پمز فائر سیفٹی اقدامات غیر تسلی بخش، سی ڈی اے مراسلوں تک محدود
دسمبر 2025 میں آلات نصب کرنے کی ہدایت کی گئی ، معائنے ،سفارشات بے اثر
اسلام آباد (ایس ایم زمان)پاکستان انسٹیٹیو ٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں گزشتہ کئی سال سے فائر سیفٹی کے اقدامات غیر تسلی بخش قرار د ئیے جاتے رہے ہیں، تاہم سی ڈی اے کی جانب سے کارروائی محض مراسلوں تک محدود رہی اور پمز کے خلاف تاحال کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی ، کیپیٹل ایمرجنسی سروس، سی ڈی اے نے گزشتہ سال 10 دسمبر 2025 کو پمز انتظامیہ کو مراسلہ ارسال کیا ، جس میں ہسپتال میں آگ سے تحفظ کے انتظامات اور ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری ضروری فائر سیفٹی آلات نصب کرنے کی ہدایت کی گئی تھی ،سی ڈی اے کی جانب سے پمز کو ارسال کئے گئے مراسلے میں کہا گیا تھا کہ پمز کا متعدد مرتبہ معائنہ کیا گیا، جس کے دوران آگ سے بچاؤ اور تحفظ کے انتظامات سے متعلق سفارشات بھی پیش کی گئیں۔مراسلے کے مطابق عمارتوں میں آگ سے تحفظ اور انسانی جان و مال کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے سی ڈی اے بلڈنگ سٹینڈرڈز فار فائر پریوینشن اینڈ لائف سیفٹی 2010، بلڈنگ کوڈ آف پاکستان اور اسلام آباد فائر پریوینشن اینڈ لائف سیفٹی ریگولیشنز 2010 کے تحت حفاظتی انتظامات لازمی ہیں۔سی ڈی اے نے کہا تھا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پمز میں متعدد ہنگامی آڈٹ اور معائنے کئے گئے اور آگ سے بچاؤ کے لئے ضروری اقدامات اور آلات کی تنصیب سے متعلق سفارشات دی گئیں، تاہم اب تک متعلقہ دفتر کی جانب سے ان سفارشات پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
مراسلے میں پمز انتظامیہ کو ہدایت کی گئی تھی کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا آتشزدگی کی صورت میں جانی و مالی نقصان سے بچنے کے لئے تجویز کردہ فائر سیفٹی آلات کی تنصیب اور دیگر حفاظتی انتظامات جلد از جلد مکمل کیے جائیں۔سی ڈی اے نے خبردار کیا تھا کہ محفوظ عمارت کے حوالے سے سفارشات پہلے ہی فراہم کی جا چکی ہیں اور مزید تاخیر کو دانستہ تاخیر تصور کیا جائے گا۔ مراسلے میں واضح کیا گیا تھا کہ تاخیر کے باعث کسی حادثے یا آتشزدگی کی صورت میں متعلقہ انتظامیہ یا ادارہ ذمہ دار ہوگا اور سی ڈی اے کسی قسم کی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا۔مراسلے میں اسلام آباد فائر پریوینشن اینڈ لائف سیفٹی ریگولیشنز کے تحت خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی اور جرمانے کی شقوں کا بھی حوالہ دیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود سی ڈی اے کی جانب سے پمز انتظامیہ کے خلاف تاحال کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جا سکی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments