لوڈشیڈنگ ملک میں گورننس کی ناکامی کی اعلیٰ ترین مثال:سینئر وزیر سندھ
وزارت پانی وبجلی کی نااہلی اور مس مینجمنٹ کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا، حیسکو، سیپکو اور کے الیکٹرک بھی ناکام ،شرجیل میمن سندھ اسمبلی اجلاس،رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع،قائداعظمؒ کوخراج عقیدت کی قراردادیں متفقہ طورپرمنظور
کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ لوڈشیڈنگ سندھ بھر کا انتہائی سنگین مسئلہ ہے ، واٹر اینڈ پاور وزارت کی نااہلی اور مس مینجمنٹ کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے ، جبکہ لوڈشیڈنگ پاکستان میں گورننس کی ناکامی کی اعلیٰ ترین مثال ہے ۔سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حیسکو، سیپکو اور کے -الیکٹرک جیسے ادارے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہیں، کے -الیکٹرک کو نجی شعبے میں دے دیا گیا، لیکن آج بھی کراچی میں لوڈشیڈنگ جاری ہے ،بجلی فراہم کرنے والے ادارے منافع بھی کما رہے ہیں، تو حکومت اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے مؤثر میکنزم کیوں نہیں بناتی؟ ، یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ کون بجلی کا بل ادا کر رہا ہے اور کون نہیں کر رہا، اگر کوئی صارف بل ادا نہیں کرتا تو اس کے خلاف کارروائی کا مؤثر نظام ہونا چاہیے ، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ جو لوگ باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں، انہیں بجلی کی بنیادی سہولت ضرور فراہم کی جائے ۔
انہوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں 18، 18 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے ، یہ کیسے قابلِ قبول ہو سکتا ہے کہ عوام کو شدید گرمی میں اس طرح عذاب میں مبتلا رکھا جائے ؟ ،مسئلہ صرف بجلی تک محدود نہیں، پانی اور گیس کے معاملے میں بھی یہی مشکلات درپیش ہیں، کراچی کے لیے پینے کے پانی کا مسئلہ بھی انتہائی اہم ہے ، پنجاب کے بعض علاقوں میں پانی کی فراہمی پر سبسڈی دی جاتی ہے ، جبکہ سندھ اور بالخصوص کراچی میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ہے ، ان تمام مسائل کو پارلیمنٹ میں بھرپور انداز میں اٹھانا چاہیے اور ایسا مؤثر میکنزم بنانا چاہیے جس کے ذریعے متعلقہ اداروں کو جوابدہ بنایا جا سکے ۔سینئر وزیر نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے حیسکو، سیپکو اور کے -الیکٹرک کے نمائندوں کو طلب کیا، لیکن اس کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہوا، اگر تمام سیاسی جماعتیں اس معاملے پر متفق ہیں تو اپنے آئینی و قانونی اختیار کو استعمال کیا جائے ، اگر حیسکو، سیپکو اور کے -الیکٹرک پارلیمانی کمیٹی کو مطمئن نہیں کرتے تو انہیں دوبارہ طلب کیا جائے ، اسی طرح گیس کے متعلقہ اداروں، پانی کے ذمہ دار اداروں اور متعلقہ وزارتوں کے نمائندوں کو بھی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے بلایا جائے اور اگر یہ ادارے پارلیمانی کمیٹی کے سامنے جوابدہی اور قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے تو ان کے خلاف مؤثر کارروائی ہونی چاہیے ۔دریں اثنا سندھ اسمبلی نے جمعہ کو صوبے میں رینجرز کی تعیناتی اور اختیارات میں مزید ایک سال کی توسیع اور بانی پاکستان کو ان کی برسی پر خراج عقیدت پیش کرنے کی قراردادیں متفقہ طورپرمنظور کر لیں۔ پہلی قراردادسندھ میں رینجرز کی تعیناتی 20 جولائی 2026 سے 19 جولائی 2027 تک بڑھانے سے متعلق ہے ۔رینجرز کی تعیناتی میں توسیع آئین کے آرٹیکل 147 کے تحت کی گئی ہے ۔
قرارداد میں کہا گیا کہ سندھ میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر رینجرز کی تعیناتی جاری رکھی جائے ،ٹارگٹ کلنگ اور اسٹریٹ جرائم میں کمی رینجرز کی کارروائیوں کا نتیجہ ہے ، کالعدم تنظیموں کی سرگرمیاں اور مفرور ملزمان سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں،اس لئے عوامی امن، جان و مال کے تحفظ کے لیے رینجرز کی موجودگی ضروری ہے ، رینجرز نے پولیس کے ساتھ مل کر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں اہم کردار ادا کیا۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو خراج عقیدت پیش کرنے کی قرارداد پیپلز پارٹی ،ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے ارکان کی جانب سے مشترکہ طورپر پیش کی گئی ۔ایوان کی کارروائی کے دوران کراچی میں فاطمیہ یونیورسٹی کے قیام کا بل اور بینظیر بھٹو شہید ہیومن ریسرچ ڈیولپمنٹ بورڈ کا ترمیمی بل متفقہ منظور کر لیاگیا۔دونوں بل وزیر قانون ضیاء الحسن لنجار نے پیش کئے ۔جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے نقطہ اعتراض پر کہا کہ میں پولیس کی تعریف کروں گا کہ اس نے جامعہ کراچی کے پروفیسر پر حملہ کرنے والا ملزم گرفتار کرلیا، کل محکمہ داخلہ کی قائمہ کمیٹی نے کہا تھاکہ 24 گھنٹے میں ملزم کو گرفتار کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ شہر میں ڈالا کلچر افسوس ناک ہے ،اس کا فوری طور پر خاتمہ کیا جائے ۔بعدازاں اسمبلی کا اجلاس پیر کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments