نیب 40دن ریمانڈ کے آرڈیننس کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

نیب 40دن ریمانڈ کے آرڈیننس کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

پارلیمان نے مدت 14دن رکھی، صدر کو آرڈیننس سے تبدیلی کا اختیار نہیں:وکیل آرڈیننس لاہور ہائیکورٹ میں ختم، درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں:ڈپٹی اٹارنی جنرل

اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے )اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے نیب کیس میں جسمانی ریمانڈ کی مدت 14 دن سے بڑھا کر 40 دن کرنے کے صدارتی آرڈیننس کے اقدام کے خلاف درخواست پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ وکیل درخواست گزار نے کہاپارلیمان کے ریمانڈ کی مدت 14 دن مقرر کرنے کے باوجود صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اسے 40 دن تک بڑھانا آئینی اختیار سے تجاوز ہے ۔ صدر کو یہ اختیار حاصل  نہیں تھا کہ وہ آرڈیننس کے ذریعے یہ پارلیمانی فیصلہ تبدیل کرتے جبکہ مذکورہ آرڈیننس اسمبلی سے منظور نہیں ہوا بلکہ مسترد کر دیا گیا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل میاں فیصل عرفان نے مخالفت کرتے ہوئے کہا متعلقہ آرڈیننس لاہور ہائیکورٹ میں ختم ہو چکا ہے ، فیصلہ آچکا اور درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں، لہٰذا درخواست خارج کی جائے ۔ وکیل درخواست گزار نے کہا اصل سوال آرڈیننس ختم ہونے کا نہیں بلکہ صدر کے آئینی اختیار کا ہے کیونکہ ایسی ہنگامی صورتحال تھی اور نہ ہی غیر معمولی حالات تھے کہ جن کی بنیاد پر پارلیمان کا مقرر کردہ قانونی انتظام صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تبدیل کیا جاتا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...