امریکی ایندھن کی زیادہ قیمتیں برداشت کریں ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے روکنے کیلئے پٹرول پر تھوڑا زیادہ خرچ قابل قبول : ٹرمپ، امریکا شکست مان لے : ایران
کسی ٹویٹ یا بحری بیڑے سے قبضہ نہیں کیاجاسکتا:غریب آبادی،بلند افراطِ زرکی ذمہ دار امریکی ناکہ بندی:مسعود پزشکیان،ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینا مذاق تھا:وائٹ ہاؤس مذاکرات دوبارہ شروع کرنیکا فیصلہ نہیں کیا،بحری آمدورفت کی بحالی کیلئے شرائط پوری کرنا ہو نگی:عراقچی،امارات کاایک اور جہاز نشانہ بن گیا، حوثیوں کا بحیرہ احمر کی بندرگاہ پر حملہ ،4شہری ہلاک
دبئی ، نیویارک (رائٹرز)ایران نے ہفتے کے روز امریکا سے شکست تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو ‘‘انتہائی شرپسند ’’ ملک قرار دیتے ہوئے امریکیوں سے کہا ہے کہ وہ جنگ کے نتیجے میں ایندھن کی بلند قیمتوں کے لیے تیار رہیں۔امن مذاکرات کی پیش رفت اور تیل بردار بحری جہازوں کی اہم آبنائے ہرمز سے آمدورفت بدستور معطل ہے ۔ ایسے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے کہ جنگ میں مصروف فریق تنازع ختم کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ایکس پر بیان میں کہا، ‘‘یہ آبنائے صرف ایران کے حکم پر کھولی اور بند کی جائے گی۔ جب تک آپ شکست کی حقیقت تسلیم نہیں کرتے اور خیالی تصورات میں مبتلا رہتے ہیں، ایران ناکہ بندی پر عمل درآمد جاری رکھے گا۔’’ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے ابھی امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔
ہفتے کو ایرانی نیوز ویب سائٹ ‘شہرارا نیوز’ کو دئیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے واشنگٹن کو ایران کی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ٹرمپ نے امریکیوں پر زور دیا کہ جنگ جاری رہنے تک پٹرول کی قدرے زیادہ قیمت برداشت کریں۔نیویارک کے گارڈن سٹی میں جمعے کو ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ‘‘پٹرول کے لیے معمولی سا زیادہ خرچ کرنا’’ اس بات کو یقینی بنانے کے مقابلے میں قابلِ قبول ہے کہ ایک ‘‘انتہائی برا ملک’’ جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے ۔ ٹرمپ نے کہا، ‘‘ایران کو شکست دینے کے بعد... بہت جلد میں آبنائے ہرمز کو امریکا کا علاقہ قرار دینے والا ہوں۔’’جنگ کے باعث مہنگائی میں اضافے اور ووٹروں میں مایوسی کے رجحان کے درمیان امریکی آٹو موبائل ایسوسی ایشن کے مطابق جمعے کو امریکا میں ایک گیلن پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.08 ڈالر رہی، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح گوشت، کافی اور سیب سمیت کئی بنیادی اشیا مہنگی ہوگئی ہیں، ضروری اشیائے خورونوش کی مجموعی قیمتوں میں ٹرمپ کی دوسری مدت کے پہلے 19 ماہ کے دوران 4فیصد اضافہ ہوا۔
ریپبلکن صدر ٹرمپ نے دوبارہ انتخابی مہم کے دوران توانائی کی قیمتیں کم کرنے کا وعدہ کیا تھا،جبکہ مہنگائی اور بڑھتی لاگتِ زندگی سے ووٹرز میں بے چینی بڑھ رہی ہے ، جس کے باعث ریپبلکن امیدواروں کو آئندہ انتخابات میں مشکلات کا سامنا ہے اور ڈیموکریٹس نومبر میں ہونے والے کانگریس کے انتخابات میں جنگ کے معاشی اثرات کو انتخابی معاملہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔دوسری جانب تہران نے بھی حالیہ دنوں میں اپنے بیانات میں سختی بڑھا دی ہے ، کیونکہ جنگ کے مستقل خاتمے کی کوششیں تعطل کا شکار دکھائی دیتی ہیں۔غریب آبادی نے کہا، ‘‘آبنائے ہرمز کو کسی ٹوئٹ، طیارہ بردار بحری جہاز، حکم جاری کرنے یا انتخابی تقریر کے ذریعے قبضے میں نہیں لیا جا سکتا۔’’تاہم ایران کے سخت مؤقف کے باوجود وہاں جنگ کے معاشی اثرات کے آثار بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری ٹیلی ویژن پر گفتگو میں ملک میں بلند افراطِ زر کی ذمہ داری امریکی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں پر ڈالی۔بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والی کمپنی کپلر کے تجزئیے کے مطابق جمعے کو صرف دو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے اور ان میں خام تیل کی کوئی ترسیل نظر نہیں آئی۔ممکن ہے کہ کچھ جہاز اپنے ٹرانسپونڈر بند کرکے آبنائے سے گزرے ہوں، تاہم یہ تعداد جنگ سے قبل روزانہ گزرنے والے 130 سے زائد جہازوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے ۔ایرانی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو میزائل یا ڈرون حملوں کا خطرہ لاحق ہے ۔متحدہ عرب امارات نے ایران پر الزام عائد کیا کہ اس نے جمعے کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (اے ڈی این او ی)کے ایک اور بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔ اماراتی سرکاری خبر رساں ادارے ‘وام’ کے مطابق جمعرات کی شام بھی اے ڈی این او سی کے دو دیگر جہازوں سے متعلق ایسے ہی واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سنٹر نے بتایا کہ جمعے کو آبنائے ہرمز میں ایک مال بردار جہاز کے ڈھانچے کو نامعلوم سمت سے آنے والے ایک پروجیکٹائل نے نقصان پہنچایا۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں تھا کہ آیا یہ وہی واقعہ ہے جو اے ڈی این او سی کے جہاز سے متعلق رپورٹ ہوا تھا۔جنگ کے خاتمے کے لیے جون میں طے پانے والا ابتدائی معاہدہ اب تقریباً ختم ہو چکا ہے ۔عراقچی نے کہا، ‘‘پہلے ہمارے درمیان کوئی جنگ بندی ہوئی ہی نہیں تھی جسے اب ہم مزید جاری رکھنا چاہتے ہوں۔ ہمارے درمیان ‘جنگ کا خاتمہ’ ہوا تھا، اور اب صورتِ حال تبدیل ہو چکی ہے ۔’’دوسری جانب یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے حملوں نے خطے میں جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات دوبارہ بڑھا دئیے ہیں۔یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے مطابق حوثیوں نے جمعے کو بحیرۂ احمر کی بندرگاہ موخا پر چھ بیلسٹک میزائل داغے ، جن کے نتیجے میں چار شہری ہلاک ہوئے ۔ادھر وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کی بات مذاقاً کی تھی اور اس حوالے سے اپنے مشیروں سے کوئی مشاورت نہیں کی۔ امریکی اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس کے سینئر عہدیدار نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں تعطل کی بڑی وجہ ایرانی حکومتی ڈھانچے میں موجود اختلافات ہیں
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments