کرپشن کے سمندر میں پھینک دیا گیا،میرے ہاتھ تو کھولیں:چیئرمین نیب:الفاظ سے لگتا ہے سارا ملک ہی کرپٹ:چیئرمین قائمہ کمیٹی

کرپشن کے سمندر میں پھینک دیا گیا،میرے ہاتھ تو کھولیں:چیئرمین نیب:الفاظ  سے  لگتا ہے  سارا ملک  ہی  کرپٹ:چیئرمین  قائمہ  کمیٹی

حکومت کو لکھا کہ کارروائی کیلئے 50 کروڑ کی بجائے 20 کروڑ حد رکھی جائے لیکن الٹ ہوگیا ،جو کرپشن کیخلاف زیادہ آواز اٹھاتا ہے زیادہ سامان اسکے گھر سے ملتا ہے : لیفٹیننٹ جنرل (ر)نذیر بٹ نیلم جہلم منصوبہ ابھی مکمل نہیں ہوا، نیب کو چاہئے ان معاملات کو بھی دیکھے :فاروق ایچ نائیک،سینیٹر عبدالقادر کاآئی پی پیزکی تحقیقات پرسوال ،کمیٹی کیس بھیجے مایوس نہیں کریں گے :چیئرمین نیب

اسلام آباد(دنیا نیوز،نیوز ایجنسیاں) چیئرمین نیب نذیر احمد بٹ کا کہنا ہے کرپشن کے سمندر میں پھینک دیا گیا ہے ، میرے ہاتھ توکھولیں،مجھے 4 ماہ کا وقت دیا جائے تیل، بجلی سمیت سب کچھ ٹھیک کر دوں گا، مینڈیٹ دیں اور ہائی لیول کمیٹی بنائی جائے ، کرپشن کیسز میں سیاستدانوں کی شرح 6 فیصد اور گورنمنٹ آفیشلز 11 فیصد ہے ، آئی پی پی پیز، شوگر سیکٹر میں بہت زیارہ کرپشن ہو رہی ہے ، کرپشن کے سمندر کے ساتھ ڈیل کرنا ہے ۔ حکومت کو لکھا کہ کارروائی کیلئے 50 کروڑ کی بجائے 20 کروڑ حد رکھی جائے لیکن الٹ ہوگیا ،جو کرپشن کیخلاف زیادہ آواز اٹھاتا ہے زیادہ سامان اسکے گھر سے ملتا ہے ۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس ہوا جس میں کمیٹی کی ہدایات پر چیئرمین نیب نذیر احمد بٹ پیش ہوئے ۔ اجلاس کے آغاز میں چیئرمین کمیٹی نے چیئرمین نیب سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا "چیئرمین صاحب آپ شاید پہلی دفعہ کمیٹی میں آئے ہیں"۔ چیئرمین نیب نے جواب دیا "سر میں بطور چیئرمین نیب پہلی دفعہ آیا ہوں، جو ذمہ داری اس سے پہلے انجام دے رہا تھا اس میں پتا نہیں کتنی دفعہ آیا ہوں"۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ ذمہ داری 2023 میں سونپی گئی تھی اور اس وقت ہر ملنے والے وزیر نے یہی شکایت کی کہ بیوروکریسی ڈرتی ہے اور کام نہیں کرتی۔

