حماس نے 20 سال بعد غزہ میں اپنی حکومت ختم کردی

حماس نے 20 سال بعد غزہ میں اپنی حکومت ختم کردی

غزہ حکومتی کمیٹی کے سربراہ محمد الفرا مستعفی ،ٹیکنوکریٹک حکومت کی راہ ہموار، اسرائیل کے پاس نسل کشی کا جوازنہیں رہا:ترجمان حماس غزہ کے انتظامات سنبھالنے کیلئے تیار ہیں :فلسطینی قومی کمیٹی کا اعلان ،حماس سے تمام اسلحہ قبضے میں لینا ہوگا:بورڈ آف پیس

غزہ،قاہرہ (اے ایف پی،رائٹرز) حماس نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی پر دو دہائیوں سے حکمرانی کرنے والے اپنے انتظامی ادارے کو تحلیل کر دیا ہے ، جس کے بعد سول انتظام سنبھالنے کیلئے ٹیکنوکریٹک قومی کمیٹی کی حکومت کی راہ ہموار ہو گئی ۔حماس نے اس اقدام کو امریکی حمایت یافتہ غزہ منصوبے کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا،تاہم اسرائیل نے حماس کے اقدام کو محض ایک ’’ڈرامہ‘‘قرار دے کر مسترد کر دیا۔اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے حماس کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنوکریٹ حکومت کے لیے جگہ بنانے کی حماس کی بظاہر آمادگی دراصل اس کے ہتھیار نہ ڈالنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے ایکس پر لکھا کہ جب تک حماس کے پاس ہتھیار موجود ہیں، کوئی بھی شہری حکومت اسی کے احکامات کے مطابق کام کرے گی۔یاد رہے حماس نے 2006 کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے بعد 2007 میں فلسطینی جماعت الفتح سے غزہ کا کنٹرول حاصل کیا تھا اور تب سے علاقے کا انتظام چلا رہی تھی۔امریکی صدر ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس کے تحت تشکیل دی گئی فلسطینی ٹیکنوکریٹک قومی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں سنبھالنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے ۔ کمیٹی کے سربراہ علی شعث نے کہا کہ ضروری وسائل اور اختیارات کی فراہمی کے ساتھ ہی کمیٹی اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کرے گی۔

ادھر ٹرمپ کے قائم کردہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ نے کہا ہے کہ غزہ کے انتظام کیلئے بنائی گئی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کو حماس سے تمام اسلحہ اپنے قبضے میں لینا ہوگا۔ بیان میں کہا گیا کہ بنیادی اصول ایک اختیار، ایک قانون اور ایک ہتھیار ہے ، جس کے تحت تمام ہتھیاروں کو غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی کے کنٹرول میں لایا جانا چاہیے ۔ گزشتہ سال اکتوبر میں غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد حماس متعدد بار یہ کہہ چکی ہے کہ وہ روزمرہ حکومتی امور سے دستبردار ہونے کیلئے تیار ہے ، تاہم اس کے ہتھیار ڈالنے کا معاملہ اب بھی حل طلب ہے ۔

حماس کے سرکاری میڈیا دفتر کے سربراہ اسماعیل الثوابتہ نے بتایا کہ حکومتی ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ محمد الفرا نے باضابطہ طور پر اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے ۔انتظامی اور حکومتی اختیارات کی منتقلی کو آسان بنانے کیلئے ایمرجنسی کمیٹی کو بھی تحلیل کر دیا گیا ہے تاکہ غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی سول امور سنبھال سکے ۔یہ قومی کمیٹی امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اکتوبر 2025 میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کرانے کے بعد قائم کیے گئے بورڈ آف پیس کے تحت تشکیل دی گئی تھی۔حماس نے کہا کہ وزارتیں اور ان میں تعینات اس کا عملہ بدستور اپنی جگہ کام کرتا رہے گا، انہوں نے کہایہ اقدامات اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ ہم طے شدہ انتظامات پر سنجیدگی سے عمل کر رہے ہیں اور انتظامی اختیارات کی منتقلی کے عمل کو آسان بنانا چاہتے ہیں۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ حماس نے ایک نیا قدم اٹھایا ہے اور اب وہ غزہ کی پٹی کا انتظام نہیں چلائے گی تاکہ اسرائیل کے پاس اپنی جارحیت اور نسل کشی کی جنگ جاری رکھنے کا کوئی جواز باقی نہ رہے ۔انہوں نے کہا کہ حماس امید کرتی ہے کہ غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی جلد از جلد علاقے میں کام شروع کرے گی، جبکہ تنظیم حکومتی ذمہ داریاں اس کمیٹی کے حوالے کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے تاکہ وہ مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکے ۔ حماس نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ اس نے بارہا جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے اور منصوبے کے دیگر حصوں پر بھی عمل نہیں کیا، جن میں اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا بھی شامل ہے ۔حماس کا کہنا ہے کہ جب تک اسرائیل غزہ پر حملے بند نہیں کرتا، وہ ہتھیار نہیں ڈالے گی۔

فلسطینی جماعتوں نے حماس کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے قومی انتظامی کمیٹی کو عملی طور پر اختیارات منتقل کرنے کی جانب ایک سنجیدہ قدم قرار دیا۔واضح رہے حماس اور دیگر فلسطینی دھڑے مصری ثالثوں کی موجودگی میں قاہرہ میں مذاکرات کے کئی دور کر چکے ہیں تاکہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر موجود اختلافات کو کم کیا جا سکے ۔جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں حماس نے اپنے پاس موجود آخری اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا، جبکہ اسرائیل نے اس کے بدلے فلسطینی قیدیوں کو آزادی دی۔دوسرے مرحلے میں حماس کے ہتھیار ڈالنے اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے بتدریج انخلا کا منصوبہ شامل تھا، تاہم یہ مرحلہ کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہے ۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے حالیہ مہینوں میں غزہ میں اپنی موجودگی مزید بڑھا دی ہے اور اطلاعات کے مطابق وہ تقریباً 70 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر چکی ہے ۔ حماس کا موقف ہے کہ جب تک غزہ میں ایک بااختیار فلسطینی انتظامیہ قائم نہیں ہو جاتی، وہ اپنے اسلحے کا کوئی حصہ حوالے کرنے پر غور نہیں کرے گی۔غزہ میں جنگ کے بعد انتظامی نظام کا مستقبل اب بھی دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کیلئے جاری مذاکرات میں سب سے بڑا تنازع بنا ہوا ہے ۔اسرائیل ایک طرف حماس کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کی مخالفت کرتا ہے ، جبکہ دوسری جانب اس مرحلے پر رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی کے براہِ راست غزہ کا انتظام سنبھالنے کی بھی مخالفت کر رہا ہے ۔غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق پیر کو غزہ شہر کے تل الہوا علاقے میں ایک اپارٹمنٹ پر اسرائیلی فضائی حملے میں میاں بیوی شہید ہو گئے ۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس حملے میں حماس کے کمانڈر فادی عاشور دغمش کو نشانہ بنا کر شہید کیا گیا۔غزہ طبی حکام کے مطابق دو دیگر حملوں میں بے گھر افراد کے خیمے اور ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں تین افراد شہید اور کم از کم 20 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں