خصوصی کمیٹی کی نگہداشتی کارکنوں کو قانونی شناخت دینے کی ہدایت
خواتین کی معاشی شمولیت بارے وفاقی اداروں کی کا رکردگی پر اظہار عدم اطمینان اجلاس میں شماریات بیورو ، وزارت اوورسیز کی بریفنگز مسترد، متعدد سفارشات منظور
اسلام آباد( سہیل خان )قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے صنفی شمولیت نے خواتین کی معاشی شمولیت اور نگہداشتی معیشت کے معاملے پر وفاقی اداروں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان بیورو شماریات اور وزارت سمندر پار پاکستانیز کی بریفنگز مسترد کر دیں۔ کمیٹی نے وفاقی سیکرٹریز کی عدم حاضری پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور نگہداشتی معیشت کے لیے جامع قومی پالیسی، گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن، ڈے کیئر مراکز کے قیام میں توسیع اور نگہداشتی کارکنوں کو قانونی حیثیت دینے سمیت متعدد اہم سفارشات بھی منظور کر لیں۔
ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت، بلا معاوضہ گھریلو و نگہداشتی کام اور خواتین کارکنوں کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ صنعتی تعلقات ایکٹ 2012 کا جائزہ لے کر نگہداشتی کارکنوں کو قانونی شناخت دی جائے ، گھریلو ملازمین کے لیے جامع رجسٹریشن نظام قائم کیا جائے اور نگہداشتی شعبے کو باقاعدہ معاشی شعبے کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے قومی پالیسی مرتب کی جائے ۔ کمیٹی نے خبردار کیا کہ آئندہ اجلاس میں متعلقہ وفاقی سیکرٹری مکمل تیاری اور جامع پالیسی فریم ورک کے ساتھ ذاتی طور پر پیش نہ ہوئے تو پارلیمانی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے ۔