کشمیر کے متنازعہ نتائج قبول نہیں : پیپلز پارٹی ، دھاندلی کا ٹھوس ثبوت نہیں دیا: ںن لیگ

 کشمیر کے متنازعہ نتائج قبول نہیں : پیپلز پارٹی ، دھاندلی کا ٹھوس ثبوت نہیں دیا: ںن لیگ

96 سے 99فیصد ٹرن آؤٹ قیامت کی نشانی،مبینہ بے ایمانیوں کا حساب ہونا چاہیے :پلوشہ،شہلارضا،شرمیلافاروقی پیپلزپارٹی کے امیدوارپولنگ روکنے میں ملوث،ن لیگ کو دو تہائی اکثریت مل رہی:رانا ثنا، امیرمقام، پریس کانفرنس

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنماؤں پلوشہ خان، شہلا رضا اور شرمیلا فاروقی نے کہا اگر کشمیر کے انتخابات کو  سیاہ ترین دھبا قرار دیا جائے تو بے جا نہیں ہوگا،کشمیر کے انتخابات دھاندلی کا شکار ہو گئے ،متنازعہ نتائج کسی صورت قبول نہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیپلز پارٹی سیکرٹریٹ اسلام آبادمیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔پلوشہ خان نے کہا کہ انتخابات کو پرامن قرار دینا سفید جھوٹ ہے ، پولنگ کا عمل روکنا اور پھر اسے معمولی واقعہ قرار دینا حکمرانوں کی سیاسی خصلت بن چکی ہے ۔ مسلم لیگ ن کو مبینہ طور پر پہلے ہی نتائج کا علم ہوگیا تھا، جس کے بعد اس نے اپنی فتح کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ حالات کشمیر میں نئی آگ لگانے کی وجہ بنیں گے ، آگ اور خون کا یہ کھیل کشمیر کاز کو بھی نقصان پہنچائے گا۔

انہوں نے سوال کیا کہ کسی بھی الیکشن میں 100 فیصد ٹرن آؤٹ دکھایا جائے ، ایسے دعوے انتخابی عمل کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔پلوشہ خان نے کہا ہمیں بتایا گیا کہ 96 سے 99 فیصد ٹرن آؤٹ رہا، یہ قیامت کی نشانی ہے ۔ اس دو نمبر الیکشن کے بعد ضرور کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی قیامت دور نہیں۔حکومتی وزرا پیپلز پارٹی کے خلاف روزانہ پریس کانفرنسیں کرنے کے بجائے اپنے کام پر توجہ دیں اور اپنے لوگوں کو بھی جواب در جواب کی سیاست سے روکیں۔ شہلا رضا نے کہا کہ آج ووٹ کو جو عزت مل رہی ہے وہ سب دیکھ رہے ہیں، گلگت بلتستان کے انتخابات سے لے کر آج کے انتخابات تک عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ ن نے مبینہ دھاندلی اس لیے کی کہ کہیں گلگت بلتستان جیسی صورتحال سامنے نہ آجائے ۔شہلا رضا نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس پولنگ کے دوران ایک بجے سے پہلے متعدد شکایات جمع کرائی گئیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس سے انتخابی میٹریل چھیننے اور فائرنگ کے واقعات بھی ہوئے ، جبکہ پیپلز پارٹی کے ایک رکن قومی اسمبلی کو گولی لگی۔

انہوں نے کہا پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ مسلم لیگ ن سے ان بے ایمانیوں کا حساب ہونا چاہیے ۔ جس انداز میں جواب دیا جائے گا ہمارا ردعمل بھی اسی انداز میں ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کے دوران الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی اپنی شکایات اور اعتراضات کی فہرست بھی میڈیا کو جاری کی اور مطالبہ کیا کہ تمام شکایات کا شفاف، غیر جانبدارانہ اور فوری جائزہ لیا جائے ۔شرمیلا فاروقی نے کہا جب بھی مسلم لیگ ن کے رہنما پنجاب اور سندھ کا موازنہ شروع کرتے ہیں تو انہیں اپنے صوبے میں امن و امان اور خواتین و بچوں کے تحفظ کی صورتحال بھی دیکھنی چاہیے ۔ انہوں نے لاہور میں ایک ذہنی معذور بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات پر مؤثر کارروائی نہ ہونا انتہائی تشویشناک ہے ۔شرمیلا فاروقی نے پنجاب میں مبینہ پولیس مقابلوں اور جرائم کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا عدالتوں اور انصاف کے دروازے بند کر دئیے گئے ہیں؟، اگر یہی انصاف ہے تو ایسا انصاف سندھ میں نہیں ہے۔ 

