عمران ، بشریٰ بی بی کے وکلا نے دلائل نہ دیئے تو نیب ریکارڈ پر فیصلہ دینگے : اسلام آباد ہائیکورٹ

 عمران ، بشریٰ بی بی کے وکلا نے دلائل نہ دیئے تو نیب ریکارڈ پر فیصلہ دینگے : اسلام آباد ہائیکورٹ

بانی پی ٹی آئی کے وکلا کو دلائل دینے کی حتمی مہلت ،190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا عمران خان،بشریٰ بی بی کو قید تنہائی کی سزا نہیں دی گئی، سنگین الزامات نظر انداز نہیں کر سکتے :10صفحات کا تحریری حکم

اسلام آباد(اپنے نامہ نگارسے )اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشری ٰبی بی کی اپیلوں پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا، چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بینچ کی جانب سے جاری سماعت کے تحریری حکم نامہ میں عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلا کو اپیلوں پر دلائل کی حتمی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگر آئندہ سماعت اپیلوں پر دلائل نہ دئیے تو نیب کو سن کر دستیاب ریکارڈ پر فیصلہ کر دیں گے ، آئندہ سماعت پر دلائل دینے کی لطیف کھوسہ کی تحریری یقین دہانی پرسماعت ملتوی کرنے کی استدعا منظور کی جاتی ہے ، سردار لطیف کھوسہ جن کا وکالت نامہ عمران خان اور بشریٰ کی جانب سے ریکارڈ پر موجود ہے نے واضح انڈرٹیکنگ دی ہے کہ آئندہ سماعت پر مزید کوئی التوا نہیں مانگیں گے اوراپیلوں پر دلائل دیں گے ،سردار لطیف کھوسہ کی تحریری یقین دہانی کے بعد عدالت سماعت ملتوی کر رہی ہے ،عدالت واضح کرتی ہے کہ اس کیس میں اب حتمی مہلت دی جا رہی ہے ،آئندہ سماعت پر اگر اپیلوں پر دلائل نہیں دئیے تو مزید کیس ملتوی نہیں ہو گا،نیب کو سن کر دستیاب ریکارڈ دیکھ کر اپیلوں کا فیصلہ کر دیا جائے گا،دوسری طرف اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشری ٰبی بی کی قید تنہائی کے خلاف درخواستوں پرسماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے علیمہ خانم اور مبشرہ مانیکا کی درخواستوں پر 10 صفحات کا تحریری حکم جاری کیا، جس میں کہاگیاہے کہ درخواستوں میں قید تنہائی اور جیل میں خلاف قانون سلوک کے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں،ان الزامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ،ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے قیدی کو جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں سخت قید اور سادہ قید کی سزا سنائی گئی تھی،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قید تنہائی کی سزا بالکل بھی نہیں دی گئی،نیب پراسیکیوٹر نے بتایا بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھنے کے الزامات جھوٹے ہیں،نیب پراسیکیوٹر کے مطابق سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ایسے الزامات لگائے گئے ہیں،بانی اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی سے متعلق سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل حقائق پر مبنی تفصیلی رپورٹ پیش کریں، بانی اور بشریٰ بی بی کو اگر قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے تو کس اتھارٹی کے حکم پر ایسا کیا گیا ہے ؟،اگر ایسا ہے تو جیل حکام نے بانی اور بشریٰ بی بی کو کس قانون کے تحت قیدِ تنہائی میں رکھا ؟،اگر قیدِ تنہائی ہے تو اس کی مدت کیا ہے ؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل حکام سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہاکہ دونوں قیدیوں کی جیل میں حالت اور جیل رولز کے مطابق دی گئی سہولیات پر بھی رپورٹ پیش کی جائے ،عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل، آئی جی جیل خانہ جات اور نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہاکہ سپرنٹنڈنٹ جیل کی رپورٹ آنے کے بعد ہی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے کا تعین کیا جا سکے گا،کیس کی مزید سماعت 6 اگست کو مقرر کی جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں