کسی شخص کو سنے بغیر سزا دینا انصاف آئینی تقاضوں کے منافی:عدالت عظمیٰ
اسلام آباد (اے پی پی) سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سزائے موت کے مقدمات میں انصاف کے عمل کے دوران معمول سے بڑھ کر سپر ڈیو پراسس کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہے۔
کسی شخص کو سنے بغیر سزا دینا فطری انصاف، منصفانہ ٹرائل اور آئینی تقاضوں کے منافی ہے ، انتظامی ہدایات یا فل کورٹ کے انتظامی فیصلے قانون اور آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتے ۔ اگر کسی سابقہ عدالتی حکم میں بنیادی نوعیت کی قانونی و طریقہ کار کی خامی ہو اور فریق کو سماعت کا حق ہی نہ دیا گیا ہو تو معاملہ محض نظرثانی کا نہیں بلکہ حکم واپس لینے (ریکال) کے اختیار کے دائرے میں آتا ہے ۔ ایسے غیر قانونی حکم کی بنیاد پر بعد کی نظرثانی درخواست کو دوسری نظرثانی قرار دے کر ناقابلِ سماعت نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے یہ اہم آبزرویشنز شیر اعظم کی فوجداری نظرثانی درخواست کے مقدمے کے تحریری فیصلے میں دیں۔ جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ نے 19 مئی 2026 کو مقدمے کی سماعت کے بعد فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے 26 اپریل 2012 کا وہ حکم کالعدم قرار دیا جس کے ذریعے شیر اعظم کی پہلی نظرثانی درخواست چیمبر میں مسترد کی گئی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ مذکورہ درخواست کی سماعت کے وقت ملزم موجود تھا اور نہ ہی اس کی جانب سے کوئی وکیل پیش ہوا، لہذا اسے سنے بغیر نظرثانی درخواست مسترد کرنا اصولِ فطری انصاف کی صریح خلاف ورزی تھی۔ سپریم کورٹ نے موجودہ نظرثانی میں قرار دیا کہ قتل کا محرک ثابت نہیں ہوا، مقدمہ چشم دید گواہوں پر مبنی نہیں تھا اور ایف آئی آر نامعلوم ملزمان کے خلاف درج ہوئی تھی۔ عدالت نے نظرثانی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے شیر اعظم کی دفعہ 302(ب) کے تحت سزا اور جرم ثابت ہونے کا فیصلہ برقرار رکھا تاہم سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ سپریم کورٹ نے اس سے قبل جاری 26 اپریل 2012 کے حکم کو قانون کی نظر میں غیر موجود قرار دیتے ہوئے موجودہ درخواست کو دوسری نظر ثانی نہیں سمجھا اور اسے پہلی قابلِ سماعت نظرثانی درخواست کے طور پر نمٹایا
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments