آغازِ حقوق بلوچستان پیکیج ،عملدرآمد کا جائزہ لینے کیلئے ذیلی کمیٹی قائم

   آغازِ حقوق بلوچستان پیکیج ،عملدرآمد کا جائزہ لینے کیلئے ذیلی کمیٹی قائم

سینیٹ فنکشنل کمیٹی کی بلوچستان،پختونخوا، سندھ کے منصوبوں میں تاخیر پر تشویش

 اسلام آباد (سیدقیصرشاہ)سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقوں کے مسائل نے ملک بھر خصوصاً بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آغازِ حقوق بلوچستان پیکیج پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کیلئے سینیٹر جان محمد خان کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی قائم کر دی جو تفصیلی جائزہ لے کر اپنی سفارشات مرکزی کمیٹی کو پیش کرے گی۔یہ فیصلہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت سینیٹر نیاز احمد نے کی۔ کمیٹی نے وفاقی وزیر مواصلات اور سیکرٹری مواصلات کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا۔

اجلاس میں این-45 منصوبے پر بریفنگ میں این ایچ اے حکام نے بتایا کہ منصوبہ کوریا ایکزم بینک کے تعاون سے مکمل کیا جا رہا ہے ، مالی سال 2026-27 کے پی ایس ڈی پی میں اس کے لیے 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سینیٹر طلحہ محمود نے غیر معمولی تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا اور سفارش کی کہ کوریا ایکزم بینک کو باضابطہ خط لکھ کر تاخیر کی وجوہات معلوم کی جائیں ۔سینیٹر دانش کمار نے بھی متعدد ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر پر تشویش ظاہر کی ۔سینیٹر جان محمد خان نے سفارش کی کہ این ایچ اے کے افسر فضائی سفر کے بجائے سڑک کے ذریعے منصوبوں کا معائنہ کریں ۔ سینیٹر اسلم ابڑو نے راجن پور۔جامشورو روڈ، سندھ میں سڑکوں کے معیار اور ایم-6 موٹروے منصوبے میں تاخیر پر بھی سوالات اٹھائے ۔ کمیٹی نے کراچی پورٹ سے حیدرآباد تک ایم 10 کوریڈور پر موٹروے کے مساوی ٹول ٹیکس وصول کرنے پر بھی تشویش ظاہر کی اور سفارش کی کہ ٹول ٹیکس کم کیا جائے یا موٹرویز جیسی سہولیات فراہم کی جائیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...