آج سے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ لازمی، فرد بیع کا اجرا بند
جائیداد کی خرید و فروخت سروئیر رپورٹ سے مشروط،15روزہ نوٹس بھی لازم ڈیجیٹلائز نہ ہونیوالے موضعات میں آئندہ 2ماہ تک فرد بیع جاری کی جاتی رہے گی
لاہور (عمران اکبر)پنجاب حکومت نے جائیداد کی خرید و فروخت کے نظام میں بنیادی اصلاحات کرتے ہوئے آج (یکم جولائی )سے صوبہ بھر میں گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے اجرا کا نظام نافذ کردیاہے ، اس کے ساتھ ہی فردِ برائے بیع اور روایتی دستاویزات کے اجرا پر پابندی عائد کر دی گئی ہے تاہم ملکیتی فرد برائے ریکارڈ بدستور جاری کی جاتی رہے گی۔ذرائع کے مطابق یکم جولائی سے زمین و جائیداد کے ہر قسم کے لین دین کیلئے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا، اس مقصد کیلئے پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (پلرا)نے تمام تحصیلوں میں ریکارڈ کی جانچ پڑتال کیلئے سروئیرز تعینات کر دئیے ہیں جبکہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اختیار بھی انہی سروئیرز کو دے دیا گیا ہے ۔حکام کے مطابق ہر تحصیل میں پانچ سروئیر تعینات کئے گئے ہیں جبکہ لاہور کی دس تحصیلوں کے لیے مجموعی طور پر 50 سروئیرز خدمات انجام دیں گے ۔ نئے نظام کے تحت جائیداد کی خرید و فروخت سے قبل سروئیر کی رپورٹ لازمی ہوگی۔
رپورٹ مکمل ہونے کے بعد آن لائن 15 روزہ اعتراضی نوٹس جاری کیا جائے گا۔ مقررہ مدت کے دوران کوئی اعتراض سامنے نہ آنے کی صورت میں گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا، جس کے بعد جائیداد کا انتقال یا خرید و فروخت ممکن ہوگی۔پلرا حکام کا کہنا ہے کہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے ذریعے جائیداد کی ملکیت، حدود اور قبضے کی مؤثر تصدیق یقینی بنائی جائے گی، جس سے جعلی دستاویزات، دوہری فروخت، قبضہ مافیا اور دیگر فراڈ کی روک تھام میں مدد ملے گی اور لین دین کا عمل مزید شفاف ہو سکے گا۔گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے اجرا کی فیس 950 روپے مقرر کی گئی ہے ۔ چیئرمین پلرا کے مطابق جن موضع جات کا ریکارڈ تاحال ڈیجیٹلائز نہیں ہو سکا، وہاں آئندہ دو ماہ تک فردِ برائے بیع جاری کی جاتی رہے گی جبکہ بعض موضع جات کو اگست تک ڈیجیٹلائز کرنے کی مہلت دی گئی ہے ۔ شہری متعلقہ اراضی ریکارڈ سنٹرز سے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے۔