حوثیوں کا اہم بندرگاہ پر قبضہ، تیل کی عالمی سپلائی کو خطرہ
یمن کے مخا شہر، جزیرہ زقر پر قبضے سے حوثیوں کی باب المندب پر گرفت مضبوط، یمنی افواج کی زباب کی طرف پیش قدمی، 64سعودی حملے ایران میں دھماکے ،اردن میں 10امریکی طیاروں کو نقصان،جہازوں پر 10فیصد ایرانی فریٹ فیس معطل ،تیل 107ڈالر بیرل سے متجاوز
صنعا، تہران، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کے اتحادی حوثی جنگجوؤں نے جمعرات کو یمن کے اہم بندرگاہی شہر مخا کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد بحیرۂ احمر کے ساحل کے ساتھ مزید جنوب کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے تزویراتی اہمیت کے حامل جزائر تک رسائی حاصل کرلی جس سے عالمی توانائی کی ترسیل کو مزید خطرات لاحق ہوگئے ۔یمنی حکومت کے چار فوجی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے جنوبی دہانے اور دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ باب المندب آبنائے پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرلی ، ذرائع نے بتایا کہ حوثیوں نے تزویراتی اہمیت کے حامل حنیش جزائر پر بھی حملے کئے اور جزیرہ زقر پر قبضہ کرلیا ہے ۔دوسری جانب یمنی حکومت کی فوج اور اس کے اتحادی بحیرۂ احمر کے ساحل کے ساتھ جنوب کی جانب ذباب کی طرف منتقل ہورہے ہیں، جو آبنائے کے عین قریب واقع ہے اور اس کے سامنے پریم جزیرہ ہے ،حکومتی فوجی ذرائع کے مطابق ذباب اور پریم جزیرے کا کنٹرول باب المندب پر گرفت حاصل کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
یمنی حکومت، ایرانی اور علاقائی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ حوثیوں کی اس ہفتے ساحل کے ساتھ پیش قدمی ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی براہِ راست رہنمائی کے ساتھ ہوئی۔دوسری جانب وال سٹریٹ جرنل نے جمعرات کو امریکی اور مشرقِ وسطیٰ کے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران نے موجودہ پرزہ جات سے بیلسٹک میزائلوں کی پیداوار دوبارہ شروع کردی ہے اور زیرِ زمین تنصیبات میں بھی کام جاری ہے ۔سعودی عرب نے اپنی تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے جواب میں یمن کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے بھی کیے ہیں،حوثیوں کے مطابق جمعرات کو ان حملوں کی تعداد 64 رہی،جبکہ سعودی سول ڈیفنس حکام نے جنوب مغربی شہر خمیس مشیط میں 24 گھنٹوں کے دوران چوتھی مرتبہ ہنگامی انتباہ جاری کیاجہاں حوثی حملے کر رہے تھے۔ سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا کہ حوثی ملیشیا سعودی تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا انصاراللہ یمن کی خودمختار تنظیم ہے جو اپنے فیصلے خود کرتی ہے ، نہ تو وہ کسی سے احکامات لیتی ہے اور نہ ہی کسی کی پراکسی ہے ۔اگرچہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ جنگ انتخابات کے فوراً بعد ختم ہوجائے گی تاہم وال سٹریٹ جرنل کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ مشیروں نے نجی طور پر ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ یہ تنازع ان کی صدارت کی باقی مدت تک، یعنی جنوری 2029 تک، جاری رہ سکتا ہے ۔ ادھر امریکی میڈیا کے مطابق اردن کے موافق سلطی ایئربیس پر 2 روز قبل ہونے والے میزائل حملوں میں متعدد امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا ہے ،ایک A-10 تھنڈر بولٹ جنگی طیارہ ایرانی میزائلوں کی زد میں آیا جس سے طیارے کا ایک پر تباہ ہوگیا، تقریباً 8 ایف-15 جنگی طیاروں کو بھی معمولی نقصان پہنچا، تاہم انہیں مرمت کے بعد دوبارہ سروس میں شامل کرلیا گیا،قبل ازیں خبر سامنے آئی تھی کہ امریکی فوج نے اردن میں موافق سلطی ایئربیس سے ہیلی کاپٹر منتقل کرنا شروع کردئیے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ان میں وہ ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں جو امریکا کے خلاف منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایران کی جوابی کارروائی میں تباہ ہوئے تھے ۔ایران میں میناب اور قشم کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بدستور متاثر ہے ،جمعرات کو جاری ہونے والے ابتدائی بحری نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق، بدھ کو صرف سات بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ، جو گزشتہ 10 دن کی اوسط کا نصف ہے ۔ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث تیل برآمدات شدید متاثر ہونے کے بعد تیل، گیس اور دیگر پٹرولیم مصنوعات لے جانے والے غیر ملکی بحری جہازوں پر عائد 10 فیصد فریٹ (مال برداری) فیس کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔
یہ 10 فیصد کی کمی اضافی محصول پر کی گئی ہے ، اس اضافی چارج نے تیل، گیس اور دیگر مائع مصنوعات کی نقل و حمل کی لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا تھا، ایرانی حکام کی جانب سے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس چارج کی وصولی اُس وقت تک روک دی جائے جب تک حکومت ان مصنوعات کی فہرست کی منظوری اور اشاعت نہیں کر دیتی جن پر یہ اضافی فیس لاگو ہو گی۔عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 107ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت 102 ڈالر فی بیرل سے بھی بڑھ گئی۔ایرانی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ملک کی دفاعی صنعت مقامی بنیادوں پر قائم اور ایرانی نوجوانوں کی صلاحیتوں و علم پر مبنی ہے ، اسے تباہ نہیں کیا جا سکتا،یہ آئندہ بھی پہلے سے زیادہ مضبوط، فعال، جدید اور ترقی یافتہ انداز میں اپنا سفر جاری رکھے گی۔
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ دفاعی تعاون جاری ہے، مکہ دفاعی معاہدے میں توسیع نہیں ہو رہی ، جبکہ پاکستان کی یمن میں فوجی کارروائی سے متعلق تاحال کوئی بات چیت نہیں ہورہی۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مکہ معاہدے پر بار بار واضح کیا گیا ہے کہ یہ تین ممالک کا دفاعی اتحاد ہے جو سمجھتے ہیں کہ خطے کے استحکام سلامتی کو ڈیٹرنس کے ذریعے محفوظ رکھنا ہے ، اس اتحاد کا حصہ بننے والے تین رکن ممالک پاکستان، ترکی اور سعودی عرب باقاعدہ ملاقاتیں کر رہے ہیں، مختلف سطح پر مشاورت کر رہے ہیں اور وہ رابطے میں ہیں ابھی تک مکہ معاہدے کی توسیع ریکارڈ پر نہیں ہے، کیونکہ پہلے انہیں اپنی تنظیم کو مضبوط کرنا ہوگا اور پھر یقیناً یہ ان تمام ممالک کے لئے کھلا ہوگا جو ایک جیسے خیالات رکھتے ہیں اور ایک جیسے تصورِ خطرے کا ادراک اور تقاضے رکھتے ہیں، اس کا فیصلہ تینوں ممالک کو بعد میں کرنا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ سعودی عرب ہمارے دفاعی اتحاد کے ساتھ ساتھ سہ فریقی دفاعی تعاون کے معاہدے کا بھی حصہ ہے ۔ پاکستان وسیع تر خطے میں امن و استحکام کے لئے مذاکرات اور سفارت کاری کو آگے بڑھا رہا ہے اور جاری رکھے گا ، تینوں ممالک کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے بنیادی مقصد علاقائی امن و استحکام کو مضبوط بنانا ہے ، یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان موجودہ طویل مدتی تعلقات اور دوطرفہ تعاون کے بہت سے پہلوؤں کو باضابطہ اور مزید مضبوط کرتا ہے ، معاہدہ خالصتاً دفاعی مقاصد کے لیے ہے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ دفاعی تعاون بھی جاری ہے ۔ سعودی عرب میں پاکستانی فورسز تربیت اور لاجسٹک مقاصد کے لئے موجود ہیں۔ دفاعی معاہدہ ایک چھتری کی حیثیت رکھتا ہے ، اس کے تحت مزید طریقہ کار طے ہوں گے ۔ دفاعی معاہدے پر عمل درآمد کے لئے کچھ وقت درکار ہوگا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون کے مزید پہلو جلد سامنے آئیں گے ، حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملے اور یمن میں پاکستان کی فوجی کارروائی سے متعلق سوال کے جواب میں بتایا کہ اس وقت ایک فرضی صورتِ حال ہے اور پاکستان نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کئے ہیں جو ایک حقیقت ہے ۔ پاکستان اس معاہدے پر اپنی شرائط کے مطابق عمل کرے گا لیکن ابھی تک اس قسم کی کوئی بحث نہیں ہے جس کا آپ ذکر کر رہے ہیں ، ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان یمن میں امن و استحکام کا خواہاں ہے ۔ ہم اس سلسلے میں تمام بین الاقوامی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے ۔ وہاں ہمارا سفارت خانہ بہت پہلے ہوا کرتا تھا۔ حالات کی وجہ سے ہمیں اسے بند کرنا پڑا ،ہم سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔
افغان طلباء کی واپسی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ حکومت پاکستان کی ایسی کوئی پالیسی نہیں ہے کہ سارے افغان طلباء کو نکالا جائے ۔ حکومت کی طرف سے تمام افغان طلباء کو واپس بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہے جن افغان طلباء کے پاس ویزا اور تعلیمی پروگرام میں رجسٹرڈ ہیں وہ رہ سکتے ہیں ، ترجمان نے کہا کہ بھارت کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا ،کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود حل طلب مسئلہ ہے ، بھارتی دعوؤں اور ہتھکنڈوں سے کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ یاسین ملک کی صحت کے معاملے پر تشویش ہے ، پاکستان یاسین ملک کی غیر قانونی قید کی مذمت کرتا ہے ، ان کا بیانِ حلفی بھارتی عدالتی نظام کے منہ پر طمانچہ ہے ، پاکستان نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ یاسین ملک کی صحت کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے ۔11 ستمبر کے واقعات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نائن الیون نے دنیا اور پاکستان کے حوالے سے صورتحال کو تبدیل کردیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments