پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایے بھی بڑھا دیئے گئے ،مسافر پریشان

 پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایے بھی بڑھا دیئے گئے ،مسافر پریشان

لاہور سے اوکاڑہ،ساہیوال،گوجرانوالہ و دیگر شہروں کے کرایوں میں 13 فیصد اضافہ نئے کرایے نامے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کے باوجود اضافی وصولیاں جاری

لاہور (سٹاف رپورٹر سے )پٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں مسلسل اضافے کے اثرات اب براہ راست ٹرانسپورٹ سیکٹر تک پہنچ گئے ہیں اور لاہور سے دوسرے شہروں کے درمیان چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اوسطاً 13 فیصد سے زائد اضافہ کر دیا گیا، ایک روز قبل گڈز ٹرانسپورٹرز نے بھی مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں 15 فیصد اضافہ کردیاتھا۔تفصیلات کے مطابق پبلک ٹرانسپورٹرز نے مسافر گاڑیوں کے کرائے بڑھا دیئے ہیں،لاہور سے اوکاڑہ کاکرایہ 770 روپے سے بڑھا کر 900 روپے ،ساہیوال کا 910 سے بڑھا کر 1100 روپے ،چیچہ وطنی کا1180 کی بجائے 1350 روپے ،خانیوال کا 1770 سے بڑھا کر 1950 ، ملتان کا 1840 سے بڑھا کر 2100 روپے اور جلال پور کا 2030 سے بڑھا کر 2300 روپے کردیا گیا۔اسی طرح عارف والا جانے والوں سے فی مسافر 1390 کی بجائے 1500 روپے ، بہاولنگر کا1800 روپے ، چشتیاں کا1820 کی بجائے 1920 روپے ،ہارون آباد کا 1950 روپے ، فورٹ عباس کا2190 کی بجائے 2300 روپے کرایہ وصول کیا جا رہا ہے ۔لاہور سے بہاولنگر، بہاولپور، گوجرانوالہ، دیپالپور اور منڈی یزمان،رحیم یار خان، صادق آباد کے روٹس پر بھی مسافروں کو 200 سے 400 روپے اضافی ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔لاہور سے سکھر، حیدرآباد اور کراچی جانے والی بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی 600 سے 1000 روپے تک اضافہ کیا جا چکا ہے ۔ مسافروں کا کہناہے کہ پہلے ہی مہنگائی بہت زیادہ ہے ، اب پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے ۔دوسری جانب لاہور کے ڈی کلاس بس سٹینڈز پر نئے کرایوں کے باقاعدہ اعلان کے بغیر اضافی وصولیوں کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ذرائع کے مطابق ٹرانسپورٹرز کی جانب سے نئے کرایوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن یا کرایہ نامہ جاری ہوا نہ محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب نے تاحال نیا کرایہ نامہ جاری کیا۔ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی مبینہ لاپرواہی کے باعث ٹرانسپورٹرز من مرضی کے کرائے وصول کر رہے ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...