ٹیکسوں میں اضافہ ، آج سے نافذ ہدف 410 ارب روپے بڑھا دیا گیا

 ٹیکسوں میں اضافہ ، آج سے نافذ ہدف 410 ارب روپے بڑھا دیا گیا

زرعی انکم ٹیکس پر سلیب سسٹم ختم ، آبیانہ اور زرعی انکم ٹیکس میں اضافہ ،گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی پراپرٹی ٹیکس میں 25 فیصد اضافہ،سیلز ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانوں میں نمایاں اضافے کی تجویز منظور

 لاہور(محمد حسن رضا سے )پنجاب میں گزشتہ سال کی نسبت ٹیکس ہدف میں 410 ارب روپے اضافہ کردیا گیا،متعدد ٹیکسوں میں اضافہ ،آج سے نافذ کردئیے گئے ہیں ، رواں مالی سال 2026-27 کے دوران ہدف میں 410ارب روپے کا اضافہ کیا گیا،زرعی انکم ٹیکس پر سلیب سسٹم ختم کرکے زرعی انکم ٹیکس، آبیانہ میں اضافہ کردیا گیا،گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی،ایونٹ مینجمنٹ سروسز پر ان پٹ ٹیکس کے بغیر  8 فیصد ٹیکس عائد کردیا گیا، پراپرٹی ٹیکس میں 25 فیصد اضافہ،سیلز ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانوں میں نمایاں اضافے کی تجویز منظورکر لی گئی ہے ، ریسٹورنٹس میں ڈیجیٹل ادائیگی پر سیلز ٹیکس 8 فیصد جبکہ نقد ادائیگی پر 16 فیصد تجویزمنظورکی گئی ہے ، آئی ٹی، ٹرانسپورٹ اور پروفیشنل سروسز پر سیلز ٹیکس 5 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد کردیا گیا ،کمرشل لوڈر گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس میں تین گنا تک اضافہ کردیا گیا،لوڈر 4060 کلو گرام سے 8110 کلو گرام لوڈ والی گاڑی پر ٹیکس 2200سے بڑھا کر 6600 روپے کردیا گیا، 8120 کلو گرام لوڈ سے 12000 کلو گرام لوڈ والی گاڑی پر ٹیکس چار ہزار سے بڑھا کر 12000روپے کردی گئی، بارہ ہزار سے 16000کلو گرام لوڈ والی گاڑی کا ٹیکس6000سے بڑھا کر 18000روپے کردی گئی۔

16000کلو گرام سے زیادہ لوڈ والی گاڑی پر ٹیکس 8000سے 24000روپے کردیا گیا، ایک ہزار سی سی سے زائد گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی، ایک ہزار سے دو ہزار سی سی تک کی گاڑی پر ٹوکن ٹیکس میں انوائس کا0.1 فیصد اضافہ کردیا گیا۔ دو ہزار سی سی سے بڑی گاڑی پر ٹوکن ٹیکس انوائس کا 0.3 فیصد سے بڑھا کر 0.4 فیصد کر دیا گیا ،آبیانہ فصل کے بجائے فلیٹ ریٹ پر وصول کرنے کی تجویزمنظورکی گئی ہے جس کے تحت خریف کی فصلوں پر1650 اور ربیع کی فصلوں پر850 روپے فی ایکڑ آبیانہ لیا جائے گا، باغات کے لیے اضافی آبپاشی چارجز 2000 روپے فی ایکڑ سالانہ مقرر کرنے کی تجویز منظور کی گئی ہے ، لفٹ اریگیشن کے ذریعے آبپاشی پر 2250 روپے فی ایکڑ سالانہ آبیانہ کی تجویز منظور کی گئی ہے ، زرعی انکم ٹیکس پر سلیب سسٹم ختم کردیا گیا، 12.5 ایکڑ سے زیادہ زرعی اراضی رکھنے والوں پر زرعی انکم ٹیکس 1000 روپے فی ایکڑ کرنے کی تجویز منظورکی گئی ہے ۔ قبل ازیں ساڑھے بارہ ایکڑ سے 25 ایکڑ تک 300 روپے فی ایکڑ زرعی ٹیکس تھا، 25 سے 50 ایکڑ تک زرعی انکم ٹیکس 400 روپے فی ایکڑ تھا، 50 ایکڑ سے زیادہ زمین مالک پر 500 روپے فی ایکڑ زرعی ٹیکس تھا ، سیراب باغات پر زرعی ٹیکس 600 سے بڑھا کر 1000 روپے فی ایکڑ کرنے کی تجویز منظور کی گئی ہے۔

غیر سیراب باغات پر زرعی ٹیکس 300 سے بڑھا کر 500 روپے فی ایکڑ کردیا گیا،ایونٹ مینجمنٹ سروسز پر ان پٹ ٹیکس کے بغیر 8 فیصد ٹیکس عائد کردیا گیا، پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی صرف الیکٹرانک طریقے سے کرنے کی تجویز منظورکی گئی ہے ، پراپرٹی ٹیکس کی تاخیر پر جرمانہ ماہانہ کے بجائے سہ ماہی بنیادوں پر عائد کردیا گیا، کاٹن فیس ختم کرنے کی تجویز منظورکرلی گئی۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی کو رسک بیسڈ ٹیکس مانیٹرنگ کا اختیار دینے کی تجویز بھی منظور کی گئی ہے ، سیلز ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانوں میں نمایاں اضافے کی تجویز منظور، ریسٹورنٹس میں ڈیجیٹل ادائیگی پر سیلز ٹیکس 8 فیصد جبکہ نقد ادائیگی پر 16 فیصد تجویزمنظور، آئی ٹی، ٹرانسپورٹ اور پروفیشنل سروسز پر سیلز ٹیکس 5 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد کرنے کی تجویز منظور، موٹر وہیکل ڈیلرز کو ٹیکس، فیس اور ڈیوٹیز کی وصولی کے لئے ودہولڈنگ ایجنٹ بنانے کی تجویزمنظور، رجسٹریشن اور سرکاری نمبر پلیٹ کے بغیر گاڑی کی ڈلیوری پر پابندی لگانے کی تجویزمنظور کردی گئی۔ اس حوالے سے ڈی جی عمر شیر چھٹہ نے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس میں پچیس فیصد اضافہ سمیت ٹیکسز میں اضافہ کیا گیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں