سانحہ پمز :معطلیاں کیا حتمی سزاؤں میں تبدیل ہونگی؟
سروسز ٹربیونلز مضبوط کریں تاکہ نااہل افراد قانونی راستوں سے فائدہ نہ اٹھا سکیں
(تجزیہ:سلمان غنی)
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پمز سانحہ پر تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں ایگزیکٹو ڈائریکٹرڈاکٹر عمران سکندر سمیت 8 افسروں کی فوری معطلی کے احکامات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ حکومت نے اس سانحے کو ٹیسٹ کیس بنایا اور سانحہ میں احتسابی عمل کا سلسلہ اوپر سے شروع کیا ہے ۔ اگر یہ معطلیاں مقدمات اور حتمی سزاؤں میں تبدیل ہو جائیں تو یہ پیغام تمام اداروں کے سربراہان تک جائے گا کہ ذمہ داری ان کے پاس ہے تو کسی بھی نااہلی پر جوابدہ بھی وہی ہوں گے ۔اعلیٰ سطح کی معطلیوں سے ظاہر ہو رہا ہے کہ خود حکمرانوں پر بھی اب گورننس کو یقینی بنانے اور نااہلی پر جوابدہی کو ممکن بنانے کی تلوار لٹک رہی ہے۔
پمز کے معاملے میں دیکھیں تو سب سے پہلے سیکرٹری صحت کو ہٹایا گیا کیونکہ یہاں کی دگرگوں صورتحال پر ان کی توجہ مبذول کرائی گئی مگر عملاً کوئی پیش رفت نہ ہوئی، وزیراعظم نے پھر تحقیقات ایک ایسے افسر کے ذریعے کروائیں جس کی شہرت ایک دیانتدار اور انسانی جذبے کے حامل افسر کی ہے اور اب سامنے آنے والی رپورٹ میں سارا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا گیا اور بتایا گیا کہ کسی کو ذمہ داری کا احساس تک نہیں تھا اور انسانی جذبے کا فقدان ہر سطح پر جھلکتا نظر آرہا تھا۔ اب یہ پیغام سارے سرکاری ہسپتالوں کیلئے ہے کہ فائر سیفٹی اور ایمرجنسی ٹریننگ کو مذاق نہ سمجھیں ورنہ اب کی بار ایسے کسی واقعہ یا سانحہ پر ساری انتظامیہ گھر جائے گی۔
اگر یہ معطلیاں مقدمات اور حتمی سزاؤں میں تبدیل ہو جائیں تو سرکاری اداروں اور ان کے ذمہ داران کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ہو گی ورنہ اگر یہ محض عارضی کھیل رہا تو پیغام یہ جائے گا کہ معطلی ڈرامہ ہے حقیقی احتساب نہیں اور حکومت کا یہ اقدام خود کو دباؤ سے نکالنے کی کوشش ہے ۔ابھی تو معطلیاں ہوئی ہیں، ابھی تفصیلی رپورٹ میں بہت کچھ سامنے آئے گا اور یہ معاملہ کورٹس میں بھی جائے گا ،حقیقی جنگ تب شروع ہو گی جب متاثرہ افسران ان کے خلاف اپیلیں فائل کریں گے ۔وزیراعظم کا فوری اور اہم فیصلہ یہ بھی عیاں کرتاہے کہ حکومت پر خود پارلیمنٹ اور عوام کا شدید دباؤ تھا ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ معطلیوں کو حتمی سزاؤں میں بدلنے کیلئے ضروری ہے کہ سروسز ٹربیونلز کو مضبوط کیا جائے تاکہ نااہل افراد قانونی راستوں سے فائدہ نہ اٹھا سکیں ،ان کے نزدیک یہ فیصلہ تبدیلی کا موقع ہے ، اس پر پیشرفت تمام اداروں تک وسیع تر ہونی چاہیے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments