طلاق پر شوہر کی آدھی جائیداد بیوی کو دی جائے : سینیٹ کمیٹی میں علی ظفر کی تجویز

طلاق پر شوہر کی آدھی جائیداد بیوی کو دی جائے : سینیٹ کمیٹی میں علی ظفر کی تجویز

مجوزہ بل کو اسلامی نظریاتی کونسل میں بھجوایا جائے تاکہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کا جائزہ لیا جا سکے ،سینیٹر عطا الرحمن سینیٹ کی مذہبی امور کمیٹی نے حج کے موقع پر شکایات کا جائزہ لینے کیلئے ڈی جی حج ودیگر حکام کو اگلے اجلاس میں طلب کرلیا

اسلام آباد(اپنے رپورٹر سے ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عطا الرحمن کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔سینیٹر سید علی ظفر نے ایک نجی بل پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا متعدد خواتین نے شکایت کی ہے کہ طلاق کے بعد ان کے پاس رہائش باقی رہتی ہے اور نہ ہی گزر بسر کا کوئی ذریعہ ۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ نکاح نامے میں شق شامل کی جائے جس کے تحت طلاق کی صورت میں شوہر کی جائیداد میں بیوی کا 50 فیصد حصہ مقرر کیا جا سکے ، بیوی کی گھریلو خدمات، بچوں کی پرورش اور شوہر کی معاونت کو قانونی طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس معاملے پر عدالتی سطح پر بھی غور کیا گیا، جہاں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس کیانی سمیت مختلف قانونی ماہرین نے اس مؤقف کا اظہار کیا کہ شادی شدہ زندگی کے دوران بیوی کی خدمات کو بھی معاشی شراکت تصور کیا جانا چاہیے۔

سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے کہا کہ اگر بیوی معاشی طور پر مستحکم ہو اور شوہر کی معاونت کرے تو ایسے حالات میں شوہر کے حقوق کا بھی تحفظ ہونا چاہیے ۔ چیئرمین کمیٹی نے رائے دی کہ مجوزہ بل کو اسلامی نظریاتی کونسل میں بھجوایا جائے ۔سینیٹر حافظ عبدالکریم نے کہا کہ مغربی نظریات کو پاکستان میں نافذ کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے ، اسلام میں خواتین کو عزت، احترام اور مکمل حقوق حاصل ہیں اور اسی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس مجوزہ بل کی موجودہ شکل میں حمایت نہیں کرتے ۔سینیٹر سرمد علی نے کہا کہ اگر ترکی اور ایران جیسے اسلامی ممالک میں اس نوعیت کے قوانین موجود ہیں تو انہیں قرآن و سنت کے منافی قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی قانون قرآن و سنت سے متصادم نہیں بنایا جا سکتا، اس لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے لینا ضروری ہے۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا بہتر ہوگا کہ اس بل کو دوبارہ کونسل کو بھیجا جائے ۔سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ ہندو پرسنل لا میں اس نوعیت کی گنجائش موجود ہے اور وہ اس بل کی حمایت کرتے ہیں۔ کمیٹی نے تفصیلی بحث کے بعد فیصلہ کیا کہ مجوزہ بل اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جائے یا کونسل کے نمائندوں کو آئندہ اجلاس میں طلب کر کے ان کی رائے حاصل کی جائے تاکہ اس کی روشنی میں آئندہ قانون سازی کی جا سکے ۔ وزارت مذہبی امور کے حکام نے حج 2026 کے انتظامات پر بریفنگ میں بتایا بینکنگ سروسز سے متعلق 3164 ، آن لائن درخواست سروسز کی 2552 ، رہا ئش کی 1527 ، حاجی کیمپ سروسزکی 1242، ٹرانسپورٹ کی 1010، خوراک سے متعلق 714 شکایات موصول ہوئیں جن کا بروقت ازالہ کیا گیا ۔

چیئرمین کمیٹی نے حج انتظامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذاتی خرچ پر حج کے دوران سعودی عرب گئے ، تاہم متعلقہ حکام نے مجھ سے کوئی رابطہ کیا اور نہ ہی مناسب تعاون فراہم کیا ۔سینیٹر حافظ عبدالکریم نے بھی متعدد حاجیوں کی شکایات کا حوالہ دیا ۔ سینیٹر دنیش کمار نے حج مشن کے بعض انتظامی معاملات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ افسران، خصوصاً ڈی جی عبد الو ہاب سومرو کو کمیٹی کے سامنے طلب کیا جائے ۔وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیل داس کوہستانی نے یقین دہانی کرائی کہ اگر کمیٹی تحریری طور پر شکایات فراہم کرے تو ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ متعلقہ افسران کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے آئندہ اجلاس میں متعلقہ حکام کو طلب کیا جائے گا جبکہ ڈی جی حج عبد الو ہاب سومرو سمیت ذمہ دار افسران سے بھی وضاحت طلب کی جائے گی۔ کمیٹی کا آئندہ اجلاس 29 جولائی کو منعقد ہوگا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں