چترال، دیر، تیمرگرہ ، بونیر پر مشتمل نیا صوبہ بنایا جائے :سینیٹر طلحہ
صوبہ ہزارہ تحریک کی قیادت نے بھی چترال صوبے کی تجویز کی حمایت کردی قومی مفاد میں نئے صوبے وقت کی ضرورت :سردار یوسف کی پریس کانفرنس
اسلام آباد(سہیل خان، اپنے رپورٹر سے ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود نے چترال، دیر، تیمرگرہ اور بونیر پر مشتمل نئے صوبے کی تجویز پیش کر دی ، ان کا کہنا ہے کہ یہ علاقے زمینی طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہیں ،پشاور سے دور ہونے کے باعث طویل عر صہ سے یہ علاقے پسماندگی کا شکار ہیں ، خطہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے الگ صوبہ یا انتظامی یونٹ بننے کی صورت میں وفاق یا موجودہ صوبے پر زیادہ انحصار کم کیا جاسکتا ہے ،یہ تجویز سینیٹر طلحہ محمود نے ہزارہ صوبہ تحریک کی قیادت سے ملاقات کے دوران پیش کی۔ اس موقع پر تحریک کے سربراہ سردار محمد یوسف بھی موجود تھے ، ہزارہ صوبہ تحریک کی قیادت نے صوبہ چترال کی تجویز کی حمایت کردی۔سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ملک میں نئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بات خوش آئند ہے ، جبکہ ہزارہ صوبہ تحریک 2010 سے جاری ہے ،وہ چترال، دیر، تیمرگرہ اور بونیر کے علاقوں کا دورہ کر چکے ہیں اور زمینی حقائق سے واقف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر اس خطے کو الگ صوبہ یا انتظامی یونٹ بنا دیا جائے تو قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باعث یہ اپنی ترقی اور معیشت کے لئے کسی دوسرے پر زیادہ انحصار نہیں کرے گا۔ ہزارہ صوبہ تحریک کی قیادت نے سینیٹر طلحہ محمود کی جانب سے نئے صوبے کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہزارہ صوبے کے قیام کے لئے جدوجہد جاری رہے گی ، دریں اثنا سینیٹر طلحہ محمود کی رہائش گاہ پر صوبہ ہزارہ تحریک کے مشاورتی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے سردار محمد یوسف نے کہا کہ نئے صوبے وقت کی ضرورت ، ہزارہ کا کیس تیار ہے ، اسے فوری صوبہ بنا دینا چا ہئے ، ہزارہ صوبے کیلئے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دوبارہ بل لائینگے ، اس موقع پر سینیٹر طلحہ محمود، بریگیڈیئر شہزاد اعوان اور مرکزی کوآرڈی نیٹر پروفیسر سجاد قمر نے بھی خطاب کیا۔ سردار محمد یوسف نے کہا کہ ہزارہ صوبے کے لئے خیبر پختونخوا اسمبلی تین بار قرارداد منظور کر چکی ، اب ہم قومی اسمبلی میں بل اور سینیٹ میں نوٹس دیں گے ، قوم کا پیسہ قوم پر خرچ نہیں ہو رہا ، اگر ہم ملک و قوم کی فلاح چاہتے ہیں تو ہمیں صوبے بنانا ہوں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments