سیاسی مخالفت کو دشمنی نہیں بنانا چاہیے : نواز شریف، پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں شکست پر دھاندلی کا الزام لگا دیا : مریم نواز

سیاسی مخالفت کو دشمنی نہیں بنانا چاہیے : نواز شریف، پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں شکست پر دھاندلی کا الزام لگا دیا : مریم نواز

امید نہیں تھی پی پی شکایت کا موقع دیگی، آزادکشمیر میں جو ماحول بنا سب کیلئے باعث پریشانی ہے ، پچھلی حکومتوں نے اپنا فرض ادا نہیں کیا اس لئے یہ ہوا:قائد مسلم لیگ ن جن کے پاس دینے کیلئے کچھ نہیں انہیں کشمیری عوام نے مسترد کیا ، جدید پاکستان کابانی نواز شریف :وزیراعلیٰ پنجاب، آزاد کشمیرکی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب

اسلام آباد ،مری،مظفر آباد(خاور نواز راجہ، نمائندہ دنیا،دنیا نیوز،نیوز ایجنسیاں)مسلم لیگ ن کے صدرمیاں نوازشریف نے کہا اُمید نہیں تھی پیپلز پارٹی کی طرف سے کوئی شکایت کا موقع ملے گا، ہم نے مخالفین کے ساتھ ہمیشہ اچھا سلوک کیا ،سیاست میں مخالفت کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پیپلز پارٹی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک صوبے میں 17 سال سے ان کی حکومت ہے لیکن وہاں ایک سڑک ایسی نہیں جس پر آرام سے گاڑی چل سکے ، پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر الیکشن میں ہم پر دھاندلی کے جھوٹے الزام لگائے جس پر افسوس ہوا، پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں جیتی تو دھاندلی کے الزام نہیں لگائے لیکن جہاں ہاری وہاں الزام لگائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزمری میں پارٹی کے اعلیٰ سطح اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

قائد مسلم لیگ (ن)نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں جو پہلی مرتبہ یہ ماحول بنا ہے ہم سب کے لیے باعث پریشانی ہے ، یہ اس لیے ہوا کہ پچھلی حکومتوں نے اپنا فرض ادا نہیں کیا، جس طرح پنجاب کو بدلا اسی طرح آزاد کشمیرکو بھی بدلیں گے ۔نواز شریف نے آزاد کشمیرقانون ساز اسمبلی کے نومنتخب امیدواروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کا ماحول اچھا رہا،جراثیم داخل ہو جائیں تویہ اچھا نہیں ، اللہ تعالیٰ نے آزاد کشمیر الیکشن کے 2 مراحل میں ہی برتری دیدی اور ہمیں اکثریت مل چکی ، اب عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی گنجائش نہیں ، آزاد کشمیر میں زیادہ سے زیادہ فنڈز دینے چاہئیں تاکہ سڑکیں بنیں،انڈسٹری لگے ، زراعت پر بھی ہمیں بھرپور توجہ دینی چاہیے ، لیپ ٹاپس اور سکالر شپس ملنی چاہئیں، آزاد کشمیر میں کسان کارڈ ملنا چاہیے ،اگر ہم نے آزاد کشمیر میں ڈیلیور نہ کیا تو لوگ ناراض ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی، ماضی میں آزادکشمیر کی حکومت عوامی امنگوں پر پوری نہ اتر سکی،آزاد کشمیر کے عوام پنجاب کی ترقی کی طرف دیکھ رہے ہیں ، آزاد کشمیر کو بھی ترقی میں پنجاب کی سطح پر آنا چاہیے ،مخالفین نے صرف نعرے لگائے ، ترقی کیلئے کچھ نہیں کیا ،ہم بہت جلد مسائل پر قابو پالیں گے ، آزاد کشمیر کے عوام کی فلاح و بہبود ترجیح ہے ،کوشش کروں گا کہ جو وعدے کئے ان پر پورا اتروں، آزادکشمیر میں ن لیگ کی حکومت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں شہبازشریف نے حکومت سنبھالی تو ملکی حالات بہت خراب تھے لیکن آج حالات دن بدن بہتر ہو رہے ہیں اورکوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان کو اپنے پاؤں پرکھڑا کیا جائے ، کوشش کر رہے ہیں آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کیا جائے اور پاکستان اقتصادی طورپرخودمختار ملک بن جائے ، میری حکومت میں ڈالر کی قیمت نہیں بڑھی تھی، پی ٹی آئی حکومت میں ڈالرکی قیمت کہاں سے کہاں چلی گئی ،پنجاب میں ترقی کی بنیاد شہبازشریف نے رکھی جسے مریم نواز نے آگے بڑھایا۔

نواز شریف نے کہا کہ ہم نے آزاد کشمیرمیں جو وعدے کئے اس پر پورا اُترنے کی کوشش کریں گے ،امیر مقام اور راناثنااللہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتاہوں، آزاد کشمیر کابینہ کا انتخاب میرٹ پر ہونا چاہیے ،آزاد کشمیر پہاڑی علاقہ ہے، یہاں کے وزیراعظم کے پاس ہیلی کاپٹر ہونا ضروری ہے ، وزیراعظم شہبازشریف آزاد کشمیر حکومت کو ہیلی کاپٹر دیں ، جس طرح پنجاب بدلا اسی طرح آزاد کشمیر کو بھی بدلیں گے ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبے آزادکشمیر میں بھی لانچ کئے جائیں ، ہمیں اپنے منشور پر 100 فیصد عمل کرنا ہے ، ہم نیا آزاد کشمیر دیکھنا چاہتے ہیں۔دریں اثناء اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مزید کہا کہ جن کے پاس دینے کیلئے کچھ نہیں انہیں کشمیری عوام نے مسترد کیا ، وہ سڑکوں کا وعدہ اس لیے نہیں کر سکتے تھے کہ کیونکہ انہوں نے 17 سال کے دوران سندھ میں ایک بھی اچھی سڑک نہیں بنائی، لوگ پنجاب آتے ہیں تو تعریف کرتے ہیں، وہ بسیں دینے کا وعدہ اس لیے نہیں کر سکتے تھے کہ ان کے پاس بسیں نہیں ہیں اور اگر ہیں بھی تو ٹوٹی پھوٹی ہیں،ان کے صوبے میں گندگی کے انبار لگے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ الزامات لگاتے وقت یہ بھول گئے کہ آزادکشمیر میں انتظامیہ اور حکومت ان کی اپنی تھی، پیپلز پارٹی دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کچھ لاجک کا بھی خیال کر لیتی۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ آزاد کشمیر الیکشن جیتنے پر رہنماؤں کو مبارکباد پیش کرتی ہوں، الیکشن جیتنے کیلئے تمام رہنماؤں نے بہت محنت کی، (ن)لیگ نے نشستیں اکثریت کے ساتھ جیتی ہیں، آزاد کشمیر کے عوام نے فساد، ہڑتالوں اور قتل و غارت کو ووٹ کی طاقت سے شکست دی، پاکستان اور آزاد کشمیر کو لڑانے کی کوشش کرنے والے شرپسندوں کو شکست ہوئی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام سمجھتے ہیں کہ ان کو آزاد کشمیر میں کیا چاہیے ، الیکشن اتنا بڑا امتحان نہیں تھا اب ہمارا امتحان شروع ہوا ہے ، (ن)لیگ کے خلاف جتنی سازشیں ہوئی ہیں شاید کسی اور جماعت کے خلاف ہوئی ہوں ،2021 میں کشمیر میں (ن)لیگ کو17اور پی ٹی آئی کو 3 سیٹیں ملیں اس رزلٹ کو الٹا دیا گیا تھا، الحمدللہ !مسلم لیگ (ن)نے اپنی وہ اکثریت واپس چھین لی ہے ،آزاد کشمیر میں جس دن کابینہ بنے گی اسی دن سے ضروری کام کریں گے ، وزیر اعظم کے حلف اٹھاتے ہی عوام کو ریلیف کے اقدامات شروع کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)نے ہمیشہ عوام کی خدمت کی سیاست کی ہے ، سندھ، بلوچستان سمیت پورا ملک دیکھ لیں جو بھی ترقی کا نشان ہے وہ (ن)لیگ کا ہے ، پورے ملک میں ترقی کے نشانوں پر صرف ایک نام نواز شریف لکھا ہوا ہے ، آزاد کشمیر حکومت بناتے ہی وقت ضائع نہیں کریں گے اور اقدامات شروع کریں گے ،جدید پاکستان کا ایک بانی ہے اور اس کا نام نواز شریف ہے ،وزیر اعظم شہباز شریف کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں، پنجاب میں جو کام اٹھاتی ہوں اس پر ان کی مہر ہے ، ان کے ساتھ کام کرنے والوں کی آنکھیں بند کر کے پوسٹنگ کرتی ہوں۔ اس سے قبل مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف کی زیر صدارت گورنمنٹ ہاؤس کشمیر پوائنٹ مری میں پاکستان مسلم لیگ (ن)آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا ایک اہم اجلاس ہوا جس میں آزاد کشمیر کی حکومت سازی پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ، سابق وزیراعلیٰ حمزہ شہباز، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سمیت دیگر وفاقی وزراء، مسلم لیگ (ن)آزاد جموں و کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان اور نومنتخب ارکان آزاد کشمیر اسمبلی بھی شریک ہوئے ۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں حکومت سازی کیلئے پارلیمانی پوزیشن اورمطلوبہ سیاسی حمایت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، آزاد ارکان اور دیگر سیاسی جماعتوں سے روابط ،مخصوص نشستوں سے متعلق امور پر غور ،وزارت عظمیٰ کے امیدوار وں کے ناموں پر مشاورت بھی کی گئی۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر ، طارق فاروق، کرنل (ر)وقار اورسابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ راجہ فاروق حیدر خان کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے ،پارلیمانی پارٹی کے اکثریتی ارکان راجہ فاروق حیدر خان کو وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالتے دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ تاہم اجلاس میں آزاد کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے نام پر حتمی فیصلہ نہ ہو سکا ،پارلیمانی پارٹی نے وزیراعظم کیلئے فیصلے کا اختیار نواز شریف کو دیدیا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں قائد ایوان، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کا عمل آئندہ ہفتے مکمل ہونے کا امکان ہے ۔قبل ازیں مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی مخصوص نشستوں کے لیے امیدواروں کی فہرست میاں نواز شریف کو ارسال کی گئی، فہرست میں خواتین کی نشستوں کیلئے ماریہ اقبال ترانہ، ناصرہ خان، مریم کشمیری، نثارہ عباسی اور سحرش قمر کے نام شامل ہیں۔ٹیکنوکریٹ کی نشست پر راجہ شاداب سکندر، علماء و مشائخ کی نشست پر پیر مظہر سعید، اوورسیز کی مخصوص نشست کیلئے راجہ محمد جاوید کا نام فائنل ہونے کا امکان ہے ۔ذرائع کے مطابق ان افراد کی حتمی منظوری بھی نواز شریف دیں گے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...