بھارت سے پانی چھوڑنے کی اطلاع نہیں، سیلابی صورتحال بارشوں کے باعث : انڈس واٹر کمشنر
بھارت فلڈ ڈیٹا نہیں دے رہا، اپنے ذرائع سے آبی صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں:سیکرٹری آبی وسائل کی کمیٹی کو بریفنگ کل تک مزید بارشوں کی پیش گوئی ، پنجاب، سندھ کے سیکرٹریز ایریگیشن ،محکمہ موسمیات کے افسران کی عدم شرکت پر کمیٹی برہم
اسلام آباد (سہیل خان) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس چیئرمین سینیٹر جام سیف اللہ خان کی زیرصدارت ہوا جس میں وفاقی فلڈ کمیشن نے ملک کی موجودہ سیلابی صورتحال اور مون سون کے دوران حفاظتی اقدامات پر بریفنگ دی۔چیئرمین کمیٹی نے سیلاب سے نمٹنے کی تیاریوں پر استفسار کیا جس پر سیکرٹری وزارت آبی وسائل نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل ہونے کے باعث فلڈ ڈیٹا فراہم نہیں کیا جا رہا، تاہم پاکستان اپنے ذرائع سے آبی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے ۔ انڈس واٹر کمشنر نے واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کی کوئی اطلاع نہیں، موجودہ سیلابی صورتحال صرف بارشوں کے باعث ہے۔
فلڈ کمیشن نے بتایا کہ دریائے چناب میں قادرآباد اور تریموں کے مقام پر ہائی فلڈ جبکہ تربیلا، چشمہ اور نوشہرہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ہے ۔ زیادہ تر دریاؤں اور بیراجوں پر پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے ۔ حکام کے مطابق بھارت کے تھین، پونگ اور بھاکڑا ڈیم اب بھی نصف سے کم یا قریباً نصف بھرے ہوئے ہیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2 سے 20 جولائی کے دوران گلگت بلتستان، چترال، غذر، اپر دیر، خیبر، شانگلہ، مردان، باجوڑ، سیالکوٹ، اٹک، ڈی جی خان، لیاقت پور اور تیمرگرہ میں فلیش فلڈ، گلیشیئر جھیل پھٹنے ، کلاؤڈ برسٹ اور دریائی کٹاؤ کے متعدد واقعات پیش آئے جبکہ 18 سے 25 جولائی کے دوران مزید موسلا دھار بارشوں کی پیش گوئی ہے۔
کمیٹی نے پنجاب ایریگیشن کے چیف انجینئر کی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت اور محکمہ موسمیات کے افسران کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کیااور کارروائی کا انتباہ جاری کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں متعلقہ سیکرٹریز اور افسران کی ذاتی شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔این ڈی ایم اے نے بتایا کہ مرالہ کے مقام پر ہائی فلڈ ہے اور دریاؤں کے ریور بیڈ بلند ہونے سے سیلاب کی شدت میں اضافہ ہوا ہے جس پر نئی سٹڈی کی جائے گی۔ حکام کے مطابق گلیشیئرز کی نگرانی کے لیے قائم ڈیش بورڈ سے بروقت وارننگ جاری کی جا رہی ہے جبکہ دریائے ستلج اور چناب کے لیے 24 گھنٹے قبل فلڈ فورکاسٹنگ کا نظام بھی فعال ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments