اصل لڑائی اسلام آباد اور لاہور کی،خاندان کا مسئلہ،حکومت جانیوالی:بلاول بھٹو

اصل  لڑائی  اسلام  آباد  اور  لاہور  کی،خاندان  کا  مسئلہ،حکومت  جانیوالی:بلاول  بھٹو

عوام کی حاکمیت تسلیم کرنے تک سسٹم نہیں چلے گا ،ن لیگ ووٹ کی عزت کرے ، دھاندلی اور خونیں الیکشن نامنظور کشمیر کی تاریخ میں اتنا سخت وقت کبھی نہیں دیکھا ،کمیشن کے قیام تک احتجاج اور کارروائیاں ہونی چاہئیں:باغ میں خطاب

باغ ،مظفرآباد(بیورورپورٹ،مانیٹرنگ ڈیسک)  چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مجھے وزیراعظم سے کوئی شکایت نہیں، ن لیگ اور پی پی کی لڑائی تو ہوتی رہتی ہے اصل لڑائی کچھ اور ہے ، اصل لڑائی تو اسلام آباد اور لاہور کی ہے یہ ان کے خاندان کا اپنا مسئلہ ہے وہ لڑنا چاہتے ہیں تو لڑیں، وزیراعظم کے اردگرد موجود لوگوں کی نیت صاف نہیں، ن لیگ حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے اور یہ گنتی پیپلز پارٹی نے شروع نہیں کی ان کے اپنے لوگوں نے شروع کروائی، جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ حکومت پانچ سال پورے کرے گی انہیں خود یقین نہیں ہے جبکہ حکومت جانیوالی ہے ۔جب تک عوام کی حاکمیت تسلیم نہیں کریں گے تب تک سسٹم نہیں چل پائے گا، ن لیگ ووٹ کی عزت کرے جس کا ووٹ ہے اس کو پہنچے ، ہمیں یہ دھاندلی اور خونیں الیکشن نامنظور ہے ۔آزاد کشمیر باغ میں پیپلز پارٹی کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ن لیگ کا ایک خاص حصہ ایسا ہے جو ن لیگ کے منصوبے ناکام کراتا ہے ، وہ اپوزیشن سمیت اتحادیوں سے بھی لڑانا چاہتا ہے ، میں آپ کا اتحادی ہوں اسلام آباد میں بیٹھا ہوں یہ کیا بات ہے میرے ووٹ چوری کیے جائیں، کارکن کو شہید کیا جائے ، میرے ایم این اے کے بازو میں گولی ماری جائے ، آزاد کشمیر کے صدر پر حملہ ہو، یہ تو کوئی اتحاد نہیں، آخر مسئلہ کیا ہے ۔

کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پچاس دن تک انٹرنیٹ بند ہو، کشمیر کی تاریخ میں اتنا سخت وقت کبھی نہیں دیکھا،سسٹم اگر ناکام ہوچکا تو اس کی بڑی مثال آزاد کشمیر ہے ۔ حکومت اور احتجاج کرنے والوں سے تعلق نہیں، بس چاہتے ہیں عوام کو حقوق ملیں، مشکل وقت کا بوجھ پونچھ ڈویژن کے عوام اٹھا رہے ہیں۔ نئے صوبوں کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ یہ تجویز اس وقت ہوگی جب آپ کے پاس بنیادی حقوق موجود ہوں، جو ملک اپنے عوام پر بھروسہ نہ کرے تو عوام ان پر کیسے بھروسہ کرینگے ؟ یہ نظام ناکام نہیں ہوا اسے ناکام کرایا گیا۔ میں عوام کو چوری شدہ الیکشن واپس دلاؤں گا، ن لیگ کی غلط فہمی کے وہ آزاد کشمیر میں حکومت بنالے گی، یہ نہ ٹروتھ کمیشن بنانے کو تیار ہیں اور نہ شفاف الیکشن کے لیے ۔کمیشن کے قیام تک احتجاج کرنے والے احتجاج اور کارروائی کرنے والے کارروائیاں بند کریں ،اگر ہم سے لڑائی چھیڑنی ہے تو چھیڑیں، میں تو چاہوں گا ہمیں اس حکومت سے آزاد کریں ،میں اگر اپوزیشن میں ہوتا تو انہیں لگ پتا جاتا،کشمیر ایک ہے تو الیکشن بھی ایک ہی دن ہونے چاہئیں تھے ،تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ چھ مرحلوں میں الیکشن ہوئے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...