ڈیجیٹل ڈپلومیسی، جب سفارت کاری سوشل میڈیا پر منتقل ہوئی

ڈیجیٹل ڈپلومیسی، جب سفارت کاری سوشل میڈیا پر منتقل ہوئی

ریاستیں خارجہ پالیسی،پیغامات،عالمی مؤقف سوشل میڈیا کے ذریعے پہنچا رہیں ایران امریکہ جنگ میں جنگ بندی سمیت اہم اعلانات ٹوئٹر اور ٹروتھ کے ذریعے پہنچے پاکستان، ترکیہ،سعودیہ معاہدہ کے اہم نکات بھی ٹوئٹر پر سامنے آئے اور زیرِبحث رہے سوشل میڈیا نے عالمی منڈیوں، تعلقات اور سیاسی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی نئی راہ کھولی

اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی) سوشل میڈیا کو صارفین تفریح کے علاوہ سنجیدہ خبروں کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ خاص طور پر ٹوئٹر آج کل خبروں کے لیے ایک ذریعے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے اور ٹوئٹر پر معلومات کا تیزی سے پہنچنا بھی اس کی خاصیت ہے ۔ لیکن کیا آپ نے سنا ہے کہ ٹوئٹر پر ڈپلومیسی بھی ہو رہی ہے ؟ یعنی ممالک کے درمیان سفارت کاری بھی آج کل ٹوئٹر اور اس جیسی کچھ دیگر ایپس پر ہو رہی ہے ۔درحقیقت اسے دنیا بھر میں ڈیجیٹل ڈپلومیسی  یا ٹوئپلومیسی بھی کہا جاتا ہے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ریاستیں، وزارتِ خارجہ، سفارت خانے اور اعلیٰحکام سوشل میڈیا، آن لائن پلیٹ فارمز اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کو اپنی خارجہ پالیسی کے اہداف حاصل کرنے ، عالمی رائے عامہ تک براہِ راست اپنا مؤقف پہنچانے ، سفارتی پیغامات دینے اور بین الاقوامی معاملات پر فوری ردِعمل کے لیے استعمال کریں۔ آج سفارت کاری صرف بند کمروں میں ہونے والے مذاکرات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا ایک اہم حصہ عوام کے سامنے ، رئیل ٹائم میں بھی انجام پا رہا ہے ۔سوشل میڈیا اور ٹوئٹر پر ڈپلومیسی ہمیں گزشتہ چند ماہ سے مسلسل نظر آ رہی ہے اور سوشل میڈیا ڈپلومیسی یا ٹوئٹر ڈپلومیسی ایران، امریکہ جنگ میں ہمیں عملی طور پر دیکھنے کو ملی ہے ۔ جب 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے کیے گئے ، اس کے بعد صدر ٹرمپ کے تمام ضروری اعلانات اور بیانات کا دنیا کو ٹروتھ سوشل اور ٹوئٹر کے ذریعے پتہ چلا۔ یہاں تک کہ دونوں ممالک کی جنگ بندی کا بھی دنیا کو ٹوئٹر اور ٹروتھ سوشل کے ذریعے پتہ چلا۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ اس جنگ بندی کی کوئی دستاویزی شکل موجود نہیں ہے ، بلکہ صرف سوشل میڈیا ایپس پر اس کا اعلان کیا گیا تھا۔حالانکہ سفارت کاری میں ایک ایک لفظ سوچ سمجھ کر لکھا جاتا ہے اور اکثر اوقات سفارت کار لکھی ہوئی زبان کو بھی تبدیل کرتے ہیں تاکہ اس کے اثرات زیادہ نہ ہوں۔

چند عرصہ قبل یا چند سال پہلے کی سفارت کاری کو دیکھا جائے تو ممالک کے درمیان پیغام رسانی زیادہ تر سفارتی خطوط، خفیہ مراسلوں (Diplomatic Cables)، سرکاری نوٹس، سفیروں کی ملاقاتوں اور مشترکہ اعلامیوں کے ذریعے ہوتی تھی۔ کئی مرتبہ ایک سرکاری بیان یا مشترکہ اعلامیے کے ایک لفظ پر کئی کئی دن مذاکرات ہوتے تھے کیونکہ ہر لفظ کی سفارتی اور قانونی اہمیت ہوتی تھی۔ آج بھی وہ روایت برقرار ہے ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا نے سفارت کاری میں ایک نئی، تیز رفتار اور براہِ راست جہت کا اضافہ کر دیا ہے ۔دوسری جانب ایرانی حکام نے بھی اس جنگ میں اپنے زیادہ تر اعلانات سوشل میڈیا ایپس پر کیے ۔ ممالک ایک دوسرے کے ساتھ پیغام رسانی کے لیے سوشل میڈیا ایپس کا استعمال کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری بننے والے جنرل محسن رضائی نے آتے ہی پہلا اعلان ٹوئٹر پر کیا کہ آبنائے ہرمز بند رہے گی جب تک ایران کے اثاثے بحال نہیں کیے جاتے اور تمام محاذوں پر جنگ بندی نہیں ہوتی، جس میں غزہ اور لبنان بھی شامل ہیں۔ اس پیغام کے ذریعے انہوں نے یہ تاثر دیا کہ وہ کتنے ہارڈ لائنر ہیں، اور یہ بھی ٹوئٹر ہی کے ذریعے ہوا۔ دنیا بھر کے تجزیہ نگاروں نے بھی اس بیان کو اپنے تجزیوں کا حصہ بنایا۔اسی طرح اس جنگ کے دوران جب ایران، امریکہ اور پاکستان ایک میز پر بیٹھنے جا رہے تھے تو اس سے متعلق اعلانات بھی زیادہ تر سوشل میڈیا ایپس پر ہی دیکھنے کو ملے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس جنگ کے دوران دنیا کی اسٹاک مارکیٹس، توانائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا انحصار بھی سوشل میڈیا ایپس، یعنی ٹوئٹر اور ٹروتھ سوشل، پر رہا۔ ہم نے دیکھا کہ جیسے ہی صدر ٹرمپ مذاکرات میں پیش رفت یا کسی اچھی خبر سے متعلق ٹوئٹ کرتے تھے تو مارکیٹیں نیچے آ جاتی تھیں، اور اگر وہ حملے کی دھمکی دیتے تھے تو اشیا کے نرخ اوپر چلے جاتے تھے ۔

اگرچہ حالیہ ایران، امریکہ جنگ نے سوشل میڈیا ڈپلومیسی کو غیرمعمولی اہمیت دی، لیکن یہ رجحان بہت زیادہ نیا نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں ٹوئٹر کو خارجہ پالیسی کے ایک اہم ذریعے کے طور پر استعمال کیا۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے متعلق بیانات، چین کے ساتھ تجارتی تنازعات اور ایران کے بارے میں متعدد اہم اعلانات پہلے ٹوئٹر پر کیے گئے ، جن کے بعد عالمی میڈیا اور متعلقہ حکومتوں نے ردِعمل دیا۔دنیا سوشل میڈیا پر خبروں اور اس کے مواد پر بحث کر رہی ہے ، لیکن جانے انجانے میں اب یہ سفارت کاری کا بھی ایک ذریعہ بن چکا ہے ۔ ایران، امریکہ ایم او یو کی کیا صورتحال ہے ، اس سے متعلق اعلانات بھی سوشل میڈیا ایپس پر ہی ہوتے ہیں۔حال ہی میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے سکیورٹی معاہدے ، جسے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کہا جاتا ہے ، کے اہم نکات کا اعلان بھی پاکستان کے نائب وزیر اعظم نے ٹوئٹر پر کیا۔ جیسے ہی یہ معاہدہ طے پایا تو سعودی عرب کے امریکہ میں سفارت خانے سے ایک ٹوئٹ کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ یہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں اور نہ ہی کسی دوسرے دوطرفہ یا کثیرالجہتی معاہدے کا متبادل ہے ۔ اسی طرح متعدد بیانات سعودی عرب کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر دیے گئے ۔ اس معاہدے پر دیگر ممالک کا ردعمل بھی سوشل میڈیا ایپس کے ذریعے سامنے آیا۔ متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں اس پر تنقید کرنے والوں نے ٹوئٹر پر اپنی رائے دی، لیکن وہ صرف رائے نہیں تھی بلکہ وہاں کے شاہی خاندان کے قریبی افراد کا نقطئہ نظر تھا، جو پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا گیا۔

اسی طرح امریکی صدر نے بھی اس معاہدے پر اپنی رائے ، جو اس معاہدے کے حق میں تھی، سوشل میڈیا ایپس پر دی، اور اس کا جواب وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے بھی ٹوئٹر پر دیا، جو بعد میں ہیڈ لائنز بنا، حالانکہ سفارت کاری میں اس نوعیت کے معاملات پر خطوط لکھے جاتے ہیں جو ریکارڈ اور تاریخ دونوں کا حصہ بنتے ہیں۔سوشل میڈیا اور اس کی ایپس انسانی زندگی کے روزمرہ معمول کا حصہ تو بہت پہلے بن چکی ہیں اور شاید اب ان کے بغیر رہنا لوگوں کے لیے ناممکن ہے لیکن ریاستوں کے درمیان لین دین اور سفارت کاری میں اس کا کتنا اہم کردار ہے ، اس کا اندازہ 2026 کی اس جنگ سے لگایا جا سکتا ہے ۔ اب یہ روزمرہ کا معمول بنتا جا رہا ہے ۔ شاید مستقبل کی سفارت کاری میں یہ رجحان کم ہو جائے کیونکہ ابھی سے سنجیدہ لوگوں نے سوشل میڈیا سے کنارہ کرنا شروع کر دیا ہے ۔شاید کوئی قوانین بھی بنیں، لیکن اگر قانون بنتا بھی تو امریکہ صدر کو کون روک سکتا ہے یا ریاستوں کے سربراہان کو کون روکے گا کہ آپ ٹوئٹر ڈپلومیسی نہ کریں۔ شاید مستقبل میں اس پر زیادہ انحصار نہ ہو، کیونکہ خفیہ مذاکرات، سفارتی مراسلے اور بند کمروں میں ہونے والی بات چیت ہمیشہ اپنی جگہ اہم رہیں گے ۔تاہم یہ حقیقت اب واضح ہو چکی ہے کہ آج دنیا کے طاقتور ممالک صرف سفارت خانوں کے ذریعے نہیں بلکہ ایک ٹوئٹ، ایک پوسٹ یا ایک آن لائن بیان کے ذریعے بھی عالمی منڈیوں، سیاسی فیصلوں اور بین الاقوامی تعلقات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں اور یہی تبدیلی ڈیجیٹل دور کی سفارت کاری کو روایتی سفارت کاری سے الگ بناتی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...