انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت کیس ، 5ملزم جیل منتقل

 انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت کیس ، 5ملزم جیل منتقل

تحقیقات کیلئے مزید جسمانی ریمانڈ ضروری :تفتیشی افسر ،ملزموں کے وکلا کی مخالفت تفتیشی افسر مزید ریمانڈ کیلئے ٹھوس وجوہات پیش نہیں کر سکے :عدالت ، استدعامسترد

اسلام آباد(اپنے نامہ نگارسے )جوڈیشل مجسٹریٹ احمد شہزاد گوندل نے وفاقی دارالحکومت میں انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت کیس میں گرفتار پانچ ملزمان کو جوڈیشل کردیا۔ ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے ملزمان کوعدالت پیش کرتے ہوئے کہا تفتیش کا عمل جاری ہے ،گواہان کامجسٹریٹ کے سامنے 164 کا بیان ریکارڈ کروادیا ہے ،ملزمان سے مزید تحقیقات کیلئے جسمانی ریمانڈ ضروری ہے ، ملزمان کے وکلا کی جانب سے مزید جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی گئی، دلائل سننے کے بعد عدالت نے ایف آئی اے کی مزید جسمانی ریمانڈکی استدعا مسترد کرتے ہوئے پانچوں ملزمان کو جوڈیشل پرجیل بھیجنے کا حکم دے دیا اور کہا ریکارڈ کے مطابق عدالت ملزمان کا دس روز کا جسمانی ریمانڈ دے چکی ہے ،تفتیشی افسر مزید جسمانی ریمانڈ کیلئے ٹھوس وجوہات عدالت کے سامنے پیش نہیں کر سکے ، ملزموں کو 17جولائی کو ای کورٹ کے ذریعے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے ۔ایف آئی اے اور ہوٹا ٹیم نے ایف سیون اسلام آباد میں گزشتہ دنوں کارروائی کی تھی،چینی باشندوں سمیت پانچ افرادکو انسانی اعضا کیس میں گرفتار کیا گیا تھا،چھاپے کے دوران بڑی مقدار میں انسانی پلاسنٹا برآمد ہوا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں