بڑی جماعتیں آزاد کشمیر کا انتخابی معرکہ سر کرنے کیلئے متحرک

بڑی جماعتیں آزاد کشمیر کا انتخابی معرکہ سر کرنے کیلئے متحرک

کوئی سادہ اکثریت کی پوزیشن میں نہیں،ن لیگ کامہاجرین کی نشستوں پر انحصار

(تجزیہ:سلمان غنی)

 گلگت بلتستان کے انتخابی عمل کے بعد 27 جولائی کو آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابی معرکے میں پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ بڑی تعداد میں آزاد امیدوار سرگرم عمل ہیں ، یہاں انتخابی نتائج کو اپنے حق میں کرنے کیلئے جہاں بڑی سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ اور ذمہ داران دن رات ایک کرتے دکھائی دے رہے ہیں، وہیں امیدواروں کی جانب سے بے انتہا روپے پیسے اور وسائل کا استعمال ہو رہا ہے ۔ اس مرحلہ پر مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی سمیت متعدد جماعتیں انتخابی مہم میں سرگرم عمل ہیں، تاہم پی ٹی آئی کے انتخابی بائیکاٹ کے باوجود ان کے سابق امیدوار آزاد حیثیت میں میدان میں ہیں اور غیر علانیہ طور پر پی ٹی آئی کارکن ان کیلئے سرگرم عمل ہیں۔ قبل از وقت انتخابی نتائج بارے حتمی رائے تو نہیں دی جاسکتی لیکن وفاقی حکومت کا حصہ ہونے کے باعث مسلم لیگ ن کی برتری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ پیپلزپارٹی بھی برتری کیلئے زور آزمائی کر رہی ہے ۔

انتخابی عمل میں استحکام پاکستان پارٹی کے سرگرم ہونے کے بعد یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ آزاد کشمیر میں جو بھی پارٹی حکومت بنائے گی وہ اسلام آباد میں قائم حکومتی اتحاد کا ہی حصہ ہوگی۔صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو آزاد کشمیر کی کل 53 نشستیں ہیں جن میں عام سیٹیں33 ،پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی 12اور 8مخصوص (خواتین5 ، ٹیکنوکریٹ1، علماء 1اور اوورسیزکشمیریوں کی 1)نشستیں ہیں اور کوئی بھی جماعت سادہ اکثریت حاصل کرتی نظر نہیں آ رہی ۔ امکان یہی ہے کہ گلگت بلتستان کی طرح یہاں بھی مخلو ط حکومت ہی بنے گی ، البتہ حکومت بنانے کیلئے کم ازکم اکثریت 27 درکار ہوگی ۔ اطلاعات کے مطابق آزاد جموں وکشمیر میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں کے باعث تناؤ کی صورتحال تو محسوس کی جا رہی ہے لیکن ہر دن انتخابی گہما گہمی بڑھ رہی ہے ، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کوشش ہوگی وہ ووٹنگ کیلئے عوام کو پولنگ سٹیشنز پر نہ جانے دیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے پی ٹی آئی کوانتخابی بائیکاٹ کا نقصان ہوا جبکہ انتخابی عمل میں سیاسی جماعتیں اپنی تقاریر میں کشمیری عوام کو درپیش مہنگائی، بجلی، روزگار، ترقیاتی منصوبے اور گورننس جیسے مسائل کو اجاگر کرتی دکھائی دے رہی ہیں ، فی الحال الیکشن میں ووٹنگ کی شرح کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ،لیکن عام طور پر ووٹرز ٹرن آؤٹ پاکستان کے دیگر علاقوں کے مقابلہ میں نسبتاً زیادہ ہوتا ہے ۔مبصرین کے نزدیک کشمیر میں پیدا تناؤ کی کیفیت کے باعث موجودہ الیکشن میں ٹرن آؤٹ ماضی کے مقابلہ میں کم ہوسکتا ہے ، دوسری طرف آخر مرحلہ پر استحکام پاکستان پارٹی کی انٹری کے بعد یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسے کشمیری مہاجرین کی 12نشستوں میں سے بھی حصہ مل سکتا ہے جہاں متعدد آزادامیدوار سرگرم ہیں ، ان 12 نشستوں کو آزاد کشمیر کی حکومت سازی کے حوالہ سے اہم قرار دیا جاتا ہے اور مسلم لیگ ن کا انحصار بھی زیادہ تر انہیں نشستوں پر ہوتاہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...