چیئرمین نیب نے کمیٹی کوبریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ تیل، بجلی سمیت بڑے بحرانوں کا حل موجود ہے جس میں 4 ماہ کا وقت درکار ہے ، میں چار ماہ کا وقت بھی زیادہ مانگ رہا ہوں ، اس سے کم وقت میں حل کر دوں گا، مجھے مینڈیٹ دیا جائے اور ہائی لیول کمیٹی بنائی جائے ، ایف بی آر، ایس ای سی پی، مسابقتی کمیشن کے لوگ کمیٹی میں شامل کیے جائیں ، جو پراجیکٹ بناؤں گا وہ زمینی حقائق پر مقامی تیار شدہ ہو گا۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے چیئرمین نیب سے سوال کیا "آپ نے باقی سب تو بتا دیا، جو سیاسی کیسز کا الزام لگتا ہے اس کا کیا؟"۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ جب سے وہ آئے ہیں کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔2022-23 سے پہلے والا انوائرمنٹ بہت مختلف تھا، گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں کسی پولیٹیکل شخصیت پر کیس نہیں بنا۔ کامران مرتضیٰ نے ماضی کے معاملات پر جواب طلب کیا تو چیئرمین نیب نے کہا "کاش میں آپ کے سامنے ماضی کا بھی جوابدہ ہوتا"۔ اس پر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ وہ ایک ادارے کے طور پر جواب دیں ،کیا ان کے آنے کے بعد کرپشن میں کمی ہوئی؟ چیئرمین نیب نے جواب دیا "آپ نے مجھے ہاتھ باندھ کر کرپشن کے سمندر میں پھینک دیا، میرے ہاتھ تو کھولیں نا"۔چیئرمین کمیٹی نے "کرپشن کا سمندر" کے الفاظ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تاثر ملتا ہے کہ سارا پاکستان ہی کرپٹ ہے ۔ سینیٹر کامران نے کہا کہ نیب کو چاہیے تھا کہ وہ حکومت کو تحریری طور پر بتاتا کہ کون سی ترامیم سیاسی ہیں اور انہیں واپس لیا جائے ۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ انہوں نے حکومت کو تجاویز دیں لیکن کچھ چیزیں کانفیڈینشل ہیں۔ انہوں نے لکھ کر بھیجا کہ کارروائی کے لیے 50 کروڑ کی حد کم کر کے 15 یا 20 کروڑ رکھی جائے لیکن نتیجہ الٹا آیا اور حد مزید بڑھا دی گئی۔

چیئرمین کمیٹی فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ نیب کو چھوٹی موٹی کرپشن چھوڑ کر بڑے کرپشن سکینڈلز پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ نیب میگا کرپشن کے لیے بنایا گیا تھا، چھوٹی کرپشن کے لیے ہر صوبے میں اینٹی کرپشن موجود ہے ۔ انہوں نے نیلم جہلم منصوبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 12-13 سو ارب لگا کر بھی منصوبہ مکمل نہیں ہوا، یہ وہ معاملات ہیں جنہیں نیب کو دیکھنا چاہیے ۔ سینیٹر عبدالقادر نے آئی پی پیز منصوبوں کی تحقیقات کا سوال اٹھایا تو چیئرمین نیب نے کہا کہ اگر کمیٹی یہ کیس بھیجے تو وہ مایوس نہیں کریں گے ۔ فاروق ایچ نائیک نے وضاحت کی کہ کسی منصوبے کی فورم سے منظوری کے بعد اگر کرپشن ہو تو نیب کارروائی کر سکتا ہے ۔پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ کمیٹی جو بھی کیس بھیجے گی اس پر کارروائی کی جائے گی جس پر کامران مرتضیٰ نے کہا "یہاں 2023 میں کوئی سیاستدان یا بیوروکریٹ کام کرنے پر تیار نہیں تھا"۔ چیئرمین نیب نے کہا بطور معاشرہ ہم اتنے ہی کرپٹ ہیں جتنا کوئی اور ملک ہے اور اب کوشش ہے کہ کیس چلانے کے بجائے لوٹی ہوئی رقم واپس نکلوائی جائے ، ہم متعلقہ افراد کو بلا کر بتاتے ہیں کہ یہ رقم چوری کی ہے اسے واپس جمع کراؤ۔آخر میں چیئرمین نیب نے ایک دلچسپ تجربہ بھی شیئر کیا اور کہا "بخدا میرا ایک تجربہ ہوگیا ہے ، جو کرپشن کے خلاف زیادہ آواز اٹھاتا ہے اسی کے گھر سے زیادہ سامان ملتا ہے "۔

