس معائنے کیلئے کوئی بھوت نہیں بلکہ فیلڈ میں مریم نواز کی حکومت خود جا کر کام کر رہی ہے ، جنات کی ضرورت نہیں۔
مریم اورنگزیب کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان مسلسل نعرے بازی کرتے رہے جس پر حکومتی ارکان بھی جواب دیتے رہے ۔ ایوان کئی مرتبہ مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا، معاون خصوصی ذیشان ملک اور وزیر تعلیم رانا سکندر حیات گھڑیاں لہراتے رہے جبکہ دونوں جانب سے شدید نعرے بازی ہوتی رہی ،شدید ہنگامہ آرائی کے بعد وزیر پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمن نے ڈپٹی سپیکر سے مطالبہ کیا کہ جن ارکان نے کسی بھی سیاسی قیادت کے خلاف نعرے بازی اور غیر پارلیمانی گفتگو کی انہیں فوری معطل کیا جائے ،اس دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان سپیکر ڈائس کے سامنے آ گئے ، تاہم سینئر ارکان نے حالات کو قابو میں لانے کی کوشش کی۔بعد ازاں اپوزیشن رکن قاضی احمد اکبر نے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کے اساتذہ سے متعلق بیان پر اعتراض اٹھایا۔ اپوزیشن کی جانب سے بریگیڈیئر (ر)مشتاق احمد کو بولنے کی اجازت نہ ملنے پر کورم کی نشاندہی کی گئی اور اپوزیشن ارکان احتجاجاً ایوان سے باہر چلے گئے ، تاہم گنتی مکمل ہونے پر کورم پورا نکلا اور کارروائی دوبارہ شروع کر دی گئی،اپوزیشن نے بجٹ گرانٹس کی منظوری کے عمل کا بائیکاٹ کرتے ہوئے واک آؤٹ کر دیا تاہم حکومت نے کارروائی جاری رکھتے ہوئے 131 مطالباتِ زر اور فنانس بل کی منظوری دے کر مالی سال 2026-27 کا صوبائی بجٹ منظور کر لیا۔ اجلاس آج اتوار صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا ۔