ماں، 3بچوں کی ہلاکت زہر خورانی سے ہوئی:پوسٹمارٹم رپورٹ

ماں، 3بچوں کی ہلاکت زہر خورانی سے ہوئی:پوسٹمارٹم رپورٹ

واقعے کا مقدمہ درج، آئسکریم یا کھانے میں زہریلی چیز دی گئی:والد ناصر بچے تڑپ رہے ، باپ گھر میں تھا، خاتون چلائی یہ ہمیں قتل کررہا:محلے دار

لاہور(کرائم رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور کے ویلنشیا ٹاؤن میں ماں اور 3 بچوں کی پراسرار ہلاکت کے واقعے میں لاشوں کی ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ سامنے آگئی ، ماں اور تینوں بچوں کا پوسٹمارٹم مکمل ہونے کے بعد لاشیں پولیس کے حوالے کردی گئی ہیں۔ ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق ماں اور بچوں کی اموات زہر خورانی سے ہوئی ، 2 بچوں کے کپڑوں پر قے کی باقیات موجود تھیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ چاروں کو زہر دیا گیا یا زہریلی شے سے اموات ہوئیں اس کا فیصلہ حتمی رپورٹ سے ہوگا۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ قتل کی دفعہ 302 کے تحت درج کر کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے ، جبکہ فرانزک شواہد اکٹھے کر کے تجزئیے کیلئے لیبارٹری بھجوا دئیے گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق مقدمہ سب انسپکٹر ضیغم عباس کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق کھانے سے حاصل نمونوں میں اہم ڈی این اے شواہد ملے ہیں، جنہیں فرانزک لیبارٹری بھجوا یا گیا ہے ۔ زہر کی نوعیت اور موت کی اصل وجہ کا تعین فرانزک رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کی ذہنی کیفیت، ادویات، کھانے پینے کی اشیا، موبائل فونز، فنگر پرنٹس اور دیگر تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے ۔پولیس نے خاتون کے امریکا اور کینیڈا میں مقیم رشتہ داروں سے بھی رابطہ کر لیا ہے تاکہ خاندانی پس منظر اور دیگر متعلقہ معلومات حاصل کی جا سکیں۔

اس حوالے سے محلے دار عرفان کاکہناتھا کہ بچوں کے رونے کی آواز سنی تو فوری گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا،گھر کے مالک سے بچوں کے رونے کے حوالے سے استفسار کیا، گھر کے مالک نے کہا میرے بچے فلم دیکھنے گئے ہیں، اسی دوران گھر کے مالک کی اہلیہ باہر آکر چلانے لگی،خاتون نے کہامجھے اور میرے بچوں کو بچا لیں، یہ ہمیں قتل کررہا ہے۔ محلے دار نے بتایا کہ گھر میں جا کر دیکھا تو 2بچے مردہ حالت میں پڑے تھے ،اس دوران خاتون کو بھی خون کی قے آئی اور وہ گر پڑی، خاتون کو نجی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دم توڑ گئی۔محلے دار کاکہناتھا کہ ناصر کے بچے تڑپ رہے تھے اور وہ گھر میں موجود تھا، سوسائٹی کی سکیورٹی ٹیم کو بلایا اور پولیس کو بھی اطلاع دی،بظاہر قتل میاں بیوی کے جھگڑے کی وجہ سے ہوئے ہیں۔

پولیس نے گھر کے برتنوں، ڈریسنگ ٹیبل، دروازوں کے ہینڈلز اور دیگر مقامات سے فنگر پرنٹس بھی حاصل کیے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اہل خانہ کے علاوہ کوئی اور شخص بھی گھر میں داخل ہوا تھا یا نہیں۔ بچوں کے والد ناصر ڈوگر کا موبائل فون بھی فرانزک تجزئیے کیلئے قبضے میں لے لیا گیا ہے ۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے مزاحمت یا زبردستی داخل ہونے کے کوئی واضح شواہد نہیں ملے ، جس کے باعث تفتیش کا مرکز گھر کے اندر پیش آنے والے حالات پر رکھا گیا ہے ۔دوسری جانب پولیس نے بچوں کے والد ناصر ڈوگر کا تفصیلی بیان بھی قلمبند کر لیا ہے ۔ ناصر کہنا ہے کہ اس کی اہلیہ گزشتہ تین برس سے ذہنی بیماری کا شکار تھی اور چھ ماہ قبل اس نے ادویات لینا چھوڑ دی تھیں۔ ناصر ڈوگر نے اپنے بیان میں کہا ممکنہ طور پر بچوں کو آئس کریم یا کسی کھانے کی چیز میں زہریلا چیز دی گئی ہے ۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کو ذمہ دار قرار دینا قبل از وقت ہوگا ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...