موجود صوبوں کو فعال کرنے کیلئے اقدامات کریں:وکلا رہنما

موجود صوبوں کو فعال کرنے کیلئے اقدامات کریں:وکلا رہنما

حکومت مکمل ناکام ہو چکی، فوری نئے الیکشن کروائے جائیں :سینیٹر حامد خان صوبوں کی تقسیم ملک توڑنے کے مترادف :عرفان باجوہ، شہزاد کاکڑ ، اویس

لاہور(کورٹ رپورٹر)وکلا رہنماؤں نے کہا ہے کہ فارم 47 کی پیداوار حکومت کو نئے صوبے بنانے کا قانونی آئینی اختیار نہیں ، موجودہ صوبوں کو فعال کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز یہاں لاہور ہائیکورٹ بار میں سربراہ پروفیشنل گروپ سینیٹر حامد خان ،صدر لاہور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن عرفان حیات باجوہ ،ممبران پنجاب بار کونسل شہزاد احمد کاکڑ اور اویس احمد بھٹی نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔   سینیٹر حامد خان نے کہا عدالتی نظام مکمل تباہ کرکے رکھ دیا گیا ،آئینی نظام فیل نہیں ہوا بلکہ جعلی نظام ناکام ہوا ،فارم 47 کی حکومت مکمل ناکام ہو چکی ،ضرورت اس امر کی ہے ملک میں فوری نئے الیکشن کروائے جائیں ،آئین کے تحت صرف صوبوں کی حدود تبدیل ہو سکتی ہے نئے صوبوں کی اس میں کوئی گنجائش نہیں،صوبوں کی تقسیم سے فیڈریشن کا وجود ختم ہو جائے گا۔

عرفان حیات باجوہ نے کہا کہ پاکستان پر مسلط حکمرانوں نے اپنے مقاصد کیلئے آئین میں 26 ویں اور 27 ویں ترامیم کیں، موجودہ حکمرانوں کو آئین میں ترامیم کا کوئی اختیار نہیں لیکن پھر بھی ملکی سالمیت کیلئے ہونے والی ترامیم کو ماننے کو تیار ہیں ،حکومت من پسند ترامیم نہ کرے یہ نہ ہو عوام اٹھ کھڑے ہوں، صوبوں کی تقسیم ملک توڑنے کے مترادف ہوگا۔ شہزاد احمد کاکڑ اور اویس احمد بھٹی نے کہا ملک میں غیر آئینی ترامیم لائی جا رہی ہیں،پنجاب بار حکمران ٹولے کی نئے صوبے بنانے کی قرارداد کو تسلیم نہیں کرتی ، صوبوں کی تقسیم ملک کے مسائل کا منصفانہ حل نہیں، نئے صوبے بنانے کی بجائے عوام کو نچلی سطح پر حقوق دینا ہوں گے ،ہم وکلا کی ایکشن کمیٹی بنا کر اگلا لائحہ عمل تیار کریں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...