وفاقی افسروں کیلئے غیر ملکی شہریت کی معلومات دینا لازمی

وفاقی افسروں کیلئے غیر ملکی  شہریت کی معلومات دینا لازمی

اسلام آباد (نیوز رپورٹر) اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وفاقی سروس کے 17 تا 22 گریڈ کے 25 ہزار سے زیادہ افسران کو سالانہ بنیادوں پر غیر ملکی شہریت کی معلومات فراہم کرنا لازمی قرار دیا ہے۔

افسران کو سالانہ بنیادوں پر غیر ملکی شہریت اور بیرونِ ملک سفر کی معلومات فراہم کرنے کے لیے الگ الگ مخصوص پروفارما جاری کیے گئے ہیں۔ وفاقی سروس گروپ کے افسران اور اہلِ خانہ کی غیر ملکی شہریت اور 90 دن میں بیرونِ ملک سفر کی تفصیل فراہم کرنے کے لیے بھی مخصوص پروفارما جاری کیا گیا ہے ۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے احکامات کے مطابق متعلقہ افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ سول سرونٹس (ڈسکلوژر اینڈ ریگولیشن آف فارن نیشنلٹی) قانون کے تحت پروفارما پر اپنے کوائف سالانہ بنیادوں پر جمع کرائیں اور 90 دن میں بیرونِ ملک سفر کی تفصیل بھی فراہم کریں۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے جاری کردہ ڈیکلریشن فارم میں افسران کو ذاتی تفصیل، نام، ولدیت، عہدہ، بی پی ایس، سروس گروپ، متعلقہ وزارت یا ڈویژن، شناختی کارڈ نمبر اور موجودہ تعیناتی کی جگہ کا اندراج کرنا ہوگا۔

اس کے ساتھ افسران کو یہ معلومات بھی دینی ہوں گی کہ مذکورہ افسر یا ان کے زیرِ کفالت افراد کسی دوسرے ملک کے شہری ہیں یا ان کے پاس کسی دوسرے ملک کا پاسپورٹ، رہائشی اجازت نامہ، مستقل رہائشی کارڈ یا شہریت کی طرف لے جانے والی کوئی دوسری سفری دستاویز موجود ہے ۔ اگر ایسی کوئی دستاویز موجود ہے تو فارم میں اس کی مکمل تفصیل اور ریفرنس نمبر فراہم کرنا لازمی ہوگا۔ڈیکلریشن فارم میں غیر ملکی شہری سے شادی کے حوالے سے افسران کو بتانا ہوگا کہ وہ کسی غیر ملکی خاتون یا مرد سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہیں یا نہیں۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے احکامات کے مطابق اگر کسی سول سرونٹ نے غیر ملکی شہری سے شادی کی ہے تو اسے یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ آیا اس نے گورنمنٹ سرونٹس (میرج ود فارن نیشنلز) رولز 1962 کے تحت حکومت سے پیشگی اجازت یا منظوری حاصل کی ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ شریکِ حیات اور زیرِ کفالت افراد کی غیر ملکیوں سے شادی سے متعلق تفصیل، تاریخ اور حکومتی منظوری کا نمبر بھی ڈیکلریشن کا حصہ بنانا ہوگا۔جاری کردہ فارم میں حلف نامہ (انڈرٹیکنگ) بھی شامل کیا گیا ہے جس کے تحت تمام سول سرونٹس یہ تصدیق کرنے کے پابند ہوں گے کہ ان کی فراہم کردہ تمام معلومات درست، مکمل اور حقائق پر مبنی ہیں۔ دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی بھی سرکاری ملازم کی جانب سے غلط یا گمراہ کن معلومات فراہم کی گئیں تو اس کے خلاف مروجہ قوانین، قواعد و ضوابط کے تحت تادیبی کارروائی (ڈسپلنری پروسیڈنگز) عمل میں لائی جائے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...