بلوچستان : سیندک پراجیکٹ کی سکیورٹی بڑھانے کا فیصلہ
کمپنی نے حکومت سے فرنس آئل کی بحفاظت ترسیل کے لیے مدد مانگی تھی منصوبہ ایک ماہ میں بند ہونے کی برطانوی اخبارکی رپورٹ غلط ہے :منیجنگ ڈائریکٹر
اسلام آباد، کوئٹہ (رائٹرز)حکومت پاکستان نے بلوچستان میں عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں سپلائی روٹس متاثر ہونے کے بعد چینی کمپنی کے زیرِ انتظام چلنے والی تانبے اور سونے کی اہم ترین کان ’’سیندک‘‘ کے گرد سکیورٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سیندک میٹلز لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر رازق سنجرانی نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی اس رپورٹ کو حقیقت کے برعکس اور غلط قرار دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خراب سکیورٹی کی وجہ سے یہ منصوبہ ایک ماہ میں بند ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے ایک بیان میں واضح کیا کہ کان پر کام گزشتہ25سال سے بغیر کسی تعطل کے کامیابی سے چل رہا ہے ، اس منصوبے کے بند ہونے کا کوئی امکان یا خطرہ نہیں ہے۔ رازق سنجرانی نے بتایا کہ بعض ٹرانسپورٹرز کی جانب سے بلوچستان کے مخصوص راستوں پر سفر کرنے سے کترانے کے بعد کمپنی نے حکومت سے فرنس آئل (سپلائی) کی بحفاظت ترسیل کے لیے مدد مانگی تھی۔ سکیورٹی اداروں نے کمپنی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ایندھن اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کو ہر صورت بلاتعطل برقرار رکھا جائے گا۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے تصدیق کی ہے کہ حکومت کو جولائی کے اوائل میں سیندک انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی خدشات موصول ہوئے تھے ۔ انہوں نے کہا ہم نے صوبائی حکام اور تمام متعلقہ سکیورٹی اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ چینی اور غیر ملکی کمپنیوں کی تنصیبات، عملے ، لاجسٹکس اور کارگو ٹرانسپورٹیشن کے لیے سکیورٹی کو مزید سخت کریں۔ پاکستان میں کام کرنے والے تمام بین الاقوامی اداروں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے ۔بلوچستان میں شورش پسندوں کی حالیہ سرگرمیوں کی وجہ سے سیندک سے محض50کلومیٹر دور واقع بیرک گولڈ کے 9 ارب ڈالر کے تاریخی منصوبے ریکوڈک پر بھی سکیورٹی کے حوالے سے گہری نظر رکھی جا رہی ہے ۔ چینی وزارتِ خارجہ نے بھی اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ بیجنگ اور اسلام آباد کے مضبوط تعلقات کے تحت پاکستان میں موجود اپنے شہریوں اور منصوبوں کے تحفظ کے لیے پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments