امریکا سے اسٹریٹجک اتحاد خلیجی سلامتی کیلئے نا کافی :قطر:توانائی کی برآمدات اور تجارت کو یرغمال نہیں بننے دیں گے:متحدہ عرب امارات
امریکا پر مکمل انحصار نہیں کر سکتے ،خلیجی ممالک کو خود کفیل ہونا ہوگا، ترجمان قطری وزارت خارجہ،ایران کیساتھ اعتماد بحال کرنا مشکل مگر ضروری، یو اے صدارتی مشیر آبنائے ہرمز میں امریکی فوجی کارروائیوں میں شرکت پرایران کی جنوبی کوریا کو سنگین نتائج کی دھمکی،عمان کی بحریہ نے ایرانی حملے کے شکار سعودی ٹینکر سے 16 ملاح بچا لیے
ابوظہبی(نیوز ایجنسیاں )قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کا کہنا ہے کہ ایران جنگ نے یہ بات نمایاں کی ہے کہ خلیجی ریاستیں اپنی سلامتی کیلئے صرف امریکا کے ساتھ سٹریٹجک پارٹنرشپ پر انحصار نہیں کر سکتیں۔قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ابو ظہبی میں ہیلی فورم پر خطاب کے دوران کہا کہ ہمیں خلیجی خطے میں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خطے میں بین الاقوامی افواج کی موجودگی اور امریکا کے ساتھ سٹریٹجک اتحاد انتہائی اہم ہے ، لیکن یہ کافی نہیں ہے ۔ سلامتی کے معاملے میں خود انحصاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے ۔خلیجی ممالک اپنی سکیورٹی کے لیے امریکا اور دیگر عالمی اتحادوں پر مکمل انحصار نہیں کرسکتے ، انہیں دفاعی معاملات میں زیادہ خود انحصاری اختیار کرنا ہوگی۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اپنی توانائی کی برآمدات اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے متبادل راستے تعمیر کر رہا ہے تاکہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث یرغمال نہ ہوں۔برطانوی میڈیا کے مطابق قرقاش نے ابو ظہبی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری توانائی کی برآمدات، تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا، ایران کے ساتھ اعتماد بحال کرنا مشکل لیکن ضروری ہے ۔
ابوظہبی میں ہیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایران کے ساتھ سکیورٹی، عدم مداخلت، بحری آمدورفت، اقتصادی تعاون اور باہمی اعتماد سمیت وسیع تر امور پر مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ قرقاش نے کہا کہ خلیجی ممالک ایران کے خطرے کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنانے میں ناکام رہے اور ہر ملک نے انفرادی طور پر اپنا دفاع کیا۔ ان کے مطابق جغرافیائی صورتحال ایران سے رابطے کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑتی، تاہم اعتماد کی بحالی ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔ ۔انھوں نے اپنے خطاب کے دوران ایران کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے تعلقات کی بحالی کو خارج الامکان تو قرار نہیں دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کے حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔انور قرقاش نے خلیجی عرب ریاستوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ ایران کے معاملے میں مشترکہ ردعمل دینے میں ناکام رہیں۔
ایران نے جنوبی کوریا کو آبنائے ہرمز میں فوجی تعیناتی یا امریکی کارروائیوں میں شرکت سے خبردار کرتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے ۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ خلیج فارس یا آبنائے ہرمز میں کسی دوسرے ملک کی فوجی شرکت امریکی جارحیت کی براہ راست حمایت تصور ہوگی۔ سیئول نے گزشتہ جمعہ کو آبنائے ہرمز میں امریکی سکیورٹی کوششوں میں ممکنہ تعاون پر غور کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز کے اطراف کشیدگی برقرار ہے ۔ ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے اجازت لازمی قرار دی ہے ، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے ۔ عمانی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ایک ہفتہ قبل ایرانی حملے کا نشانہ بننے والے سعودی پرچم بردار آئل ٹینکر کے 16 ملاحوں کو بحفاظت نکال لیا۔ عمان کے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر کے مطابق شاہی بحریہ کے ایک جہاز نے ٹینکر کے 25 رکنی عملے کو ضروری معاونت فراہم کی اور 16 ملاحوں کو طبی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ حکام نے دیگر ملاحوں کی صورتحال سے متعلق تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم تصدیق کی کہ واقعے میں دو افراد ہلاک ہوئے ۔
