ٹی ایل پی الیکشن کیلئے نااہل نشان بھی واپس لے لیاگیا
اسلام آباد (نیوز رپورٹر)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی)کو انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے اور آئینی تقاضے پورے نہ کرنے پر انتخابی جماعت کے طور پر نا اہل قرار دیتے ہوئے انتخابی نشان ‘‘کرین’’واپس لے لیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے گزشتہ روز فیصلہ جاری کیا ہے ، فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ جماعت مقررہ وقت میں شفاف اور منصفانہ انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کروا سکی ہے ۔الیکشن کمیشن کے تحریری فیصلے کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کے آخری انٹرا پارٹی انتخابات اٹھائیس دسمبر دو ہزار اکیس کو چار سال کی مدت کے لیے ہوئے تھے ، جس کی معیاد اٹھائیس دسمبر دو ہزار پچیس کو ختم ہو گئی تھی، کمیشن کی جانب سے وقت پر انتخابات کرانے کے لیے متعدد نوٹسز بھیجے جانے کے باوجود جماعت نے کوئی جواب نہیں دیا، جس پر کمیشن نے الیکشن ایکٹ2017کے تحت کارروائی شروع کی۔کیس کی سماعت کے دوران تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے پیش کیے جانے والے دلائل اور دستاویزات کو الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیا۔ ٹی ایل پی کے نمائندوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے جولائی دو ہزار چھبیس میں انٹرا پارٹی انتخابات مکمل کر لیے ہیں اور تمام عہدیداران بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں، تاہم کمیشن نے ان دستاویزات کی قانونی حیثیت کو مشکوک قرار دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے شیڈول کے بارے میں الیکشن کمیشن کو پندرہ دن پہلے مطلع کرنا لازمی تھا، لیکن یہ مبینہ انتخابات محض گیارہ دنوں کے اندر الیکشن کمیشن کو بتائے بغیر کرا لیے گئے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments