جسٹس مسرت ہلالی ریٹائر،سپریم کورٹ میں فل کورٹ ریفرنس:دلیر جج کے طور پر یاد رکھا جائیگا:چیف جسٹس
ساتھی ججز کی سپورٹ سے سب کیا،ججز آتے جاتے رہتے لیکن انصاف ہمیشہ رہنا چاہیے :مسرت ہلالی سپریم کورٹ بار نئے صوبوں کی حمایت کرتی :صدر ہارون الرشید،7ججز کی بذریعہ ویڈیولنک شر کت ، اٹارنی جنرل کا پیغام
اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ کی جج جسٹس مسرت ہلالی ریٹائر ہو گئیں ، جسٹس مسرت ہلالی کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر سپریم کورٹ میں فل کورٹ ریفرنس کاانعقاد کیا گیا،سپریم کورٹ پرنسپل سیٹ پر فل کورٹ ریفرنس میں 9 ججز شریک ہوئے اور سات ججز بذریعہ ویڈیولنک ریفرنس میں شریک ہوئے ۔چیف جسٹس یحیی آفریدی نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں کہا جسٹس مسرت ہلالی ایک سال سوات بینچ میں بھی رہیں، جسٹس مسرت ہلالی سوات بینچ میں ایک عام سی گاڑی میں سفر کرتی رہیں، جسٹس مسرت ہلالی کو ایک مسکراتی ہوئی دلیر جج کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے جسٹس مسرت ہلالی کی ممتاز عدالتی خدمات کوخراجِ تحسین پیش کیاچیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس مسرت ہلالی کا عدالتی سفر جرات، ثابت قدمی اور انصاف سے غیر متزلزل وابستگی کا مظہر ہے ،جسٹس مسرت ہلالی کا کیریئر صرف اعلیٰ عدالتی مناصب ہی نہیں بلکہ رکاوٹیں عبور کرنے اور قابلِ تقلید مثال قائم کرنے کے حوالے سے بھی نمایاں رہا۔ جسٹس مسرت ہلالی کا کیریئر پاکستان کے شعبۂ انصاف میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت اور قیادت کی روشن مثال ہے ۔ جسٹس مسرت ہلالی کا پیشہ ورانہ سفر قانون و انصاف کے شعبے میں آنے والی خواتین کی آئندہ نسلوں کے لیے باعثِ تحریک ہے ،چیف جسٹس نے عدالتی ذمہ داری، ادارہ جاتی دیانت اور عوامی خدمت کے فروغ میں جسٹس مسرت ہلالی کی خدمات کو سراہا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
جسٹس مسرت ہلالی نے خطاب کرتے ہوئے کہا ججز آتے جاتے رہتے ہیں لیکن انصاف ہمیشہ رہنا چاہیے ، آج ریٹائر ہوتے ہوئے مطمئن ہوں کہ جو کیا وہ میرے والدین کی دعا اور ساتھی ججز کی سپورٹ تھی۔انہوں نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کی پہلی چیف جسٹس اور کے پی سے سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بنی،خیبرپختونخوا کی پہلی خاتون تھی جس نے بار کا الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئی۔جسٹس مسرت ہلالی کی مرحوم والدین کا ذکر کرتے ہوئے آواز بھر آئی، انہوں نے کہا کہ اپنے مرحوم والدین کی مشکور ہوں جن کی وجہ سے آج یہاں تک پہنچی، والد کیساتھ زندگی کا بہت کم وقت گزارا لیکن سب کچھ انہی سے سیکھا۔فل کورٹ ریفرنس میں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے اٹارنی جنرل کا پیغام پڑھ کر سنایا اورپیغام میں کہا جسٹس مسرت ہلالی پشاور ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس تھیں،انہوں نے فوجی عدالتوں میں سو یلینز کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا، فوجی عدالتوں کا فیصلہ انٹرا کورٹ اپیل میں معطل کرنے کی مخالفت کی اور مجرموں کو سپریم کورٹ نے اپیل کا حق دینے کی ہدایات دیں،صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ہارون الرشید نے خطاب کرتے ہوئے کہاسیاسی جماعتوں کے درمیان بامعنی مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہیں، سپریم کورٹ بار نئے صوبوں کے قیام کی مکمل حمایت کرتی ہے ، جسٹس مسرت ہلالی کو بہترین جوڈیشل کیرئیر پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ہم صدر مملکت سے درخواست کرتے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کی گئی تقرریوں کی منظوری میں تاخیر نہ کی جائے کیونکہ انہیں زیرالتوا رکھنا ملک اورآئین کے مفاد کے منافی ہے ۔ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل پیرمسعود چشتی نے بھی خطاب کیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments