فیملی مقدمات 6 ماہ کے اندر نمٹانا لازمی : لاہور ہائیکورٹ کا ماتحت عدلیہ کو حکم

فیملی مقدمات 6 ماہ کے اندر نمٹانا لازمی : لاہور ہائیکورٹ کا ماتحت عدلیہ کو حکم

خلع، حق مہر، نان نفقہ مقدمات میں غیر ضروری تاخیر پر فیصلہ جاری،چھ ماہ سے زیر التوا کیسز کی رپورٹ طلب فیملی ججز درخواستوں پر فوری سماعت کر کے اسی روز فیصلہ کرنے کی فعال پالیسی اپنائیں :جسٹس محسن اختر کیانی

 لاہور(کورٹ رپورٹر )لاہور ہائی کورٹ نے خلع، حق مہر، نان نفقہ اور دیگر فیملی مقدمات میں غیر ضروری تاخیر پر تحریری فیصلہ  جاری کرتے ہوئے پنجاب بھر کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز سے 6 ماہ سے زائد عرصے سے زیر التوا فیملی مقدمات کی رپورٹ طلب کرنے کی ہدایت کردی ۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ فیملی قانون کے تحت مقدمات کا فیصلہ 6 ماہ کے اندر لازمی ہے ، غیر ضروری التوا انصاف کی فراہمی میں سنگین رکاوٹ اور قانون کے بنیادی مقصد کے منافی ہے ، میاں بیوی کے تنازعات کا فوری حل قانون کا تقاضا ہے ، فیملی عدالتیں سول پروسیجر کوڈ اور قانونِ شہادت کی تکنیکی پیچیدگیوں کی پابند نہیں، اس لئے تکنیکی نکات کی بنیاد پر تاخیر نہیں کی جا سکتی۔

عدالت نے مقدمے کو پورے پنجاب کیلئے ٹیسٹ کیس قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقررہ مدت میں مقدمات کا فیصلہ نہ کرنے والے ججز سے وجوہات طلب کی جائیں،زیر التوا مقدمات جلد نمٹانے اور غیر ضروری تاریخیں دینے کا روایتی طریقہ ترک کرنے کی بھی ہدایت کی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ فیملی ججز درخواستوں پر فوری سماعت کر کے اسی روز فیصلہ کرنے کی فعال پالیسی اپنائیں جبکہ درخواست گزاروں کی جانب سے بار بار التوا اور تاخیری حربے اختیار کرنا افسوسناک ہے ۔ لاہور ہائیکورٹ نے کیس میں تاخیر کرنے والے سائل کی رٹ پٹیشن خارج کرتے ہوئے متعلقہ فیملی کورٹ کو 15 روز کے اندر روزانہ کی بنیاد پر سماعت مکمل کر کے فیصلہ کرنے ، رجسٹرار ہائیکورٹ کو عملدرآمد رپورٹ ڈائریکٹر جنرل ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے ذریعے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...