وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ گرانے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا

وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ گرانے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا

حکم امتناع بھی ختم ،جائیداد ملکیت کا فیصلہ ٹرائل عدالتیں ، انتظامی معاملات ریگولیٹری ادارے طے کرینگے ، سپریم کورٹ فیصلے میں اہم نکات کو مدنظر نہیں رکھا گیا:جسٹس حسن نظرثانی درخواست دائر کرنے پر اظہارناراضی بھی مناسب نہیں تھا:ریمارکس، اس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیرسربراہی بینچ نے نظرثانی درخواست مسترد کی تھی

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کی جانب سے اسلام آباد کے سیاحتی مقام پیر سوہاوہ پر واقع مونال ریسٹورنٹ گرانے سے متعلق سپریم کورٹ کا 2024 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف مونال ریسٹورنٹ کی انتظامیہ کی جانب سے دائر کی گئی نظرثانی کی اپیل بھی اس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے مسترد کردی تھی۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے سی ڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے حکم امتناع بھی ختم کر دیا اور قرار دیا کہ جائیداد کی ملکیت سے متعلق معاملات کا فیصلہ ٹرائل عدالتیں آزادانہ طور پر کریں گی اور وہ اس سلسلے میں سابقہ عدالتی مشاہدات سے متاثر نہیں ہوں گی۔

عدالت نے ٹرائل کورٹس کو ہدایت کی کہ زیرالتوا مقدمات کا جلد از جلد فیصلہ کیا جائے، جبکہ انتظامی نوعیت کے معاملات متعلقہ ریگولیٹری ادارے طے کریں گے ۔سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دئیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں متعدد اہم نکات کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ کیس دائر کرنے یا نظرثانی درخواست دائر کرنے پر ناراضی کا اظہار بھی مناسب نہیں تھا۔ فیصلے میں ایسی باتیں بھی درج کی گئیں جن کا مقدمے کے حقائق سے تعلق نہیں تھا۔عدالت جذباتی فیصلے نہیں کرتی بلکہ قانون اور ریکارڈ کی بنیاد پر فیصلہ دیتی ہے ۔ انہوں نے ریمارکس دئیے کہ جو سماعت ہوئی، وہی حکم دیں گے  اور الف لیلیٰ کی کہانی فیصلے میں نہیں لکھیں گے ۔ فیصلہ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ اس میں عدالتی کارروائی سے باہر کی کئی باتیں بھی شامل تھیں۔

مونال ریسٹورنٹ کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل احسن بھون نے کہا عدالت نے مقدمے کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لیا ہے ، جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا عدالت میں ہماری تعریفیں نہ کریں۔واضح رہے مونال ریسٹورنٹ کو 2006 میں مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں لیز پر جگہ دی گئی تھی۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اس معاملے پر طویل عدالتی کارروائی ہوئی۔ سپریم کورٹ نے 11 جون 2024 کو فیصلہ دیتے ہوئے مونال، لا مونٹانا اور دیگر ریسٹورنٹس کو نیشنل پارک خالی کرنے کا حکم دیا تھا اور قرار دیا تھا کہ قومی پارک میں تجارتی سرگرمیاں ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں کے منافی ہیں۔

بعد ازاں سی ڈی اے نے عدالت کو رپورٹ دی تھی کہ مونال، لامونٹانا اور دیگر تعمیرات مسمار کرکے زمین واگزار کروا لی گئی ہے ۔رواں سال وفاقی آئینی عدالت میں سی ڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کی جانب سے دائر اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باعث بلدیاتی ادارہ لیز اور کرایہ کی مد میں واجب الادا رقوم سے محروم ہوگیا، جبکہ یہ فنڈز اسلام آباد میں بلدیاتی خدمات اور مارگلہ نیشنل پارک کے اطراف واقع دیہات کی ترقی پر خرچ ہونے تھے۔ آئینی عدالت نے ان اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...