ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر سب سے پہلا حق اخبار کا ہے : وزیر اطلاعات

 ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر سب سے پہلا حق اخبار کا ہے : وزیر اطلاعات

الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی قیمت پر ڈیجیٹل میڈیا کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا:عطاتارڑ پرنٹ میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں ، اسے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے :چیئرمین کمیٹی اخبارات ،انکی ویب سائٹس NCCIAکے دائرہ کار میں نہیں ،کارروائی نہ کریں:سینیٹرسرمد

اسلام آباد(نامہ نگار)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کو آگاہ کیا گیاکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر سب سے پہلا حق اخبار کے ڈیجیٹل شعبے کا ہے ، ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2024ء کے تحت ہماری کوشش ہوگی کہ اخبارات کی ڈیجیٹل شمولیت کو بڑھایا جائے ۔ بدھ کو کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سرمد علی کی زیر صدارت ہوا ۔ اجلاس میں میڈیا پالیسی، میڈیا ورکرز کی فلاح و بہبود، سرکاری شعبے کے میڈیا اداروں کے اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے  متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ نے کمیٹی کو بتایاکہ سوشل میڈیا کے حوالے سے 2021ء کی پالیسی میں 2022 ء میں ترمیم ہوئی،ڈیجیٹل میڈیا اس ملک میں خودکفیل فورم ہے ۔تھرڈ پارٹی کے ذریعے ویوز اور دیگر عوامل کی توثیق کا نظام لایا گیا۔وفاق نے جو پالیسی بنائی مختلف صوبوں نے بھی اسے اپنایا۔

ڈیجیٹل میڈیا کو فنانشل سپورٹ کی ضرورت نہیں ہوتی،ہم اتنی ایڈورٹائزمنٹ کرتے ہیں جتنی ہماری ضرورت ہوتی ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ ہماری سب سے بڑی ترجیح ایمپلا ئز کی ویلفیئر ہے ۔12 سال کے بچے سے لے کر 70 سال تک کے بزرگ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، سوشل میڈیا کو فیڈ کرنے والا میڈیم اخبار یا ٹیلی ویژن ہے ۔اگر ہم تیزی سے آگے بڑھنے والے میڈیم کو مزید تقویت دیں گے تو وہ اخبار اور ٹی وی کی قیمت پر ہوگی۔ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر سب سے پہلا حق اخبار کے ڈیجیٹل شعبے کا ہے ، ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2024ء کے تحت ہماری کوشش ہوگی کہ اخبارات کی ڈیجیٹل شمولیت کو بڑھایا جائے ۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی قیمت پر ڈیجیٹل میڈیا کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔وزیر اطلاعات نے بتایاکہ آئی ٹی این ای کے چیئرمین کی تقرری کے حوالے سے معاملات حل ہو گئے ہیں، جلد نوٹیفکیشن جاری ہو جائے گا۔

چیئرمین کمیٹی سرمد علی نے کہا پرنٹ میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا،ہمیں پرنٹ میڈیا کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ۔وزیر اطلاعات نے کہا ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2024ء میں گوگل اینالیٹک، ویب گرافکس اور دیگر رپورٹس شامل ہیں۔ تھرڈ پارٹی کا نظام بھی اس پالیسی میں وضع کیا گیا ہے ،اخبارات کے پلیٹ فارمز کو مزید سپورٹ فراہم کریں گے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے ریجنل اخبارات کے حوالے سے پی آئی ڈی کی ایک سب کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ سب کمیٹی ریجنل اخبارات کی سرکولیشن کے حوالے سے اپنی رپورٹ پیش کرے ۔چیئرمین کمیٹی سرمد علی نے کہا میڈیا لسٹ میں بہتری لانے کی ضرورت ہے ۔ عطاتارڑ نے بتایاکہ اے بی سی اور رجسٹرار آفس کو ضم کرکے ایک ادارہ بنایا جائے گا، آڈٹ بیورو آف سرکولیشن (اے بی سی) میں اصلاحات لا رہے ہیں، اس مقصد کے لئے کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے ۔

اے بی سی کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اور شفاف بنایا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بلھے شاہ کی شخصیت پر بننے والی فلم کا معاملہ زیر بحث آیا۔ وفاقی وزیر نے بتایاکہ بلھے شاہؒ کے نام سے ایسی فلم نہیں آنی چا ہئے تھی،فلم کے لئے \"بلھے شاہ\" کا نام استعمال کرنے کی وجوہات معلوم کی جانی چاہئیں،رکن کمیٹی پرویز رشید نے کہا تاریخ ساز شخصیت کے نام پر فلم سینسر بورڈ نے کس طرح پاس کی، اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ رکن کمیٹی سید وقار مہدی نے کراچی میں ریڈیو پاکستان کی دفتری عمارت کے کرایوں کے نرخوں پر نظر ثانی کی سفارش کی، کیونکہ اس کی 17 میں سے 8 منزلیں خالی پڑی تھیں۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ کرایوں کے نرخوں میں نظر ثانی کے لئے حال ہی میں ٹینڈرز جاری کیے گئے ہیں، کمیٹی نے پی بی سی کو ہدایت کی کہ وہ خالی جگہ کے قابلِ عمل استعمال کا منصوبہ پیش کرے ۔

کمیٹی نے اضافی آمدنی کے حصول کے لیے پی ٹی وی کی عمارتوں کے خالی حصوں کو تجارتی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی تجویز بھی دی اور پی ٹی وی پر ڈرامہ پروڈکشنز کی بحالی پر زور دیا۔کمیٹی نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے حوالے سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی(این سی سی آئی اے )کی جانب سے پہلے پیش کیے گئے اعداد و شمار میں تضاد پر تشویش کا اظہار کیا۔ارکان کمیٹی نے نشاندہی کی کہ این سی سی آئی اے نے بعد ازاں ذیلی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے دوران اپنے حکام کی طرف سے شیئر کیے گئے اعداد و شمار سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔کمیٹی نے ان اطلاعات کا بھی نوٹس لیا کہ این سی سی آئی اے نے بعض اخبارات اور ان کے کالم نگاروں کو نوٹس جاری کئے ہیں۔ ارکان کمیٹی نے نشاندہی کی کہ ایسے اقدامات این سی سی آئی اے کے قانونی دائرہ اختیار میں نہیں آتے اور یہ اخبارات اور صحافیوں کو ہراساں کرنے کے مترادف ہو سکتے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر سرمد علی نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اخبارات یا ان کی ویب سائٹس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے کیونکہ یہ ادارے کے دائرہ کار میں نہیں آتے ۔ سید وقار مہدی نے کہا این سی سی آئی اے کے حکام نے اس سے قبل کمیٹی کو یقین دہانی کرائی تھی کہ صوبائی پولیس کی جانب سے پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی اور ایسے مقدمات این سی سی آئی اے کو منتقل کر د ئیے جائیں گے ۔ جس پر کمیٹی نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ ایک تفصیلی رپورٹ پیش کرے جس میں یہ واضح کیا گیا ہو کہ آیا صوبوں کی جانب سے کوئی مقدمات انہیں منتقل کئے گئے ہیں یا نہیں وہ وضاحت کرے کہ آیا ان کی طرف سے پیش کردہ اعداد و شمار مستند ہیں یا نہیں ، کمیٹی نے این سی سی آئی اے کو تصدیق شدہ اور تازہ ترین اعداد و شمار جمع کرانے کی ہدایت کردی ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...