مذاکرات ورنہ ایرانی بجلی گھروں، پلوں پر حملے : ٹرمپ، فی الحال بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں، توجہ صرف دفاع پر : ایران، تجارتی گزرگاہیں بند کرنیکی دھمکی

مذاکرات ورنہ ایرانی بجلی گھروں، پلوں پر حملے : ٹرمپ، فی الحال بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں، توجہ صرف دفاع پر : ایران، تجارتی گزرگاہیں بند کرنیکی دھمکی

امریکا کے حملے ، جنوبی ایران میں 30شہری ،بامپور میں 7فوجی جاں بحق،شہدا کا بدلہ یقینی ہے ، تیل اور گیس کی برآمدات کا راستہ یا تو سب کے لیے ہوگا یا کسی کے لیے نہیں:پاسداران انقلاب ایرانی ڈیجیٹل اثاثے منجمد، ناکہ بندی مکمل ، خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ،تہران میں ٹرمپ کے تابوت والے بل بورڈ آویزاں، ملک کے ایک ایک انچ کا دفاع کریں گے ،ایرانی صدر

واشنگٹن،تہران(نیوز ایجنسیاں )امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ ایک نئے اور انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے ،صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ ایران نے مذاکرات شروع نہ کئے تو ایرانی بجلی گھروں اور پلوں پر حملے کئے جائیں گے جبکہ ایران  نے کہا ہے کہ فی الحال مذاکرات کا ارادہ نہیں توجہ دفاع پر ہے ،ایران نے مزید تجارتی گزر گاہیں بند کرنیکی دھمکی بھی دی ہے ، امریکی فوج نے بدھ کے روز ایران کے ساحلی دفاعی نظام اور کروز میزائلوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے ، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی اثاثوں پر میزائل داغے ہیں، بدھ کے روز اردن، بحرین اور کویت میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ہمارا فی الحال مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور تمام تر توجہ صرف دفاع پر مرکوز ہے۔

ایران کی جانب سے دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اعلان کے بعد، اب تہران نے دھمکی دی ہے کہ وہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچانے والی دیگر تمام بحری تجارتی راہداریوں کو بھی بند کر دے گا، ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران اپنے یمنی اتحادی حوثیوں کے ذریعے بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع باب المندب کی گزرگاہ کو نشانہ بنا سکتا ہے ،سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد اپنے کچے تیل کی 70 فیصد برآمدات کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ 'ینبع' منتقل کر دیا تھا، لیکن اب حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل حملوں کے بعد یہ متبادل راستہ بھی شدید خطرے میں ہے ،آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز کی جانب سے مائنز (سمندری بارودی سرنگیں) بچھائے جانے کے بعد، متعدد بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں نے امریکی فوج کی نگرانی میں چلنے والی پروٹیکشن سکیم کے باوجود اس راستے سے گزرنے سے انکار کر دیا ہے ، کیونکہ کمپنیوں کو اپنے عملے کی حفاظت کے حوالے سے شدید تحفظات ہیں۔

اس شدید بحران کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، برینٹ خام تیل کی قیمت 1.46 ڈالرز یعنی 1.72 فیصد اضافے کے ساتھ 86.19 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ گئی،اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹر میڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 1.11 ڈالرز یعنی 1.4 فیصد اضافے کے بعد 80.40 ڈالرز فی بیرل ریکارڈ کی گئی،اس وسیع تر علاقائی جنگ کے دوران، روم میں امریکی سفارت خانے میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سفیروں کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں کچھ مثبت اشارے ملے ہیں، امریکی حکام کے مطابق ایک پائلٹ پروجیکٹ کے تحت جنوبی لبنان سے مسلح گروہوں (حزب اللہ) کے خاتمے ، لبنانی فوج کی تعیناتی اور اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا پر اصولی اتفاق ہوا ہے ، امریکی محکمہ خزانہ نے بدھ کے روز ایران کے ہتھیاروں کی خریداری کے بین الاقوامی نیٹ ورک پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں، جس میں ایرانی اور روسی شہریوں کے ساتھ ساتھ ایران، روس اور نائیجیریا میں قائم کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ،ادھر ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی حملوں میں 'ہویزہ' شہر میں گندم کے گودام کو نشانہ بنایا گیا ہے ، تاہم امریکی فوج نے اس کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ صرف ایرانی فوجی تنصیبات بشمول بندر عباس، اہواز اور قشم کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر ایران معاہدے کے لیے مذاکرات کی میز پر نہ آیا تو امریکا آئندہ ہفتے ایران میں اپنے حملوں کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے بجلی گھروں اور پلوں کو بھی نشانہ بنائے گا۔ٹرمپ نے کہا اگلا ہفتہ ان کے لیے بہت برا ہوگا، کیونکہ اگلے ہفتے بجلی گھر،پل بھی نشانے پر ہوں گے ، انہوں نے کہا کہ ایران پر حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک میں نہ کہوں کہ اب کافی ہے ، ایران میں ابھی کچھ جنگ لڑنے کی صلاحیت باقی ہے ، لیکن یہ بہت زیادہ نہیں ،صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ آیا زمینی کارروائی کا امکان ہے ، تو انہوں نے کہا کہ ‘میں اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتا، کبھی زمینی آپریشن کی ضرورت پڑتی ہے لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے لیے زمینی کارروائی کریں گے ،ادھر ایرانی دارالحکومت تہران میں امریکا اور ٹرمپ کے خلاف نئے بل بورڈز آویزاں کیے گئے ہیں جن میں ٹرمپ کو تابوت میں دکھایا گیا ہے ، تاہم وہاں کے مقامی شہریوں کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا ہے کہ وہ اس تاریخی موڑ سے سرخرو ہو کر نکلیں گے۔

علاوہ ازیں امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے بدھ کے روز ایرانی وقت کے مطابق دوپہر ایک بج کر 30 منٹ پر ایران پر نئے حملے کئے ہیں ، سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ ایران کی دوبارہ بحری ناکہ بندی کر دی گئی ہے ،ایرانی میڈیا نے خبر دی ہے کہ ملک کے جنوب میں واقع کئی علاقوں بشمول بندر عباس، سیریک اور اہواز میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں،ہرمزگان کے گورنر کے حوالے سے بتایا ہے کہ بندر عباس شہر کے قریب ایک مقام کو امریکی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ،ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے وطن کے ایک ایک انچ کا دفاع کریں گے ،ایرانی صدر نے ٹی وی پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر ٹرمپ کی بیان بازی کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ ٹرمپ بتائیں کہ کیا انہوں نے میدانِ جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کر لیے ؟ ایران کو تقسیم کرنے کی کوشش کرنے والے بتائیں کہ انہیں آخر حاصل کیا ہوا ہے ؟ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں امریکا کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن نے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے ، جس کے جواب میں تہران تمام ممکنہ اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکا نے مفاہمتی یادداشت کی شرائط توڑ دی ہیں، اس لیے ایران کے پاس مناسب جواب دینے کے تمام راستے موجود ہیں، ایرانی مسلح افواج کے ہاتھ بندھے ہوئے نہیں ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور طاقتور جواب دیا جائے گا،دوسری طرف ’ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ جنوبی ایران پر حالیہ امریکی حملوں میں 30 سے زائد شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، ایرانی فوج نے کہا ہے کہ صوبہ سیستان و بلوچستان کے علاقے بامپور میں ایک فوجی چھاؤنی پر امریکی حملے میں سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، ایرانی زمینی افواج کی ایک بیرک کے رہائشی حصے کو لگ بھگ 13 میزائلوں سے نشانہ بنایا،حملے میں ایران کی 388ویں بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے سات اہلکار، جن میں حاضرِ سروس اور ریٹائرڈ اہلکار شامل تھے ، ہلاک ہوئے ہیں جبکہ متعدد زخمیوں کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ،ایرانی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ شہدا کے خون کا بدلہ یقینی ہے۔

پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک ‘دشمن’ اپنی کارروائیاں بند نہیں کرتا،پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ تیل اور گیس کی برآمدات کا راستہ یا تو سب کے لیے دستیاب ہوگا یا کسی کے لیے نہیں، اگر ایران کی تیل اور گیس کی برآمدات کو روکنے کی کوشش کی گئی یا انہیں مسلسل معطل رکھا گیا تو وہ خطے کے دیگر ممالک کی برآمدات کو بھی متاثر کر سکتے ہیں ، دریں اثنا امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے مرکزی بینک سے منسلک 13کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے منجمد کر دئیے ہیں ،انہوں نے کہا کہ امریکا منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا ۔رات گئے ایرانی میڈیا نے بتایا ہے کہ چابہار سمیت ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ایران کی سرکاری مہر نیوز ایجنسی کے مطابق عراق کی سرحد کے قریب واقع ایرانی شہر اہواز میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، رواں ماہ کشیدگی دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے اہواز کو متعدد مرتبہ امریکی فوج کی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے ۔رپورٹ کے مطابق ایران کے شہر چابہار میں یکے بعد دیگرے 3 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی میزائلوں نے چابہار میں واقع بحری نگرانی کے ٹاور کو نشانہ بنایا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...