ذمہ دارانہ کردار سے عمران کی اگلی منزل بنی گالہ بن سکتی

ذمہ دارانہ کردار سے عمران کی اگلی منزل بنی گالہ بن سکتی

27ستمبر کا لانگ مارچ ملتوی ہوسکتا،ریلیف کا تعلق حکومتی بندوبست سے نہیں

(تجزیہ:سلمان غنی)

سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کو بیماری کے حوالے سے ریلیف ملنا اور ان کی شفا ہسپتال منتقلی اور ایک ماہ تک ہسپتال میں رہنے کی اجازت سمیت ان کے خاندان اور ان کے ذاتی معالجین تک رسائی یقینی طور پر پی ٹی آئی ،عمران خان اور ان کے خاندان کیلئے ایک بڑا سیاسی ریلیف ہے ۔فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاست کا ماحول تبدیل ہو رہا ہے ۔پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور عمران خان کی بہنوں کی جانب سے عدالت کو یہ گارنٹی دی گئی ہے کہ وہ عمران خان کی بیماری پر کوئی سیاست نہیں کریں گے اور، اگر ایسا ہوتا ہے تو یقینی طور پر پاکستان کی سیاست آگے جا کر مفاہمت کی سیاست کی طرف بڑھ سکتی ہے ۔پی ٹی آئی کے سیاسی مخالفین کے لیے عمران خان کو ریلیف ملنا یقینی طور پر ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے ،وہ سمجھتے ہیں کہ اگر کہیں عمران خان یا پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مفاہمت ہوتی  ہے تو اس کا نقصان ان کو سیاسی محاذ پر اٹھانا پڑے گا۔اب یہ دیکھنا ہوگا کہ پی ٹی آئی کا طرز عمل کیا ہوتا ہے اور کیا وہ مفاہمت کے ساتھ قومی سیاست کو آگے بڑھائیں گے یا ٹکراؤ کا ماحول پیدا کریں گے ۔کیونکہ اگر انہوں نے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کیا تو جو ریلیف ملنے کے معاملات ہیں یہ ایک بار دوبارہ پس پردہ جا سکتے ہیں۔موجودہ صورتحال میں لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد لانگ مارچ بھی ملتوی ہو سکتا ہے کیونکہ ان کا بنیادی مطالبہ مان لیا گیا ہے کہ عمران خان کو ریلیف دیا جائے۔

اس بات کے امکانات بھی ہیں کہ نئے صوبوں کے معاملے میں جہاں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے وہاں پی ٹی آئی سے بھی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ متفقہ طور پر نئے صوبوں کی بحث کو آگے بڑھایا جائے اور اس کی منظوری لی جائے ۔عمران خان نے جس جرأت کے ساتھ تین سال کی قید کاٹی ہے اس پر ان کے سیاسی مخالفین بھی حیران ہیں اور اسی وجہ سے وہ اپنے مخالفین کیلئے بدستور خطرہ بنے ہوئے ہیں۔یہ تاثر بھی عام ہے کہ عمران خان کو سپریم کورٹ سے جو ریلیف ملا ہے اس میں سمجھوتے کے کارڈ بھی استعمال ہوئے ہیں،جو لوگ پی ٹی آئی کی جانب سے پس پردہ مذاکرات کر رہے تھے یہ انہی کی کوشش کا نتیجہ ہے کہ آج عمران خان سپریم کورٹ سے ریلیف لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔عمران خان کو ملنے والا یہ ریلیف ابتدائی ریلیف ہے اور ابھی ان کو کئی منازل طے کرنی ہیں۔

اگر انہوں نے سمجھدار سیاستدان کے طور پر اپنے کارڈ کھیلے تو ان کو آنے والے کچھ عرصے میں مزید عدالتوں سے ریلیف مل سکتا ہے ۔ملکی صورتحال پر گہری نظررکھنے والوں کا کہنا ہے کہ کورٹ کی جانب سے ملنے والا عمران خان کے لئے ریلیف دراصل پی ٹی آئی کا امتحان ہے کیا پی ٹی آئی اس پر پورا اتر پائے گی ؟اس ریلیف کا تعلق موجودہ حکومتی بندوبست کے حوالے سے نہیں اور نہ ہی ملک کسی ایسے اپ سیٹ کا متحمل ہو سکتا کہ جس کے اثرات اندرونی یا بیرونی محاذ پر نظر آئیں ۔ اگر پی ٹی آئی ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرتی ہے تو اگلی منزل بنی گالہ بن سکتی ہے کیا پی ٹی آئی عدالتی احکامات اور ہدایات پر عمل پیرا ہو گی اور ان تمام شرائط پر عمل درآمد کرے گی جس کی یقین دہانی کورٹ کو کرائی گئی ہے اس حوالے سے آنے والے چند روز اہم ہوں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...