جنگ کا نیا محاذ تیار : یمنی حوثیوں نے باب المندب کے قریب میزائل نصب کردیئے، عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کو بڑا خطرہ، امریکا اور ایران کے حملے جاری، ثالثی سے پیچھے نہیں ہٹے : پاکستان
حوثیوں کی سعودی تنصیبات ،ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانیکی دھمکی،ایران میں شہادتیں 30سے بڑھ گئیں،سیمنان ایئرپورٹ بھی نشانہ،بحرین کویت پر جوابی وار،بھارتی جہازرانوں کو ہرمز نہ جانیکی ہدایت زمینی فوج نہیں بھیج رہے ،اسرائیلی حکومت کے کچھ ارکان نے معاہدے کو روکنے اور امریکی عوام کی رائے بدلنے کی کوشش کی :وینس،عربوں کو واپس اونٹوں کے دور میں پہنچا دینگے :خاتم الانبیاہیڈ کوارٹرز
تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں )جنگ کا نیا محاذتیار ،یمنی حوثیوں نے باب المندب کے قریب میزائل نصب کر دئیے ، عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کو بڑا خطرہ ، امریکا اور ایران کے حملے جاری ، پاکستان نے واضح کیا ہے کہ ثالثی سے پیچھے نہیں ہٹے ۔ آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے تنازع پر امریکا اور ایران کے درمیان حملوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ،کویت اور بحرین کی افواج کے مطابق دونوں ممالک ایرانی فضائی حملوں کا نشانہ بنے ہیں، ایران کا کہنا ہے کہ اس نے کویت کے علی السالم فضائی اڈے پر ریڈار نظام، فضائی دفاعی نظام اور ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنایا، جبکہ بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر موجود امریکی تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے ۔ کویتی فوج نے ڈرون حملوں کی ایک نئی لہر کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا۔
امریکی حملوں کی دوسری لہر کے دوران تہران سمیت ایران کے متعدد شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا (ارنا)کے مطابق سیمنان ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے تصدیق کی ہے کہ ان امریکی حملوں میں 30 سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے واضح کیا ہے کہ کشیدگی کے باوجود پاکستان نے ثالثی سے ہاتھ کھڑے نہیں کیے ۔ انہوں نے کہا کہ امن کی جانب واپسی اسلام آباد ایم او یو کے خاکے کے تحت ہی ممکن ہے ۔ خطے میں تجارتی جہازوں پر حملوں میں دو بھارتی جہاز رانوں کی ہلاکت کے بعد، انڈیا نے اپنے جہاز رانوں کو تاحکمِ ثانی آبنائے ہرمز والے راستوں پر نہ جانے کی ہدایت کی ہے ۔علاوہ ازیں تین باخبر ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ایران نے یمن کی حوثی تحریک سے کہا ہے کہ اگر امریکا نے ایرانی بجلی اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے کیے ، تو وہ بحیرہ احمر کے تیل کی سپلائی کے راستے کو بند کرنے کے لیے تیار رہیں۔
اس اقدام سے عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی کو ایک نیا اور شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے ۔حوثیوں نے باب المندب کے قریب ڈرون اور میزائل نصب کر د ئیے ۔حوثی تحریک کے قریبی ایک ذریعے نے بتایا کہ گروپ نے بحری جہاز رانی پر حملوں کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ اس مقصد کے لیے یمن کے پہاڑی علاقوں، جو حدیدہ اور خلیج عدن پر نظر آتے ہیں، اور بحیرہ احمر کے داخلی راستے باب المندب کے قریب بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرونز تعینات کر دئیے گئے ہیں اور اب صرف کارروائی کا حکم ملنے کا انتظار ہے ۔ اس فیصلے کا حتمی کنٹرول یمن میں موجود ایرانی پاسداران انقلاب کے نمائندوں کے ہاتھ میں ہوگا۔سعودی عرب اپنی تیل کی برآمدات کا تقریباً 70 فیصد حصہ بحیرہ احمر پر واقع اپنی بندرگاہ ینبع کے ذریعے بھیجتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اگر یہ راستہ بھی بند یا متاثر ہوا تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو آگ لگ سکتی ہے ۔
یمن کے حوثی باغیوں نے جمعرات کو انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر دونوں فریقین کے درمیان جاری تنازع میں مزید شدت آتی ہے ، تو وہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائیں گے ۔ یہ دھمکی باغیوں کے زیرِ اثر دارالحکومت صنعاء کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حالیہ حملے کے چند دن بعد سامنے آئی ہے ۔حوثی تحریک کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا:"اگر سعودی عرب ہمارے ملک کے خلاف ایک مکمل جارحیت میں ملوث ہوتا ہے اور کشیدگی بڑھانے کی طرف قدم اٹھاتا ہے ، تو اس کی تمام تیل کی تنصیبات اور اہم تنصیبات ہمارے میزائلوں اور ڈرونز کے نشانے پر ہوں گی۔انہوں نے صنعاء ایئرپورٹ پر مستقبل میں ہونے والے کسی بھی حملے کے جواب میں ریاض کے ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنانے کی واضح دھمکی دی۔ان کا کہنا تھا کہ اصل مساوات یہ ہے :صنعاء ہوائی اڈے کے بدلے ریاض کا ہوائی اڈا، ہوائی اڈوں کے بدلے ہوائی اڈے ، بندرگاہوں کے بدلے بندرگاہیں، اور ناکہ بندی کے بدلے ناکہ بندی۔
