دوران سروس فوت ملازمین شہدا کے ورثا کیلئے امدادی پیکیج میں ترامیم منظور

 دوران سروس فوت ملازمین شہدا کے ورثا کیلئے امدادی  پیکیج میں ترامیم منظور

اسلام آباد(ایس ایم زمان)وزیراعظم نے دوران ملازمت فوت ہونے والے ملازمین کے اہل خانہ کے لیے امدادی پیکیج میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔ ترمیم شدہ پیکیج کے تحت دہشت گردی اور سکیورٹی کے فرائض ادا کرتے ہوئے فوت ہونے والے ملازمین کے خاندانوں کے لیے 2 کروڑ روپے تک امداد مقرر کی گئی ہے، جبکہ دیگر صورتوں میں وفات پانے والے ملازمین کے لواحقین کو گریڈ کے لحاظ سے 6 لاکھ سے 30 لاکھ روپے تک یکمشت گرانٹ دی جائے گی۔

نظرثانی شدہ پیکیج کے تحت عام حالات میں فوت ہونے والے گریڈ 1 سے 4 تک کے ملازمین کے اہل خانہ کو 6 لاکھ روپے ، گریڈ 5 سے 10 کے لیے 9 لاکھ، گریڈ 11 سے 15 کے لیے 12 لاکھ، گریڈ 16 اور 17 کے لیے 15 لاکھ، گریڈ 18 اور 19 کے لیے 24 لاکھ جبکہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے ملازمین کے خاندانوں کو 30 لاکھ روپے دیے جائیں گے ۔سکیورٹی سے متعلق واقعات، جن میں دہشت گردی، بم دھماکے ، فائرنگ، فسادات یا سرکاری ڈیوٹی کی نوعیت سے جڑے دیگر واقعات شامل ہیں، میں جاں بحق سرکاری ملازمین کے خاندانوں کے لیے گریڈ 1 سے 10 تک ایک کروڑ، گریڈ 11 سے 15 کے لیے ایک کروڑ 25 لاکھ، گریڈ 16 اور 17 کے لیے ایک کروڑ 50 لاکھ، گریڈ 18 اور 19 کے لیے ایک کروڑ 80 لاکھ جبکہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے لیے 2 کروڑ روپے دیے جائیں گے۔

سرکاری ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے حادثے میں جاں بحق ملازم کے معاملے میں اگر 3 رکنی محکمانہ کمیٹی کی تحقیقات میں موت کو واقعے سے متعلق قرار دیا جائے تو مقررہ امداد دی جائے گی۔ کمیٹی کی سربراہی کم از کم گریڈ 19 کا افسر کرے گا۔ اس صورت میں گریڈ 1 سے 10 کے لیے 30 لاکھ، گریڈ 11 سے 15 کے لیے 40 لاکھ، گریڈ 16 اور 17 کے لیے 45 لاکھ، گریڈ 18 اور 19 کے لیے 50 لاکھ جبکہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے لیے 70 لاکھ روپے دیے جائیں گے ۔سکیورٹی سے متعلق واقعے میں مستقل معذوری کی صورت میں متاثرہ افسر یا اہلکار کو 30 لاکھ روپے ، عارضی معذوری پر 10 لاکھ، سنگین نوعیت کی چوٹ پر 2 لاکھ جبکہ معمولی چوٹ کی صورت میں ایک لاکھ روپے کی یکمشت گرانٹ دی جائے گی۔

پیکیج کے مطابق سکیورٹی سے متعلق واقعے میں جاں بحق ہونے والے ملازم کے خاندان کو ملازم کی ریٹائرمنٹ کی عمر تک مکمل تنخواہ اور الاؤنسز بھی دیے جائیں گے ، جن میں حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً نظرثانی کی جانے والی تنخواہوں اور الاؤنسز کے فوائد شامل ہوں گے ۔ تاہم حادثات کے معاملات میں یہ سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔دوران ملازمت وفات پانے والے ملازم کے خاندان کو اس کی سروس کی مدت اور آخری حاصل کردہ تنخواہ کی بنیاد پر 100 فیصد پنشن دی جائے گی۔ اگر ملازم نے 10 سال سے کم سروس کی ہو تو پنشن کے لیے کم از کم 10 سال کی سروس شمار کی جائے گی۔ سکیورٹی سے متعلق موت کے معاملے میں خاندان کو متعلقہ پنشن قواعد کے تحت ریٹائرمنٹ کے بعد مکمل پنشن دی جائے گی۔سرکاری مکان یا کرائے پر حاصل کیا گیا مکان ملازم کی ریٹائرمنٹ کی عمر تک یا کم از کم 5 سال تک، جو مدت بعد میں ختم ہو، خاندان کو رکھنے کی اجازت ہوگی۔ اگر متوفی ملازم کو سرکاری رہائش حاصل نہیں تھی تو خاندان کو مقررہ مدت تک اس کے گریڈ کے مطابق ہاؤس رینٹ الاؤنس یا اس کی حد دی جائے گی۔

ملازم کے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس میں ٹیوشن فیس، کتابوں سے متعلق اخراجات اور مقررہ شرائط کے تحت اخراجات زندگی شامل ہوں گے ۔ سکیورٹی سے متعلق موت کے معاملے میں یہ سہولت بچوں کی پوسٹ گریجویشن تک جاری رکھنے کی منظوری دی گئی ہے ۔پلاٹ کی سہولت کے بجائے یکمشت رقم بھی مقرر کی گئی ہے ، تاہم شرط ہوگی کہ ملازم کو پہلے پلاٹ الاٹ نہ کیا گیا ہو۔ گریڈ 1 سے 8 کے لیے 20 لاکھ، گریڈ 9 سے 16 کے لیے 50 لاکھ جبکہ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے لیے 70 لاکھ روپے دیے جائیں گے ۔سکیورٹی سے متعلق موت کی صورت میں گھر خریدنے کے لیے گریڈ 1 سے 10 کے لیے کم از کم 5 مرلہ گھر کی خریداری کے لیے ایک کروڑ 35 لاکھ، گریڈ 11 سے 15 کے لیے کم از کم 7 مرلہ گھر کے لیے ایک کروڑ 75 لاکھ، گریڈ 16 اور 17 کے لیے کم از کم 10 مرلہ گھر کے لیے 2 کروڑ 50 لاکھ، گریڈ 18 اور 19 کے لیے کم از کم 12 مرلہ گھر کے لیے 3 کروڑ جبکہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے لیے کم از کم 20 مرلہ گھر کی خریداری کے لیے 5 کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے۔

سکیورٹی سے متعلق موت کے معاملے میں گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے ملازم کے خاندان کو 1300 سی سی گاڑی، یعنی ٹویوٹا کرولا یا اس کے مساوی رقم، جبکہ گریڈ 16 اور 17 کے ملازم کے خاندان کو 1000 سی سی گاڑی یا اس کے مساوی رقم فراہم کی جائے گی۔شہید سرکاری ملازم کے خاندان کو مکان کی دیکھ بھال یا ٹرانسپورٹ الاؤنس کی مد میں ماہانہ رقم بھی دی جائے گی۔ گریڈ 1 سے 10 کے لیے 20 ہزار، گریڈ 11 سے 15 کے لیے 35 ہزار، گریڈ 16 اور 17 کے لیے 50 ہزار، گریڈ 18 اور 19 کے لیے 75 ہزار جبکہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے لیے ایک لاکھ روپے ماہانہ مقرر کیے گئے ہیں۔پیکیج میں متوفی ملازم کی بیوہ، بیوہ نہ ہونے کی صورت میں بیٹے یا بیٹی کو گریڈ 1 سے 15 کی اسامی پر باقاعدہ بنیادوں پر ملازمت دینے کی سہولت بھی شامل ہے ، جس کے لیے متعلقہ سرکاری طریقئہ کار پر عمل کیا جائے گا۔ شادی کے لیے بیٹی کو 8 لاکھ روپے کی گرانٹ دی جائے گی اور یہ رقم دوران ملازمت وفات اور سکیورٹی سے متعلق موت، دونوں صورتوں میں خاندان کو دی جائے گی۔

خاندان کو دوران سروس حاصل کردہ استحقاق کے مطابق مفت طبی سہولت بھی جاری رہے گی۔ اگر ملازم نے اے جی پی آر یا صوبائی اکاؤنٹنٹ جنرل کے دفتر سے ہاؤس بلڈنگ، موٹر کار یا موٹر سائیکل ایڈوانس لیا ہو تو اس کی بقایا رقم معاف کردی جائے گی۔ جی پی فنڈ کی قابل ادائیگی رقم بھی متوفی ملازم کے خاندان کو دی جائے گی جبکہ بینیوولنٹ فنڈ سے بیمہ شدہ رقم اور متعلقہ ماہانہ بینیوولنٹ گرانٹ بھی قواعد کے مطابق ادا کی جائے گی۔سکیورٹی سے متعلق موت کے معاملے میں بینیوولنٹ فنڈ سے خصوصی امداد بھی دی جائے گی۔ گریڈ 1 سے 10 کے لیے 2 لاکھ، گریڈ 11 سے 16 کے لیے 3 لاکھ، گریڈ 17 سے 19 کے لیے 4 لاکھ جبکہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے لیے 5 لاکھ روپے مقرر کیے گئے ہیں۔پیکیج کے تحت ہر وزارت، ڈویژن اور محکمے کو گریڈ 17 یا 18 کے ایک افسر کو بطور کونسل نامزد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جو واقعے کے ایک ماہ کے اندر وفات پانے والے سرکاری ملازمین کے خاندانوں کو پیکیج کے تحت تمام سہولتوں کی فراہمی اور کارروائی مکمل کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔

ہر سرکاری ملازم کے خاندان کے افراد کی پنشن کے مقصد کے لیے فہرست پہلے سے مرتب کی جائے جبکہ ہر ملازم کی زندگی کے دوران جنرل پروویڈنٹ فنڈ کے لیے نامزدگی بھی یقینی بنائی جائے ۔وفاقی حکومت کے مطابق سرکاری ملازم کی موت کو سکیورٹی سے متعلق موت اسی وقت تصور کیا جائے گا جب وہ دہشت گردی، مسلح مزاحمت، ٹارگٹ حملے یا سرکاری فرائض کی انجام دہی سے منسلک یا اس سے براہ راست متعلق کسی دشمنانہ کارروائی کے نتیجے میں ہوئی ہو۔ محض کسی حادثے کو، اگر وہ سرکاری فرائض کی انجام دہی سے پیدا نہ ہوا ہو، سکیورٹی سے متعلق موت قرار نہیں دیا جائے گا۔نظرثانی شدہ پیکیج وفاقی حکومت کے ان تمام ملازمین پر لاگو ہوگا جو اس کے اجرا کی تاریخ کو دوران ملازمت ہوں یا اس کے بعد ملازمت میں شامل ہوں، اور یہ اس سے قبل جاری کیے گئے متعلقہ امدادی یا شہداء پیکیجز کی جگہ نافذ العمل ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...