اسلام آباد (خصوصی نامہ نگار،خصوصی نیوز رپورٹر)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر برائے امور کشمیر امیر مقام نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت مل رہی ہے اور انتخابی مرحلہ مکمل ہونے کے بعد حکومت سازی کا عمل شروع ہو گاجس  کے بعد آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہوگا،پیپلز پارٹی کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا، آزاد کشمیر کے عوام نے انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لیکر اپنا جمہوری حق استعمال کیا ہے ، مسلم لیگ (ن)پر اعتماد کا اظہار کیا ہے ،باغ اورحویلی میں بعض پولنگ سٹیشنز پرمعمولی نوعیت کے واقعات کے باوجود سکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرکے انتخابی عمل بحال کرایا،راولاکوٹ اور سدھنوتی میں دھرنوں کے باعث ان حلقوں میں ضمنی انتخابات ہوں گے ،سیاسی جماعتوں کو اپنی خامیوں اور کمزوریوں کو دور کرنا چاہئے ۔آزاد جموں و کشمیر کونسل اسلام آبادمیں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر اور وفاقی حکومت نے مناسب سمجھا کہ دھرنا دینے والوں کو وقت دیا جائے ،دھرنے والوں کو چاہئے کہ احتجاج ختم کریں تاکہ باقی نشستوں پر بھی انتخابات کا عمل مکمل ہو سکے ، منتخب حکومت جائز مطالبات پر عمل اور جمہوری انداز میں معاملات حل کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ جن عناصر نے ہتھیار اٹھائے اور آزاد کشمیر کے عوام کو ورغلانے کی کوشش کی انہیں قانون کا سامنا کرنا ہوگا، دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والوں کو حساب دینا ہوگا۔حویلی کے ایک پولنگ سٹیشن پر کچھ واقعات پیش آئے جس کے بعد فوری طور پر اہلکار موقع پر پہنچے اور پولنگ کا عمل دوبارہ شروع کرایا گیا، باغ کے ایک پولنگ سٹیشن پر بھی پولنگ روکنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مبینہ طور پر پیپلز پارٹی کے امیدوار ضیاء قمر پولنگ کا عمل روکنے میں ملوث تھے ۔ انہوں نے کہا کہ نارہ کوٹ میں ایک شخص کو ہارٹ اٹیک ہوا جس کے باعث اس کی موت واقع ہوگئی ،اس کے علاوہ کوئی بڑا واقعہ رپورٹ نہیں ہوا اور فورسز اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں انجام دے رہی ہیں۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں برادری سسٹم بہت مضبوط ہے اسی وجہ سے بعض علاقوں میں زیادہ پولنگ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز چودھری یاسین شکایت کر رہے تھے کہ مخالف امیدوار کے 80 فیصد ووٹ کاسٹ ہوئے جبکہ چودھری یاسین کے اپنے حلقے میں 96 فیصد پولنگ کے ثبوت موجود ہیں۔انہوں نے مرحلہ وار انتخابات پر پیپلز پارٹی کے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر تمام جماعتوں سے مشاورت کی تھی اور پیپلز پارٹی بھی مرحلہ وار انتخابات پر متفق تھی،میرپور ڈویژن میں شکست سے قبل پیپلز پارٹی نے مرحلہ وار انتخابات کے خلاف کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی نشستوں پر پیپلز پارٹی نے نہ جلسے کئے نہ میٹنگز کیں اور نہ ہی انتخابات میں حصہ لیا،جمہوری عمل کے بارے میں اس طرح بات کرنا مناسب نہیں ۔وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ دھرنے میں موجود تین سے چار ہزار افراد میں سے شاید ایک فیصد ایسے ہوں جن کے مقاصد انہیں ’سندور ٹو‘ کا آلہ کار قرار دینے کے زمرے میں آتے ہوں جبکہ آزاد کشمیر کے باقی عوام محب وطن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو آزاد کشمیر کی حکومت زیادہ بہتر انداز میں حل کرنے کی پوزیشن میں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ تین سے چار سو پولنگ سٹیشنز میں سے صرف دو تین سٹیشنز پر مسائل پیش آئے ہیں جنہیں بنیاد بنا کر پیپلز پارٹی نے دھاندلی کا واویلا شروع کیا ہوا ہے ۔رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت مل رہی ہے اور انتخابی مرحلہ مکمل ہونے کے بعد حکومت سازی کا عمل شروع ہوگا جس کے بعد آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔انہوں نے کہا کہ 4 نشستوں میں سے مسلم لیگ (ن) کو 2 پر کامیابی کی امید ہے جبکہ پورے پونچھ ڈویژن سے 6سے 7نشستیں مل سکتی ہیں،مخصوص نشستیں شامل کرکے مسلم لیگ (ن) کو تقریباً 30 ارکان کی حمایت حاصل ہونے کی توقع ہے ۔امیر مقام نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کیا ہے ،پیپلز پارٹی صبح سے ہی دھاندلی کا شور مچا رہی ہے ،عوام نے ان کے وعدوں اور کارکردگی پر یقین نہیں کیا، انہیں اپنی خامیوں اور کمزوریوں کو دور کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں وہی بات ہے کہ’’چور مچائے شور‘‘۔ صبح 9بجے سے پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ دھاندلی ہو رہی ہے ، حویلی کا جلسہ سب نے دیکھ لیا، پولنگ سے پہلے ہی جلسے سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ لوگ کس طرف جا رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...