قائمہ کمیٹی :چونگی26ناکہ پر سرعام رشوت،غیر متعلقہ اہلکار تعینات ،رپورٹ طلب

قائمہ  کمیٹی :چونگی26ناکہ  پر  سرعام  رشوت،غیر  متعلقہ  اہلکار  تعینات ،رپورٹ  طلب

ناکے سے موٹروے پولیس کا تعلق نہیں:ڈی آئی جی ، کمیٹی کی غیر متعلقہ اداروں کے اہلکار ہٹانے کی سفارش موٹروے پولیس میں 331اہلکار 20سال سے ڈیپوٹیشن پر تعینات، سینیٹ کمیٹی نے رپورٹ طلب کر لی

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں چونگی نمبر 26 کے ناکے پر سرعام رشوت لینے اور اہلکاروں کی دہاڑیاں لگنے کا انکشاف ہوا ہے ۔ چونگی نمبر 26 کاناکہ کمائی کا ذریعہ بن گیا ۔ سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ ناکہ دہاڑی کا ذریعہ بن گیا ۔ تمام ادارے چونگی 26 پر آ کر بیٹھ گئے ہیں، دہاڑیاں کما رہے ہیں۔ڈی آئی جی موٹروے نے کہا ہمارا س ناکے سے کوئی تعلق نہیں، ہم  نے تعینات نہیں کیے ، یہ مختلف اداروں نے تعینات کیے ہیں۔ ڈی آئی جی موٹروے پولیس نے ناکے سے ادارے کا تعلق مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہاں مختلف اداروں نے اہلکار تعینات کر رکھے ہیں۔ کمیٹی نے غیر متعلقہ اہلکاروں کی تعیناتی کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے انہیں ناکے سے ہٹانے کی سفارش کردی۔اجلاس میں انکشاف ہوا کہ موٹروے پولیس میں 331 افسران، ملازمین اور پولیس اہلکار ڈیپوٹیشن پر تعینات ہیں، جو 10، 15 اور 20 سال سے کام کر رہے ہیں۔ ارکان سینیٹ نے طویل عرصے سے ڈیپوٹیشن پر تعیناتی پر سوالات اٹھاتے ہوئے ریکارڈ طلب کیا۔ایس پی موٹروے پولیس کے بارے میں بھی انکشاف ہوا کہ وہ ریٹائر ہو چکا ہے اور سندھ میں تعینات ہے ۔ سینیٹر ابڑو نے اس حوالے سے ریکارڈ کمیٹی میں پیش کیا۔

ڈی آئی جی موٹروے پولیس نے بتایا کہ سندھ میں موٹروے پولیس کے 178 اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی، کئی کو معطل کیا گیا جبکہ تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کردی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ ایس پی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دیا ہے اور موٹروے پولیس کو اس کے ریکارڈ کا علم نہیں۔حکام کے مطابق مذکورہ ایس پی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کی ملازمت کے دو سال باقی ہیں، تاہم شناختی کارڈ کے ریکارڈ کے مطابق وہ اپنی عمر پوری کرچکا اور ریٹائر ہوچکا ہے ۔ کمیٹی نے معاملے پر رپورٹ طلب کرلی۔سینیٹر ابڑو نے موٹروے پولیس پر شہریوں سے بے جا جرمانے وصول کرنے اور موٹروے بند ہونے کے باوجود بروقت کارروائی نہ کرنے کے الزامات عائد کیے ۔ حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت کنٹینرز رکھ کر موٹرویز بند کرتی ہے اور موٹروے پولیس نے بارہا حکومت سے پہلے سے اطلاع دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ کم از کم وائرلیس کے ذریعے شہریوں کو موٹروے بند ہونے کی اطلاع دی جانی چاہیے ۔ سینیٹر طلحہ محمود نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ 27 ستمبر کو لانگ مارچ ہے ، راولپنڈی اسلام آباد بند کردیا گیا، تاہم حکام نے اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔پاکستان پوسٹ کے خسارے پر بھی کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا۔ حکام نے بتایا کہ علی بابا گروپ سے معاہدہ کیا گیا ہے جس کے تحت پاکستان کے تمام ڈاکخانوں کی اپ گریڈیشن اور آٹومیشن ہوگی۔ علی بابا گروپ پاکستان میں ڈاک تقسیم کرنے کے علاوہ پاکستان پوسٹ کے لوڈرز بھی چلائے گا۔ایک رکن نے ازراہِ تفنن کہا کہ علی بابا کے ساتھ چالیس چور بھی ہوتے ہیں جس پر کمیٹی میں قہقہے لگ گئے ۔ ارکان نے احتیاط برتنے اور انتظامی کنٹرول حوالے نہ کرنے پر زور دیا۔ کمیٹی نے پاکستان پوسٹ کا تین سالہ منصوبہ بھی طلب کرلیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...