مقبوضہ بیت المقدس،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک تہلکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے کچھ ارکان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے معاہدے کو روکنے اور امریکی عوام کی رائے بدلنے کی کوشش کی تھی،پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا میں بغیر کسی شک و شبہ کے یہ جانتا ہوں کہ اسرائیلی حکومت کے اندر کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو ہماری اس پالیسی کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ وہ فوجی مہم (جنگ)کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔وینس نے کہا کہ اسرائیل، روس یا کسی بھی دوسرے ملک کی جانب سے امریکی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کی کوششیں انہیں پریشان نہیں کرتیں کیونکہ 2026 میں ایک سیاسی رہنما ہونے کے ناطے یہ معمول کی بات ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تشویش تب ہوتی ہے جب یہ مہمات واقعی امریکا کے سیاسی فیصلوں کو متاثر کرنا شروع کر دیں۔جے ڈی وینس نے اسرائیل کی جانب سے ملنے والی تنقید پر سخت ردعمل دیتے ہوئے یاد دلایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی اسرائیل کے واحد حقیقی اتحادی ہیں، انہوں نے اسرائیل کو دی جانے والی اربوں ڈالر کی امریکی دفاعی امداد کا بھی حوالہ دیا،جب وینس سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل کے اثر و رسوخ کے بغیر امریکا حالیہ ایران جنگ میں شامل ہوتا؟ تو انہوں نے جواب دیا:جی ہاں، بالکل ہوتا۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی اثر و رسوخ سے ہٹ کر، امریکی صدر خود ذاتی طور پر اور مضبوطی سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ادھر اسرائیلی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس معاہدے کو اسرائیل کی سلامتی کے لیے برا اور نقصان دہ قرار دیا ہے کیونکہ ان کے مطابق اس میں اسرائیل کے بنیادی تحفظات کو دور نہیں کیا گیا۔
دریں اثنا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرا ن میں زمینی فوج بھیجنے کی خبروں کو مسترد کردیا، انہوں نے کہا امریکا ایران میں حکومت کی تبدیلی کیلئے زمینی فوج نہیں بھیجے گا، ایرانی عوام اپنے نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں تو یہ ان کا اپنا فیصلہ ہوگا، ،امریکا کی ترجیح آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا اور عالمی تیل و گیس کی بلا تعطل ترسیل یقینی بنانا ہے ۔واضح رہے کہ امریکی اخبار نے امریکی اہلکاروں کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ امریکا نے ایرانی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا تو ایران کے فولادی وار خطے میں امریکا کے بنیادی ڈھانچوں کا نشان مٹا دیں گے، اگر امریکا نے حملے جاری رکھے تو عرب ممالک کو اونٹوں کے دور میں واپس پہنچا دیا جائے گا۔
ایران کسی بھی امریکی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا، ایران کسی بھی صورت امریکا کو آبنائے ہرمز میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا، آبنائے ہرمز ایران کی ناقابل عبور سرخ لکیر ہے ۔ایران کے فوجی ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ اگر امریکی فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو جنگ نئے محاذوں تک پھیل سکتی ہے ، ایران نے ابھی اپنی تمام عسکری صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کیا ہے ۔ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی اکبر ولایتی نے کہا آبنائے ہرمز ایران کی ملکیت ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اسے ایران سے نہیں چھین سکتی،یہ آبی گزرگاہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جرات مندانہ اور دانشمندانہ قیادت میں ایران کی خودمختاری کے دائرے میں آئی ہے ،علی اکبر ولایتی نے اسے 40 روزہ جنگ کی ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments