شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آج نماز جنازہ، غیر ملکیوں سمیت لاکھوں افراد تہران میں جمع
صبح 6بجے دعائیہ تقریب، جعفر سبحانی تہران ، ناصر شیرازی قم ،حسین ہمدانی مشہد میں نماز جنازہ پڑھائیں گے پیر تک عوامی دیدار ،پھرجلوس نکلے گا،سکیورٹی کے سخت اقدامات،سڑکیں بند ، فضائی حدود بند رہنے کا امکان
تہران(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی نمازِ جنازہ آج اتوار کو ادا کی جائے گی، غیرملکیوں سمیت لاکھوں افراد تہران میں جمع ہوگئے ،برطانوی میڈیا کے مطابقایرانی حکام کو توقع ہے کہ ایران اور عراق مختلف شہروں میں چھ روز تک جاری رہنے والی آخری رسومات میں دو کروڑ سے زائد افراد شرکت کریں گے ۔ سنیچر کی صبح سے تہران کے بڑے مذہبی و ثقافتی مرکز امام خمینی مصلیٰ میں دو روزہ عوامی الوداع کی تقریب کا آغاز کیا گیا ، جہاں عوام نے اپنے شہید لیڈر کو الوداع کہا، آج صبح چھ بجے تہران کی ایک مسجد میں علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کیلئے دعائیہ تقریب منعقد کی جائے گی۔1989 میں خامنہ ای کے پیشرو روح اللہ خمینی کی تدفین کے بعد سے ایران میں ہونے والے اس سب سے بڑے متوقع عوامی اجتماع کیلئے سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں،سڑکیں بند کر دی گئی ہیں اور فضائی حدود بند رہنے کا امکان ہے۔
میت کو کل پیر تک عوامی دیدار کیلئے رکھا جائے گا جس کے بعد تہران میں جلوس نکالا جائے گا۔منگل کو اسے مذہبی مرکز قم منتقل کر دیا جائے گا جس کے بعد بدھ کو پڑوسی ملک عراق میں مقدس شہروں اور پھر جمعرات کو تدفین کیلئے شمال مشرقی ایران میں واقع خامنہ ای کے آبائی شہر مشہد لے جایا جائے گا۔ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی نماز جنازہ کی امامت ہر شہر میں ایک مرجعی تقلید(شیعہ مسلک کے وہ عالم دین جن کی پیروی اور تقلید کی جاتی ہے ) کرے گا۔ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق جعفر سبحانی تبریزی تہران میں، ناصر مکرم شیرازی قم میں اور حسین نوری ہمدانی مشہد میں نماز جنازہ پڑھائیں گے۔علی خامنہ ای کے جنازے میں عرب اور بین الاقوامی شخصیات کے ساتھ مختلف ملکوں کے حکام نے بھی شرکت کی ہے وہیں کئی اہم شخصیات نے اپنے تعزیتی پیغامات بھی ایران کی حکومت تک پہنچائے ہیں۔
سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کو علی خامنہ ای کی وفات پر تعزیتی پیغام پہنچایا گیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کیا تاکہ سابق سپریم لیڈر کی وفات پر تعزیت کا اعادہ کریں اور ایرانی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کریں۔شہید ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں مصر، سعودی عرب، لبنان اور دیگر ممالک کے عرب وفود نے بھی شرکت کی۔شہباز شریف نے سوشل میڈیا ایکس پر اپنے بیان میں کہا پاکستان ایک ایسے وقت پر ایران کے ساتھ کھڑا ہے جب وہ اپنے غم کے لمحے سے گزر رہا ہے ۔میں نے پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت اور برادر عوام سے سپریم لیڈر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے جنازے میں اپنی گہری تعزیت اور احترام کا اظہار کیا ہے ۔سپریم لیڈر کی دانش، قیادت ایران اور وسیع تر خطے پر گہرا اثر آنے والی نسلوں تک یاد رکھا جائے گا۔