میں نے بھی بال لگوائے ، کیا اس میں پلیسینٹا استعمال ہوا؟جج

میں نے بھی بال لگوائے ، کیا اس میں پلیسینٹا استعمال ہوا؟جج

میرا پِتا بھی نکالا گیا تھا، پَتا نہیں کہاں ہو گا؟ افضل مجوکہ، وکیل کے دلائل پر مکالمہ انسانی پلیسینٹا غیر قانونی خرید و فروخت کے چار ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد

اسلام آباد (اپنے نامہ نگارسے )ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے وفاقی دارالحکومت میں انسانی پلیسینٹا کی غیر قانونی خرید و فروخت کے کیس میں گرفتار 4 ملزمان کی ضمانت بعداز گرفتاری کی درخواستیں مستردکردیں۔ وکلا صفائی نے کہاکہ پلیسینٹا انسانی اعضا میں شمار نہیں ہوتا،پلیسینٹا کا میڈیکلی مثبت استعمال کیا جاتا ہے ، سر پر دوبارہ بال لگوانے کیلئے پلیسینٹا میں موجود ٹشوز کا استعمال ہوتا ہے ۔ جج افضل مجوکہ نے کہا میں نے بھی بال لگوائے ہیں تو  کیا اس میں بھی پلیسینٹا استعمال ہوا ہے۔

وکیل صفائی نے کہاکہ بال لگوانے کے میڈیکلی مختلف طریقہ کار ہیں۔ پِتا بھی اگر نکال دیا جائے تو وہ انسانی اعضا میں شامل نہیں ہوگا۔ جج افضل مجوکہ نے کہاکہ میرا بھی پِتا نکالا گیا تھا اب پتا نہیں کہاں ہوگا۔ وکیل صفائی نے کہاکہ سر کیا پَتا ایف آئی اے نے اس چکر میں بھی کسی ملزم کو پکڑ کر جیل بھجوا دیا ہو۔ پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایک ہزار سے زائد انسانی پلیسینٹا برآمد کیا گیا، ملزمان کو جائے وقوعہ سے گرفتار کیا گیا، میڈیکل ایکسپرٹس کی رپورٹس بھی عدالت میں جمع کرا دی ہیں، ضمانت بعداز گرفتاری کی درخواستیں مسترد کی جائیں۔ دلائل کے بعد عدالت نے درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور بعدازاں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے درخواستیں خارج کر دیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...