نیب حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے 1999 سے لیکر جون 2026 تک 16 ہزار 93 ارب روپے کی ریکوریاں کی ہیں، گزشتہ 36 برسوں کے دوران 5 لاکھ 5 ہزار 799 شکایات کو نیب نے دیکھا ہے ۔ ڈی جی نیب نے بتایا کہ 1999 سے اب تک نیب نے 7 ہزار 339 انویسٹی گیشن مکمل کیں، 1 لاکھ 21 ہزار 147 انکوائری کیں اور 4 ہزار 105 ریفرنسز دائر کیے ۔ گزشتہ ساڑھے برسوں کے دوران نیب کو ساڑھے 22 ارب روپے کا بجٹ ملا ، اتنے کم بجٹ میں سب سے زیارہ ریکوریاں کرنے پر نیب سرفہرست ہے ۔ ڈی جی نیب آپریشنز کاکہنا تھا2022 سے 2024 تک کیسز کی شفٹنگ بہت زیادہ ہوئی ، نیب 50 کروڑ سے چھوٹی رقم کی خردبرد کے کیسز کو ڈیل نہیں کرتا۔ چیئرمین کمیٹی فاروق ایچ نائیک نے کہانیب میں غلط شکایات درج کرنے کے باعث لوگوں کا اعتماد ختم ہوا، جھوٹی شکایات کرنے والے کیخلاف قانونی جارہ جوئی کرنا ضروری ہے ۔ 

ڈی جی نیب نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم نے اکنامک ریفامز ایکشن کے تحت 30 اداروں کی اسسمنٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے ،نیب 30 وفاقی اداروں کی اسسمنٹ سٹڈی اکتوبر میں جاری کرے گا، جس ادارے میں جتنی زیادہ اخراجات میں کرپشن ہو گی ان کی رینکنگ کی جائے گی، رینکنگ کی بنیاد پر نیب ان اداروں کی سخت مانیٹرنگ کرے گا، اکتوبر میں 30 وفاقی اداروں کی رپورٹ پبلک کی جائے گی، وفاقی اداروں کی اسسمنٹ کیلئے سٹڈی شروع ہو چکی ہے ، نیب قوانین میں ترمیم کیلئے تجاویز بھی فراہم کی ہیں جو ابھی شامل نہیں ہوئیں۔ کمیٹی کاکہنا تھانیب قوانین میں بہتری کیلئے تجاویز فراہم دیں آئندہ قانون سازی میں جائزہ لیں گے ۔ چیئرمین نیب کاکہنا تھانیب میں لوگ زیادہ اچھے ہیں جبکہ اسسمنٹ بُری بن چکی ہے ، 2022 میں سیاستدان، وزراء، بیوروکریٹس، کاروباری لوگ کام کرنے کیلئے تیار نہیں تھے ، ادارے میں کمزوریاں ہیں جن کو دور کرنے کی ضرورت ہے اب بہتری ہو رہی ہے ۔

 علاوہ ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین فاروق ایچ نائیک نے کہا ہم نے سنا ہے نیلم جہلم منصوبے میں فنڈز کا غلط استعمال ہوا ہے ، یہ بھی سنا ہے کہ منصوبے میں دراڑ آگئی ہے اور ابھی دوبارہ شروع ہی نہیں ہوا۔نیلم جہلم سمیت دیگر منصوبوں میں جہاں قوم کا نقصان ہو رہا ہے یہ معاملات نیب کو دیکھنے چاہئیں، نیب کو وہ معاملات دیکھنے چاہئیں جن میں قوم کانقصان ہو رہا ہے ۔ ججز کی تعیناتی کی سمری صدر کے پاس ہے ، انہوں نے اس پر فیصلہ کرنا ہے ، میں جوڈیشل کمیشن کا ممبر ہوں اس لیے اس پر اپنی رائے نہیں دوں گا۔ جب فاروق ایچ نائیک سے سوال کیا گیا کہ کمیٹی اجلاس میں بڑے اداروں میں کرپشن پر گفتگو ہوئی؟کیا اس پر رپورٹ طلب کریں گے ؟ تو انہوں نے کہا قانون میں لکھا ہے کہ کابینہ کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا، اگر کابینہ کے فیصلے کے بعد کوئی اختیار کا غلط استعمال کرتا ہے تو اس پر کارروائی ہوسکتی ہے ۔صحافی نے سوال پر کیا کہ کیا کمیٹی نیلم جہلم منصوبے میں مبینہ کرپشن کا معاملہ نیب کو بھیجے گی؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا ابھی تو ایک سیشن ہوا ہے ، ابھی اس پر مزید اجلاس ہوں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...