سعودی قومی شپنگ کمپنی کے مطابق جاں بحق ہونے والے دونوں ملاح فلپائن کے شہری تھے ۔ پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ بحری جہازوں کا آبنائے ہرمز میں امریکی کوریڈور سے محفوظ گزرنا مشکل ہے ۔ محفوظ سفر کے لیے بحری جہاز ایران کے مقررہ راستے سے گزریں، خلیج عمان میں داخل ہونے والا کوئی بحری جہاز خطرات سے محفوظ نہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان میں بحری جہازوں کی نگرانی جاری ہے ۔ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے ملک کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو تہران امریکہ اہداف کو بھی نشانہ بنائے گا۔پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی سیکریٹری خارجہ کو مخاطب کرتے ہوئے قالیباف کا کہنا تھا کہ اگر ہماری تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا تو جواب میں آپ کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔’انھوں نے مزید کہا کہ ‘ہم یہ پہلے بھی یہ ثابت کر چکے ہیں۔ اُن (امریکی) اڈوں سے پوچھ لیں جو اب قابلِ استعمال نہیں رہے ۔خیال رہے دو دن قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا تھا کہ اگر ایران امریکی بحری جہازوں پر حملہ کرے گا تو ہم ان کے آئل ٹینکرز کو تباہ اور غرق کر دیں گے ۔ ایران کو چاہیے کہ امریکی بحریہ پر حملے نہ کرے ۔
انھوں نے مزید کہا تھا کہ ایران کے آئل ٹینکرز ناقابل دفاع ہیں، ایران کے کے پاس نہ بحریہ ہے اور نہ فضائیہ۔ ہمارے ہوائی جہاز، بحری جہاز اور آبدوزیں انھیں جب چاہیں نشانہ بنا سکتی ہیں۔ایران کے مقامی میڈیا کے مطابق صوبہ سیستان و بلوچستان میں مسلح مخالفین کے ایک گروپ کے ساتھ جھڑپ میں پاسدارانِ انقلاب کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے ۔ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ واقعہ زاہدان کے علاقے کورین میں پیش آیا۔حملے میں ہلاک ہونے والے دونوں اہلکاروں کا تعلق شہید میر حسینی بیس سے تھا، جو سیستان و بلوچستان میں پاسدارانِ انقلاب کی بری افواج کا ایک اڈہ ہے ۔سیستان و بلوچستان کے گورنر کے دفتر برائے سکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے امور کے نائب سربراہ نے بتایا کہ دونوں اہلکار بسیج کے لیے امدادی سامان اور خوراک لے جانے والی گاڑی پر حملے کے دوران ہلاک ہوئے ۔سیستان و بلوچستان صوبہ طویل عرصے سے ایرانی حکومت کے لیے سکیورٹی کے اعتبار سے ایک مشکل ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے ۔آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گراسی نے کہا ہے کہ ایران کی اہم جوہری تنصیبات تک اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کو رسائی دینے کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔
ویانا میں اجلاس کے بعد گراسی نے کہا کہ ایران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات اور جوہری تنصیبات تک رسائی مسئلے کے مثبت حل کا مختصر ترین راستہ ہے ۔ امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی تیار کردہ قرارداد میں ایران کو جوہری رپورٹنگ کی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے پر معاملہ سلامتی کونسل بھیجنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ گراسی کے مطابق ایران سے رابطہ بحال کرنا ناگزیر ہے ، جبکہ تہران نے قرارداد کو مایوس کن اقدام قرار دیا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments