زرعی ملک میں گندم درآمد کرنا شرمناک:کسان اتحاد

زرعی ملک میں گندم درآمد کرنا شرمناک:کسان اتحاد

پیداواری لاگت3850روپے ،حکومت 4700ریٹ یقینی بنائے بحران نہیں آئیگا حکومتی غلط فیصلوں سے کسان مرتے ہیں، مرکزی صدر خالد کھوکھر کی پریس کانفرنس

لاہور( کامرس رپورٹر)پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی صدر خالد کھوکھر نے کہا کہ گندم درآمد کرتے ہوئے انہیں شرم نہیں آتی ہم کسانوں کو شرم آتی ہے ، زرعی ملک ہوکر گندم ایکسپورٹ کرنے کی بجائے امپورٹ کررہے ہیں، یہ ہوتی ہے گورننس؟، یہ سب غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے ، خالد کھوکھر کا کہنا تھا کہ تاجر شٹر ڈاؤن ہڑتال کرتاہے ،صنعت کار فیکٹری کا پہیہ روک دیتا ہے ،ٹرانسپورٹرپہیہ جام ہڑتال کرتا ہے ،سرکاری ملازم قلم چھوڑ ہڑتال کرتا ہے ، ہم کاشتکار زراعت میں کمی لاکر احتجاج کریں گے ،پریس کلب میں مرکزی صدر خالد کھوکھر نے کہا حکومت سے مطالبہ ہے  کہ آٹا ،چینی اور گنے پر سیاست نہ کریں ،پہلے گندم کو ڈی ریگولیٹ کیا پھر روٹی کی قیمت طے کی اور بعد میں اگست کے ماہ میں گندم کی قیمت مقرر کردی گئی، گندم کی پیداواری لاگت3850 روپے اگر حکومت 47سو روپے ریٹ یقینی بنادے تو آئندہ برس آٹے یا گندم کا بحران نہیں آئے گا۔

کاشتکاروں نے 3 ہزار سے 35 سو روپے میں فروخت کی ،اب یہی گندم 5 ہزار روپے من تک بک رہی ہے اس سے کاشتکار بھی ماراگیا اور صارف بھی ماراگیا،جب کسان کو مناسب پیداواری لاگت کیساتھ آمدن نہیں ملے گی تو زراعت خراب ہوگی، گندم کی وجہ سے کاشتکاروں کو2200 ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے ، محکمہ زراعت کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے 16 فیصد گنا زیادہ کاشت ہوا یعنی اس بار چینی25 فیصد زیادہ ہوگی ۔حکومت سے مطالبہ ہے اس بار کاشتکار کا معاشی قتل مت کرنا، آپ کے غلط فیصلوں سے کسان مرتے ہیں، حکومت 3 ملین ٹن گندم امپورٹ کرنے کی طرف جارہی ہے ،صرف اور صرف اپنی ضد کی وجہ سے کہ میں نے روٹی14 روپے کی بیچنی ہے ،ہم چاہتے ہیں روٹی مفت ملے لیکن کاشتکار کی پیداواری لاگت کم کی جائے ، یہاں مس مینجمنٹ ہے اور گورننس نام کی کوئی شے نہیں ہے ،کاشتکاروں کیلئے کوئی جامع کسان دوست پالیسی موجود نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...