چیف جسٹس حقائق کے برعکس درخواست پر برہم، درخواستگزار کو جرمانہ
پہلے ایک لاکھ روپے جرمانہ جمع کروائیں، پھر آپ کا کیس سنوں گی :چیف جسٹس عالیہ نیلم عدالتی فیصلے کے باوجود پنجاب اسمبلی میں ذاتی تشہیر کیلئے قانون سازی کی گئی:درخواستگزار
لاہور(کورٹ رپورٹر،آئی این پی )لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے حقائق کے برعکس بے بنیاد درخواست دائر کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے درخواست گزار پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا ۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس میں کہا کہ پہلے ایک لاکھ روپے جرمانہ جمع کروائیں، پھر آپ کا کیس سنوں گی۔ چیف جسٹس نے شہری اشبا کامران کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور سپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزار نے مو قف اپنایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کی گئی، سپریم کورٹ نے سرکاری خزانے پر ذاتی تشہیر کو غیر قانونی قرار دیا، سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے ۔عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ درخواست کدھر ہے جس پر حکم جاری ہوا؟ ۔کیس دائر کرتے وقت تمام چیزوں کو مدنظر رکھ کر درخواست دائر ہوتی ہے ۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ عدالت عظمٰی کے فیصلے کے باوجود پنجاب اسمبلی میں تشہیر کیلئے قانون سازی کی گئی، نواز شریف کی سرکاری عہدے پر نہ ہونے کے باوجود منصوبوں پر تصاویر لگائی جارہی ہیں، چیف سیکرٹری عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے باوجود فنڈز جاری کر رہے ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنا توہین عدالت ہے ، توہین عدالت کی کارروائی کی جائے ۔ چیف جسٹس نے غیر ضروری درخواست دائر کرنے پر درخواست گزار پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے قرار دیا کہ جرمانہ جمع کرانے کے بعد ہی کیس کی سماعت کی جائے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments