دوبارہ شادی پر مرحوم ملازم کی تنخواہ لینے کا حق ختم:لاہور ہائیکورٹ
دوبارہ شادی پر خاندانی ڈھانچہ تبدیل، سہولت برقرار رکھنے کا قانونی جواز نہیں :عدالت شوہر کی مرحومہ ملازمہ کی تنخواہ فیملی امدادی پیکیج کے تحت جاری رکھنے کی استدعا مسترد
لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ نے فیملی امدادی پیکیج کیس میں سنگل بینچ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے انٹرا کورٹ اپیل خارج کر دی۔ جسٹس چودھری محمد اقبال اور جسٹس عاصم حفیظ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے دوبارہ شادی کرنے والے شوہر کی مرحومہ سرکاری ملازمہ کی تنخواہ فیملی امدادی پیکیج کے تحت جاری رکھنے کی استدعا مسترد کر دی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ فیملی امدادی پیکیج کا مقصد صرف مرحوم سرکاری ملازم یا ملازمہ کے متاثرہ خاندان کو مالی تحفظ فراہم کرنا ہے تاکہ کفیل کے اچانک انتقال کے بعد خاندان کو درپیش معاشی مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے ۔ اگر مرحوم ملازم یا ملازمہ کا شریکِ حیات دوبارہ شادی کر لے تو خاندانی ڈھانچہ تبدیل ہو جاتا ہے ، لہٰذا فیملی امدادی پیکیج کے تحت ملنے والی مالی سہولت برقرار رکھنے کا قانونی جواز باقی نہیں رہتا۔ دوبارہ شادی کے بعد فیملی اسسٹنس پیکیج کے تحت تنخواہ یا پنشن جیسے مالی فوائد بیک وقت یا مسلسل جاری رکھنے کا کوئی قانونی حق موجود نہیں، اس لیے ایسی صورت میں متعلقہ شخص اس خصوصی سرکاری مالی سہولت کا مستحق نہیں رہتا۔عدالت نے واضح کیا کہ فیملی امدادی پیکیج کا بنیادی مقصد مرحوم سرکاری ملازم کے حقیقی متاثرہ خاندان کو عارضی مالی معاونت فراہم کرنا ہے ، نہ کہ حالات تبدیل ہونے کے باوجود یہ سہولت مستقل بنیادوں پر جاری رکھی جائے ۔