پی ٹی آئی لانگ مارچ کیخلاف کیس:خیبر پختونخو احکام سے سرکاری مشینری استعمال نہ ہونے کا بیان حلفی طلب

پی  ٹی آئی  لانگ  مارچ کیخلاف کیس:خیبر پختونخو احکام  سے  سرکاری  مشینری  استعمال  نہ  ہونے  کا بیان  حلفی  طلب

اسلام آباد پر چڑھائی سیاسی سرگرمی ؟ وزیراعلیٰ کی دو ٹوپیاں ، ایک وزیراعلیٰ ،دوسری سیاسی پارٹی کے رکن کی، ریاست کیساتھ زیادہ مخلص ہونا چاہیے :چیف جسٹس ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار پراعتراض ،چیف سیکرٹری،آئی جی کے پی پیش ہوں دیگر کو نہ آ نے کی ہدایت جاری ،سماعت ملتوی

اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے ،دنیا نیوز)اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس بیانِ حلفی دیں کہ پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران سرکاری مشینری استعمال نہیں ہو گی ،عدالت نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پیش ہوں ،دیگر افسروں کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں جسٹس اعظم خان اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل تین رکنی لارجر بنچ میں سماعت سے قبل خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، ایڈیشنل آئی جی عباس احسن، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ، سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پنجاب سمیت دیگر حکام عدالت پہنچے ،سماعت کے آغاز پر ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار پراعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار اسلام آباد تک ہے۔

پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے افسروں کو ہدایات دینا اس عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں ، انہوں نے کہا کہ درخواست گزار کیسے متاثرہ فریق ہے ، ابھی تو کام ہی نہیں ہوا،اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل اور ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کے درمیان تلخی بھی ہوئی ،ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ درخواست گزار نے ایک سیاسی جماعت کو نشانہ بنایا ہے ، جبکہ لانگ مارچ ایک جماعت نہیں بلکہ متعدد جماعتیں کر رہی ہیں، جس جماعت کے خلاف کارروائی کی بات کی جارہی ہے اسے کیس میں فریق ہی نہیں بنایا گیا ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا پارٹی لانگ مارچ کر رہی ہے ؟۔ ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ وہ صرف عدالت کی معاونت کر رہے ہیں، اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے مشاورت کی ہے اور کیا وہ حکومت خیبرپختونخوا کے نمائندے ہیں؟ ۔ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ وہ خیبرپختونخوا حکومت کے نمائندے ہیں، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دئیے کہ وزیراعلیٰ کی دو ٹوپیاں ہیں، ایک وزیراعلیٰ کی اور دوسری سیاسی جماعت کے رکن کی ، چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل کو آئین کا آرٹیکل 5 پڑھنے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ وزیراعلیٰ کو ریاست سے زیادہ مخلص ہونا چاہیے ۔

ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ وزیراعلیٰ ریاست کے ساتھ بہت زیادہ مخلص ہیں اور انہوں نے کوئی ایسا بیان نہیں دیا جو آئین، قانون یا ریاست کے خلاف ہو۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے یہ بیان کیوں دیا تھا؟ وزیراعلیٰ ریاست سے مخلص ہونے کا حلف لے چکے ہیں، عدالت نے چیف سیکرٹری کے پی کو روسٹرم پر طلب کرلیا، عدالت کے استفسار پر چیف سیکرٹری کے پی نے کہاکہ سیاسی جلسے سے متعلق بیان پر وزیراعلیٰ خود جواب دے سکتے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ احتجاج ہمیشہ اسلام آباد کی طرف ہی کیوں آتے ہیں؟ چیف سیکرٹری نے اسے سیاسی سرگرمی قرار دیا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی بھی سیاسی سرگرمی ہے ؟ عدالت نے بعد ازاں چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبرپختونخوا سے بیان حلفی طلب کرلیا ،ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بیان دیا کہ انہیں بھارت سے نہیں بلکہ صوبوں سے زیادہ خطرہ ہے ، سوال یہ ہے کہ کیا یہ بیان خیبرپختونخوا کو توڑنے کے لیے نہیں؟ رانا ثناء اللہ نے بھی کہا کہ ہائیکورٹ سے لانگ مارچ کے خلاف فیصلہ آئے گا،میں ساری رات سویا نہیں ہوں،یہ کیس مجھے لیگل کم اور سیاسی زیادہ لگ رہاہے ، اس پر جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دئیے کہ ایڈووکیٹ جنرل صاحب لگ رہا ہے آپ سیاسی باتیں کر رہے ہیں، ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ حقائق بیان کر رہا ہوں،یہ کیس قانونی کم اور سیاسی زیادہ لگ رہا ہے ، انہوں نے اڈیالہ جیل سے متعلق عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ دو سال سے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں ہورہا، کیا اس کے خلاف شہریوں کو احتجاج کا حق بھی نہیں؟ ۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے جواب دیا کہ توہین عدالت کا معاملہ عدالت اور توہین کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے ،کیسز کب لگنے ہیں یہ عدالت کا انتظامی اختیار ہے ،آپ تو عجیب سی باتیں کرنے لگ گئے ہیں، کیا کیسز آپ کے مطابق لگنے ہیں؟ ۔چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل کے بعض دلائل پر ریمارکس دئیے کہ یہ تو آپ نے سیدھا سیدھا عدلیہ پر حملہ کردیا،دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا اور چیف جسٹس کے درمیان بعض جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ کوئی غلطی ہو تو معاف کردیا جائے گا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ غلطی معاف نہیں کرتا ہوتا، سمجھا دوں گا، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ آپ بادشاہ ہیں، کچھ بھی کرسکتے ہیں،چیف جسٹس نے جواب دیا کہ کہنے کی ضرورت نہیں، میں بادشاہ ہوں، ہم قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کے لیے ہیں، درخواست گزار کے وکیل نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ جج کو بادشاہ کہتے ہوئے کبھی نہیں سنا، بعد ازاں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اس درخواست میں فریق نہیں اور نہ ہی وہ عدالت میں موجود ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب کی ذمہ داری اپنے صوبے کے ہر شہری کو محفوظ رکھنا ہے ، بعد ازاں ایڈووکیٹ جنرل سندھ ،ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے دلائل دئیے ،کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...